خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے…

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے رشتہ داری کے تعلقات

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 6 از 6

 البتہ جمہور علماء شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ اُمِ کُلثوم کا پہلا نکاح حضرت عمرؓ کے ساتھ ہوا تھا۔ اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ عون یا محمد کی ترتیب نکاح میں تقدیم و تاخیر کی وجہ سے حضرت عمرؓ کے نکاح میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس نکاح کو سب علماء شیعہ تسلیم کر چکے ہیں۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ شیعوں کی معتبر و مستند کتب میں سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ کی شہادت کے بعد، سیدہ اُمِ کُلثوم کلثوم سے عون بن جعفر کے نکاح کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ اگر عون بن جعفر، سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں ہی انتقال کر چکے ہوتے، تو ان کے نکاح کا تذکرہ کیوں کیا جاتا؟ معلوم ہوا کہ حضرت عون، فاروقِ اعظمؓ کی شہادت کے بعد بھی زندہ تھے۔ نہ صرف یہی بلکہ مشتاق شیعہ کے اپنے گھر کی کتابوں میں بھی مرقوم ہے کہ عون بن جعفر، حضرت حسینؓ کے ساتھ واقعۂ کربلا میں بھی شریک تھے اور اسی میں شہید ہوئے۔ ملاحظہ فرمائیں:

¹۔ شیعہ کی معتبر کتاب، تنقیح المقال فی علم الرجال ما مقانی جلد2 صفحہ 355

²۔ شیعہ کی معتبر کتاب، عمدۃ الطالب صفحہ 36 مطبوعہ نجف عراق

³-شیعہ کی معتبر کتاب، مجالس المؤمنین جلد1 صفحہ 195مطبوعہ ایران

 اس تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ مشتاق شیعہ کے اس اعتراض میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ عون بن جعفر حضرت عمرؓ کی زندگی ہی میں انتقال کرگئے تھے۔ ویسے بھی مشتاق کے یہ اعتراضات اُس کے اپنے من گھڑت ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس نے صرف عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے اس طرح کے بے سروپا اعتراضات کئے ہیں۔ یا یہ کہ وہ اپنے مذہبی و تاریخی کتب کے ہی ناواقف ہے۔ کیونکہ اس کے ان اعتراضات کی زد میں اس کے اپنے ہی مذہبی پیشواء آتے ہیں گویا کہ مشتاق نے اس نکاح کا انکار کرکے اپنے ہی علماء کو جھٹلایا ہے اور اس کہاوت کا مصداق ہوا ہے ۔

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

 مقام غور 

 اس باب سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوئی ہیں:

 ¹- سیدنا عمر فاروقؓ، رسول ﷺ کے سسر ہیں۔

 ²- رسولﷺ نے سیدہ حفصہؓ کے ساتھ شادی کرکے ان کے کامل الایمان ہونے اور نفاق وغیرہ سے پاک ہونے کی تصدیق فرمادی۔ اِس وجہ سے ان کو اُمّ المؤمنین ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

 ³-سیدنا علیؓ نے اپنی لختِ جگر، سیدنا عمر فاروقؓ کے نکاح میں دے کر ان کے سچے مؤمن اور کامِل الایمان ہونے اور نفاق سے پاک ہونے کے تصدیق کی ہے۔ اگر ان کو فاروقِ اعظمؓ کے ایمان میں ذرہ برابر بھی شک ہوتا تو اپنی لختِ جگر اُمِ کُلثوم بنتِ سیدہ فاطمہؓ کو آپؓ کے نکاح میں کبھی بھی نہ دیتے۔ کیونکہ اسلام میں کسی مؤمنہ عورت کا نکاح کسی کافر و مشرک یا منافق کے ساتھ کرنا جائز نہیں۔ قرآن پاک میں ہے:

وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُو(البقرۃ آیۃ 221) اور نکاح نہ کرو مشرکین سے جب تک وہ ایمان نہ لے آویں۔

( اور سیدنا علیؓ قرآنی حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے تھے)

⁴-مذکورہ روایات، سیّدنا محمد باقرؒ اور سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہیں۔ جو کہ صحیح و معتبر اور بے غبار ہیں۔ اس لئے ان میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔

