خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے…

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے رشتہ داری کے تعلقات

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 4 از 6

 قارئینِ کرام! آپ غور فرمائیے کہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ سے تینوں شوہروں سے اُم کُلثوم نام کی کوئی لڑکی تو کیا، بلکہ کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ تو پھر اُمِ کُلثومؓ کا اسماء بنتِ عمیسؓ سے سیدنا ابوبکرؓ کی دختر ہونا، کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ اس لئے عبدالکریم مشتاق شیعہ کو ایسی بے بنیاد اور جھوٹی بات کہنے سے کچھ تو شرم آنی چاہیئے۔ لیکن وہ بھی مجبور ہے کیونکہ شیعوں کو خوش رکھنے کی خاطر اُسے ایسے جھوٹ لکھنے پڑتے ہیں۔ شاید اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اہلِ علم سے میدان خالی ہے، اس لئے میرا جھوٹ بھی چل جائے گا۔ اور کوئی جواب نہیں دے گا یہ اُس کا خام خیالی ہے۔ ہاں البتّہ یہ الگ بات ہے کہ جب سیدنا علیؓ نے سیدہ اسماءؓ سے نکاح کیا تو اس وقت محمد بن ابی بکر صغیر تھے۔ سیدنا علیؓ ان کو ساتھ گھر لے آئے اور ان کی تربیت کی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت کتب شیعہ میں واضح طور پر موجود ہے۔ 

 (ناسخ التواریخ جلد4 صفحہ 118، عکس صفحہ 261)

 جواب سوم

 یہ الگ بات ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اُمِ کُلثومؓ نام کی ایک بیٹی بھی تھیں، جن کی والدہ حبیبہ بنتِ خارجہ تھیں۔ یہ بات شیعوں کی معتبر کتاب ناسخ التواریخ میں ہے، جن کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ حبیبہ بنت خارجہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی زوجہ تھیں، ان سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، جس کا نام اُمِ کُلثوم رکھا گیا۔سیدنا عمرؓ کی خواہش تھی کہ یہ اُمِ کُلثوم میرے نکاح میں آئے لیکن اُمِ کُلثوم کو جب معلوم ہوا تو انکار کر دیا کہ میں عمرؓ سے نکاح نہیں کروں گی۔ کیونکہ وہ طبعاً سخت ہیں۔ تو اس کے بعد سیدنا عمرو بن العاصؓ کے مشورہ سے سیدنا عمرؓ نے اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ سے نکاح کیا۔ باقی اُمِ کُلثوم بنت ابی بکرؓ سے طلحہ بن عبداللہ نے نکاح کیا۔ جس سے دو بچے پیدا ہوئے، دیکھئے:

¹-۔ ناسخ التواریخ جلد4 صفحہ221، اسامی صاحبات رسولﷺعکس صفحہ262-

ناسخ التواریخ جلد3 صفحہ 54،55،56ذکر شمائل عمر بن الخطابؓ عکس صفحہ255

²- عمدۃ الطالب صفحہ113، عب موسی الجون بن عبداللہ المحض طبع نجف

³-طراز المذہب مظفری صفحہ 58، مطبوعہ بمبئی انڈیا

 ان حوالہ جات سے بالکل واضح ہوگیا کہ جس اُمِ کُلثومؓ سے سیدنا فاروقؓ نے نکاح کیا تھا وہ بنت ابی بکرؓ اور بنت حبیبہ بنت خارجہ نہ تھیں بلکہ بنتِ سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور بنتِ سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ تھیں۔

اعتراض دوم

 دورِ حاضرہ میں افسانوی نکاح کے باراتی عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے اس خیال خام کا پرچار کر رہے ہیں کہ جو اُمِ کُلثوم امام حسین علیہ السلام کے ساتھ معرکہ کربلا میں موجود تھیں، وہ ام کلثوم صغریٰ تھیں، یہ علی المرتضیٰ کی کسی اور بیوی کے بطن سے تھیں۔ یہ بات قطعاً غیرمستند ہے اور کسی صحیح تاریخی حوالہ سے ثابت نہیں کی جاسکتی۔ 

(افسانہ اُمِ کُلثوم صفحہ76، عبدالکریم مشتاق)

جواب: عوام الناس کو دھوکہ و فریب دے کر گمراہ کرنا شیعوں کا شیوہ ہے، جسے عبدالکریم شیعہ بخوبی ادا کر رہا ہے۔ کوئی بھی شیعہ یہ بات ہرگز ثابت نہیں کرسکتا کہ جو اُمِ کُلثوم کربلا میں،سیدناحسینؓ کے ساتھ موجود تھیں، وہ سیدنا علیؓ کی دختر، سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے بطن اطہر سے تھیں۔

