خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے…

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے رشتہ داری کے تعلقات

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 3 از 6

(مکتبہ شیعہ شاملہ: بحار الأنوار - العلامة المجلسي (42/ 91، بترقيم الشاملة آليا)

بعض گمراہ کن شبہات کا ازالہ

 اعتراض اوّل

دشمنانِ صحابہؓ ضد اور عناد میں آکر یہ بھی کہتے ہیں کہ جس اُمِ کُلثومؓ کا نکاح سیدنا عمر بن خطابؓ سے ہوا ہے، وہ سیدنا ابوبکرؓ کی دختر ہیں جو کہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے بطن مبارک سے تھیں۔ چنانچہ عبدالکریم مشتاق شیعہ لکھتا ہے:

 حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد ان کی زوجہ اسماء بنت عمیسؓ کی ایک لڑکی سنہ 13ھ میں پیدا ہوئی۔ چونکہ اسماءؓ نے ابوبکرؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ سے شادی کرلی تھی لہٰذا اس بچی کو جس کا نام اُمِ کُلثوم تھا، لے کر وہ حضرت علیؓ کے گھر آگئیں۔ اسی لڑکی سے حضرت عمرؓ کا نکاح ہوا پس چونکہ یہ اُمِ کلثوم ربیبہ حضرت علیؓ تھیں، لہٰذا رواج عرب کے مطابق ان کو بنت علیؓ کہا گیا“ (افسانہ عقد ام کلثومؓ صفحہ 81،82 عبدالکریم مشتاق شیعہ)

 جواب اوّل

 عبدالکریم مشتاق کو جھوٹ بولنے اور غلط بات کرنے کی اتنی مہارت ہے جس سے شیطان بھی شرما جائے۔ بات کا اندازہ مذکورہ کتاب کے مطالعہ سے ہی ہو جاتا ہے۔ ایک حقیقت واقعہ کا اس طرح انکار کرنا، کسی شریف النفس انسان کا کام نہیں۔ کوئی بھی انصاف پسند اس نکاح کی حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا، جبکہ ہم نے پینتیس (35)عدد کتابوں کے حوالہ جات پیش کئے ہیں جو مذہب شیعہ کی معتبر کتابیں ہیں، جن میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ یہ اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ ہیں۔ سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ یہ اُمِ کُلثومؓ بنتِ ابی بکرؓ ہیں جو کہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے بطن سے تھیں، سفید جھوٹ اور بے بنیاد بات ہے۔ لَعْنَتُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔

یہ اُمِ کُلثومؓ سیدنا علیؓ کی دُختر ہیں

¹-شیعہ کی معتبر کتاب، الجعفریات مع قرب الاسناد صفحہ 109 باب النفقہ، مطبوعہ ایران

²- شیعہ کی معتبر کتاب، تہذیب الاحکام جلد9 صفحہ 362، باب میراث الغرقی مطبوعہ ایران

³- شیعہ کی معتبر کتاب، وسائل شیعہ جلد8 صفحہ 811، ابواب صلاۃ الجنائز، مطبوعہ بیروت

⁴-شیعہ کی معتبر کتاب، ناسِخ التواریخ جلد4صفحہ 118، اسامی اصحاب رسولِ خداﷺ طبع ایران

⁵-شیعہ کی معتبر کتاب، عمدۃ الطالب صفحہ63، عقب امیر المؤمنین مطبوعہ نجف عراق

⁶- شیعہ کی معتبر کتاب، منتخب التواریخ صفحہ 113، در حالاتِ اولاد مخدرہ۔ مطبوعہ ایران

⁷-شیعہ کی معتبر کتاب، اعلام الوریٰ صفحہ 204، ذکر اولاد امیر المؤمنین مطبوعہ ایران

⁸- شیعہ کی معتبر کتاب، طراز المذھب مظفری جلد1 صفحہ53، مطبوعہ بمبئی انڈیا

⁹-شیعہ کی معتبر کتاب، نزالابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ 78، مطبوعہ ایران