⁵-سیدنا عمرؓ کا نکاح، سیدہ اُمِ کُلثومؓ کے ساتھ ہوا جو کہ سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے بطن مبارک سے تھیں۔

⁶- سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے بطن مبارک سے سیدنا ابوبکرؓ کی اُمِ کُلثوم نام کی کوئی بیٹی پیدا نہیں ہوئی، تو پھر یہ کہنا غلط ہوگا کہ اُمِ کُلثوم زوجہ عمرؓ حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی تھیں جو کہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے بطن سے پیدا ہوئیں حالانکہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ سے کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔

7-اُمِ کُلثوم بنت ابی بکرؓ جو کہ حبیبہ بنت خارجہ سے تھیں، سیدنا عمرؓ نے ان کے ساتھ نکاح کی خواہش کی تھی، لیکن یہ نکاح نہیں ہوا۔ اُمِ کُلثوم بنت ابی بکرؓ کا نکاح طلحہ بن عبداللہ کے ساتھ ہوا، جن سے دو بچے پیدا ہوئے۔

⁸-اُمِ کُلثوم بنتِ علی المرتضیٰؓ دو ہیں:

ایک اُمِ کُلثوم کبریٰ اور دوسری اُمِ کُلثوم صغریٰ۔ اُمِ کُلثوم کبریٰ سیدہ فاطمہؓ کے بطن مبارک سے ہیں۔ ان کا نکاح سیدنا عمر فاروقؓ کے ساتھ ہوا۔ یہ سیدنا حسنؓ کے دور میں ہی وفات پاچکی تھیں اور ان کی نمازِ جنازہ میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ شریک تھے۔

⁹-اُمِ کُلثوم صغریٰ کی والدہ اُمِ سعید بنت مسعود ثقفی ہیں۔ ان کا نکاح کثیر بن عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ ہوا۔ یہی وہ اُمِ کُلثوم صغریٰ ہیں، جن کا ذکر واقعۂ کربلا میں آتا ہے۔اور ان کے اشعار اور خطبے مشہور ہیں۔ بعض ضدی شیعوں کا کہنا ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ کو زبردستی نکاح میں لے لیا تھا۔ یہ ایک ایسی بیہودہ بات ہے، جس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی بات کوئی بےعلم ہی کرسکتا ہے۔ کوئی صاحبِ علم انسان ایسی بات ہرگز نہیں کہہ سکتا۔ سیدنا علیؓ کے متعلق ایسے نازیبا الفاظ استعمال کرنا، آپ کی شجاعت اور غیرت کے منافی ہے۔ کسی بھی کمزور و ضعیف انسان کے ساتھ اگر ایسا واقعہ پیش آئے تو وہ کسی بھی قیمت پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتا۔ بلکہ سَر دَھڑ کی بازی لگا کر بھی اپنی بیٹی کی عزت و عصمت پر جان قربان کر دیتا ہے۔ افسوس تو شیعوں کے رہنماؤں پر ہے جنہوں نے ایسی بیہودہ بات لکھ دی ہے۔انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہماری اس بات کی وجہ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی دختر اور پیغمبر ﷺ کی نواسی کی عزت پر کتنا بڑا داغ لگتا ہے۔کیا سیدنا علیؓ شیرِ خدا ہوتے ہوئے اپنی بیٹی اور پیغمبرﷺ کی نواسی کی عزت و ناموس کی حفاظت بھی نہ کرسکے؟ اور یہ سارا منظر خاموشی سے دیکھتے رہے؟ افسوس اور صد افسوس!

دراصل بات یہ ہے کہ اس رشتہ کو تسلیم کرنے سے شیعوں پر پہاڑ گرتا ہے اور ان کا مذہب بالکل ہی ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ شیعہ اگر یہ رشتہ مان لیں تو یہ ماننے پر بھی مجبور ہونگے کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ دونوں کی آپس میں محبت اور قرابت تھی۔ اس لئے وہ اِس حقیقت کا انکار کرتے ہیں۔

شیعوں کو چاہیئے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کو سچا مؤمن اور خلیفہ برحق تسلیم کریں، ورنہ انکار کی صورت میں سیدنا علیؓ کی غیرت، شجاعت،خلافت اور ایمان پر بھی حرف آتا ہے۔





صفحہ 6 از 6