 دراصل بات یہ ہے (جس کو عبدالکریم شیعہ چھپانا چاہتا ہے) سیدنا علیؓ کی ام کلثوم نام سے دو بیٹیاں تھیں۔ جو اُمِ کُلثوم سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے تھیں، ان کا اصل نام زینب صغریٰ تھا۔ ان کو اُمِ کُلثوم کبریٰ کہتے ہیں۔ ان کا نکاح سیدنا عمر فاروقؓ سے ہوا یہ اُمِ کُلثوم کبریٰ واقعہ کربلا میں موجود نہیں تھیں۔ ان کا ذکر تاریخ کی ہر مستند کتاب میں مرقوم ہے، جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری اُمِ کُلثوم صغریٰ ہیں، ان کا اصل نام نفیسہ تھا دیکھیں:

(عمدۃ الطالب صفحہ 64)

(منتہی الآمال جلد 1صفحہ 187)

(مناقب اٰل ابی طالب جلد3صفحہ 305)

(انوار نعمانیہ جلد1 صفحہ 372)

ان کی والدہ اُمِ سعید بنت مسعود ثقفی ہیں جو کہ سیدنا علیؓ کی زوجہ تھیں۔ دیکھیں:

(مناقب اٰل ابی طالب جلد3، صفحہ 305)

(طراز المذہب مظفری جلد1 صفحہ 53)

اس اُم کُلثوم کا نکاح کثیر بن عباس بن عبدالمطلب سے ہوا۔ دیکھیں:

(منتہی الآمال، مناقب اٰل ابی طالب۔)

یہی وہ اُمِ کُلثوم صغریٰ ہیں جو کربلا میں شریک تھیں۔ دیکھیں:

(منتخب التواریخ صفحہ 114)

(طراز المذہب مظفری صفحہ 53)

حاصل مطلب یہ ہوا کہ سیدنا علیؓ کی دو بیٹیوں کے نام اُمِ کُلثوم تھے۔ ایک اُمِ کُلثوم کبریٰ جو کہ سیدہ فاطمہؓ کے بطن مبارک سے تھیں۔ جن کا نکاح سیدنا عمرفاروقؓ سے ہوا۔ ان کی وفات سیدنا حسنؓ کے زمانہ میں ہوئی اور واقعہ کربلا بعد میں رونما ہوا۔

دوسری اُمِ کُلثوم صغریٰ ہیں جو کہ اُمِ سعید بنت مسعود الثقفی کے بطن سے تھیں۔ یہ واقعۂِ کربلا تک زندہ رہیں اور اس میں شریک بھی تھیں۔ ان کا نکاح کثیر بن عباس بن عبدالمطلب سے ہوا اور اس اُمِ کُلثوم کے خطبات کتب شیعہ میں مشہور ہیں۔ لیکن آفریں ہے مشتاق شیعہ پر کہ اس نے کس طرح عوام الناس کو فریب دیکر کود اپنے ہی مؤرخین اور مذہبی کتب کی تکذیب کردی۔ اب ہم اسی کے ہم مذہب شیعہ مؤرخ رکن الاسلام محمد ہاشم خراسانی مشہدی (المتوفی 1352ھ) کے حوالہ سے اپنی اس بات کی تحقیق پیش کرتے ہیں:

و ایں مخدرہ در وقعہ طف حاضر بنود چنانچہ در ہمیں کتاب حجۃ السعادۃ می فرما ید نقلہ حدیث از طرق معتبرہ نقل نمودہ اند کہ جناب ام کلثوم دختر امیر المؤمنین و فاطمۃ الزہریٰ علیہم السلام والدۂ زید بن عمر و رقیہ بنت عمر در حیوٰۃ مجتبیٰؑ در مدینہ از دنیا رحلت فرمود۔ ورحلت او و فرزندش زید دریک روز اتفاق افتاد۔ و تقدم و تأخر موت احد ہما معلوم نہ شد، الیٰ ان قال و ام کلثوم بنت علی کہ نام شریفش در وقعۂ طف درھمہ جا مذکور می شود و خطب و اشعار باو منسوب می گردو۔

  ام کلثوم دیگر است از سایر زوجات امیر المؤمنینؑ چوں علی القول الصحیح امیر المؤمنین را از بنات دو زینب بود و دو ام کلثوم۔ زینب کبریٰ زوجۂ عبداللہ بن جعفر بود و ام کلثوم کبریٰ زوجہ عمر بن الخطاب بود، و ہر دو از صدیقہ طاہرہ بودند۔ و زینب الصغریٰ و ام کلثوم الصغریٰ از سایر امہات بوجود آمدند و شیخ حُر در وسائل الشیعہ از عمار بن یاسر روایت کردہ۔

صفحہ 4 از 6