¹⁰- شیعہ کی معتبر کتاب، امام حسینؓ و یوم عاشورہ صفحہ49، مطبوعہ ایران

 اس نام کی تصریح مع ولدیت شیعوں کے نہ صرف علماء و مجتہدین نے کی ہے، بلکہ سیدنا باقرؒ اور سیدنا جعفر صادقؒ نے بھی کی ہے جو شیعوں کے عقیدہ میں معصوم اور خطا سے پاک ہیں اور جمیع الانبیاء علیہم السلام سے بھی افضل بتاتے ہیں۔

عن جعفر ، عن أبيه قال : ماتت ام كلثوم بنت علي وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة 

سیدنا جعفر صادقؒ اپنےوالد سیدنا محمد باقرؒ سے روایت کرتے ہیں کہ اُمِ کلثوم بنتِ علیؓ اور اُمِ کُلثوم کے فرزند زید بن عمر بن خطابؓ ایک ہی وقت میں فوت ہوئے۔

 قارئین کرام! اب بھی اگر کوئی شیعہ ضد و عناد کی وجہ سے کہے کہ میں نہ مانوں تو ہم اس کا کیا علاج کرسکتے ہیں، بجز اس کے کہ اس کو گدو بندر پاگلوں کے ہسپتال میں داخل کیا جائے۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مذکورہ روایت میں اُمِ کُلثومؓ کے ساتھ بنتِ علیؓ کی صراحت دو امام کر رہے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اُمِ کُلثومؓ بنتِ سیدنا علیؓ ہی سیدنا عمرؓ کی زوجہ تھیں نہ کہ اُمِ کُلثوم بنت ابی بکرؓ

یہ اُمِ کُلثومؓ سیدہ فاطمہؓ کے بطن مبارک سے ہیں

¹-شیعہ کی معتبر کتاب، منتخب التوریخ صفحہ113، درحالات و اولاد مخدرہ طبع ایران

²-شیعہ کی معتبر کتاب، عمدۃ الطالب صفحہ63، عقب امیر المؤمنین طبع نجف عراق

³-شیعہ کی معتبر کتاب، مناقب آل ابی طالب جلد3 صفحہ 304، فصل فی ازواجہ و اولادہ ایران

⁴- شیعہ کی معتبر کتاب، منتہی الآمال جلد1 صفحہ 186، فصل ششم در ذکر اولاد امیر المؤمنین ایران

⁵-شیعہ کی معتبر کتاب، اعلام الوریٰ صفحہ 204 اولاد امیر المؤمنین مطبوعہ ایران

⁶- شیعہ کی معتبر کتاب، لباب الانساب صفحہ373، اولاد امام امیر المؤمنین طبع ایران

⁷- شیعہ کی معتبر کتاب، نزل الابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ 78 ایران

⁸-شیعہ کی معتبر کتاب، طراز المذہب مظفری صفحہ57، مطبوعہ بمبئی انڈیا

 چیلنج

 شیعہ کی معتبر کتابوں سے، اماموں کے اقوال سے ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کی یہ بیوی سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی بیٹی ہیں۔ شیعوں کو تاقیامت میرا یہ چیلنج ہے کہ وہ کسی بھی معتبر و مستند کتاب سے، امام کے قول سے یہ ثابت کرکے دکھائیں کہ جس اُمِ کُلثوم سے سیدنا عمرؓ نے نکاح کیا تھا، وہ بنتِ ابی بکرو سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ تھیں؟ مگرنہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

 جوابِ دوم

اب دیکھنا یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سیدہ اسماءؓ سے کتنی اولاد پیدا ہوئی۔ کیا ان سے کوئی لڑکی بھی پیدا ہوئی تھی؟سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے نکاح کا مفصل بیان باب اول میں تیسرے رشتہ کے تحت گذر چکا کہ سیدہ اسماءؓ کا نکاح سیدنا جعفر بن ابی طالب سے ہوا جن سے عبداللہ، محمد اور عون فرزند پیدا ہوئے۔ سیدنا جعفر طیارؓ کی شہادت کے بعد سیدہ اسماءؓ کا نکاح سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ہوا۔ جن سے محمد بن ابی بکرؓ فرزند پیدا ہوئے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد، سیدہ اسماءؓ کا نکاح سیدنا علیؓ سے ہوا۔ جن سے یحییٰ اور عون پیدا ہوئے۔

صفحہ 3 از 6