خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے…

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے رشتہ داری کے تعلقات

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 5 از 6

اُخرجت جنازۃ ام کلثوم بنت علی وابنہا زید بن عمر و فی الجنازۃ الحسن و الحسین و عبداللہ بن عمرو عبداللہ بن عباس و ابو ہریرہ

 فوضعوا جنازۃ الغلام ممایلی الامام والمرأۃ ورائہ و قالوا ھٰذا ھو السنۃ۔

 پس معلوم شد کہ جناب ام کلثوم کبریٰ بنت فاطمہ در وقعۂ طف اصلاً در دنیا بنود و مستفاد از روایت مذکورہ آنکہ جناب ام کلثوم کبریٰ در مدینہ طیبہ از دنیا مفارقت و ظاہراً قبر شریفشان ھم در مدینہ طیبہ باشد۔

 اور یہ پردہ نشین (اُمِ کُلثوم بنتِ فاطمہؓ) واقعہ کربلا میں موجود نہیں تھیں۔ کتاب حجۃ السعادۃ میں معتبر سندوں سے حدیث منقول ہے کہ جناب اُمِ کُلثوم دختر امیر المؤمنین و فاطمۃ الزہراء علیہم السلام سے زید بن عمر اور رقیہ بنت عمرؓ پیدا ہوئے۔ اور اُمِ کُلثوم نے حضرت حسنؓ کی زندگی میں، ہی مدینہ طیبہ میں رحلت فرمائی اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ اسی دن ان کے بیٹے زید بن عمر بھی فوت ہوئے اگرچہ یہ معلوم نہیں کہ پہلے یا بعد میں کون فوت ہوا؟ کتاب حجۃ السعادۃ کے مصنف نے یہاں تک کہا ہے کہ اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ کا نام گرامی واقعہ کربلا میں ہر جگہ مذکور ہے اور خطبات و اشعار ان کی طرف منسوب ہیں۔ یہ اُمِ کُلثوم حضرت علیؓ کی کسی دوسری زوجہ مطہرہ سے تھیں۔ کیونکہ صحیح بات یہ ہے کہ امیرالمؤمنین کی زینب نام کی دو صاحبزادیاں تھیں اور اُمِ کُلثوم نام کی بھی دو صاحبزادیاں تھیں۔

زینب کبریٰ یہ عبداللہ بن جعفر کی زوجہ تھیں اور اُمِ کُلثوم کبریٰ یہ حضرت عمر بن خطابؓ کی زوجہ تھیں۔ یہ دونوں حضرت فاطمہؓ کے بطن اطہر سے تھیں۔ زینب صغریٰ اور اُمِ کُلثوم صغریٰ، حضرت علیؓ کی دوسری ازواج سے تھیں شیخ حر وسائلِ الشیعہ میں حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت کرتا ہے کہ جب اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ اور ان کے فرزند زید بن عمرؓ کا جنازہ نکالا گیا، تو جنازہ میں حضرت حسن، حسین، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم شریک تھے۔

ان بزرگوں نے زید بن عمر کا جنازہ امام کے قریب رکھا اور اس کے بعد عورت (اُمِ کُلثوم) کا جنازہ رکھا گیا اور کہا کہ یہی طریقہ سنت ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ اُمِ کُلثوم کبریٰ بنت فاطمہ واقعۂ کربلا کے وقت اس دنیا میں زندہ ہی نہیں تھیں۔ مذکورہ روایت سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اُم کلثوم کا وصال مدینہ طیبہ میں ہا ہے اور یہ بھی واضح طور پر معلوم ہوا کہ ان کی قبر مبارک بھی مدینہ میں ہے۔

منتخب التورایخ صفحہ 114 باب دوم مطبوعہ ایران دیکھیں عکس صفحہ304

 منتخب التواریخ کے سر ورق پر مصنف محمد ہاشم خراسانی شیعی (المتوفی 1352ھ) کا تعارف ان الفاظ سے کرایا گیا ہے: من تالیفات العالم العامل والثقۃ الجلیل الکامل رکن الاسلام والمسلمین۔

 نیز اس کتاب کے سر ورق پر یہ بھی مرقوم ہے کہ اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ شیعہ کے معتمد اصول اور معتبر تاریخ سے اخذ کیا گیا ہے اور خود مصنف کتاب محمد ہاشم خراسانی صاحب مذکورہ واقعہ نقل کرنے سے پہلے، ابتدا روایت میں واضح کرتے ہیں کہ یہ حدیث معتبر سند سے منقول ہے۔

صاحب ناسخ التواریخ کا بیٹا شیعہ مؤرخ میرزاعباس قلی خان سپہر لکھتا ہے:

واز ایں اخبار معلوم می شود کہ اُمّ کلثوم بنت علی علیہ السلام در یوم الطف و سفر شام باھل بیت خیر الانام ہمراہ بود ہ از بطن صدیقہ طاہرہ نیست، بلکہ ہماں ام کلثوم صغریٰ است کہ مادرش اُمّ سعید بنت عروہ بن مسعود الثقفی است وہم آن روایت آوردہ اندکہ بعد از ہلاکت عمر ام کلثوم را امیر المؤمنین علیہ السلام بسرائے خود آورد و دیگر اشارت نکردہ اند، مؤید ہمین است کہ در زمان امام حسن علیہ السلام وفات نمودہ۔ 

ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جو ام کلثوم بنت علی علیہ السلام کربلا اور شام کے سفر میں شریک تھیں وہ حضرت فاطمۃؓ کے بطن اطہر سے نہ تھیں۔ بلکہ یہ وہ اُمِ کُلثوم صغریٰ ہیں، جن کی والدہ اُمِ سعید بنت عروہ ہے اور ا س کے علاوہ روایات میں یہ بھی وارد ہے کہ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد، حضرت علیؓ اُمِ کُلثوم کو اپنے گھر لے آئے تھے۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت اُمِ کُلثوم کی وفات حضرت حسنؓ کے دور میں ہوچکی تھی۔

(طراز المذہب مظفری صفحہ 52،58 دیکھیں عکس صفحہ277،278)

لہٰذا عبدالکریم مشتاق شیعہ کا یہ کہنا کہ یہ بات کسی بھی صحیح تاریخی کتاب سے ثابت نہیں ہے۔ بلکل غلط ہے۔ کیونکہ ہم نے ثابت کردیا کہ یہ بات نہ صرف تاریخی کتابوں میں ہے بلکہ شیعہ کی مذہبی کتابوں میں بھی معتبر اسناد سے مروی ہے۔

 اعتراض سوم

 بعد از وفات عمرؓ حضرت عون سے بی بی اُمِ کُلثوم کا نکاح اس لئے ناقابل تسلیم ہے کہ جناب عون بن جعفر حضرت عمرؓ کی زندگی میں انتقال کرگئے۔ پس بعد از موت عمرؓ ، کیا عون کی روح سے شادی ہوئی؟

(افسانہ عقد اُمِ کُلثوم صفحہ 71 از مشتاق شیعہ)

 جواب

 یہ اعتراض بھی بلا دلیل و عبث ہے۔کیونکہ علماء شیعہ جب ان کے نکاح کا تذکرہ کرتے ہیں تو ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ کا پہلا نکاح حضرت عمرؓ سے ہوا۔ ان کی شہادت کے بعد عون بن جعفرؓ سے ہوا۔

(دیکھیں مناقب آل ابی طالب جلد3 صفحہ 304، منتہی الآمال جلد1 صفحہ186)

 بعض لکھتے ہیں کہ عون سے پہلے ان کے بھائی محمد بن جعفرؓ سے ان کا نکاح ہوا تھا۔ اور اس کے بعد حضرت عون بن جعفرؓ سے ہوا (دیکھیں نزل الابرار فی مناقب اہل بیت الاطہار صفحہ79 ، طراز المذہب مظفری جلد1 صفحہ 57 مطبوعہ بمبئی)

صفحہ 5 از 6