خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے…

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے رشتہ داری کے تعلقات

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 2 از 6

³⁰- شیعہ کی معتبر کتاب، امام حسین ویوم عاشورا صفحہ49مطبوعہ دارالتوحید ایران

³¹ شیعہ کی معتبر کتاب، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدی جلد3 صفحہ124 تزویج عمر بام کلثوم بیروت

³²- شیعہ کی معتبر کتاب، فصل الخطاب کرمانی صفحہ 797 کتاب النکاح و ماتیعلق بہ طبع بیروت

³³- شیعہ کی معتبر کتاب، کتاب الاشافی صفحہ 114مع تحلیص الشافی مطبوعہ ایران

³⁴-شیعہ کی معتبر کتاب، صافی شرح اصول کافی جلد3 صفحہ 282باب شصت و یکم مطبوعہ ایران

³⁵-شیعہ کی معتبر کتاب، تہذیب المتین فی تاریخ امیر المؤمنین صفحہ287

  محترم قارئین!

شیعوں کی پینتیس (35) معتبر کتب سے ہم مختصراً چند کتابوں کی عبارتیں بھی پیش کرتے ہیں تاکہ ناظرین کو اطمینانِ قلبی میسّر ہو جائے ملاحظہ فرمائیں:

عن سليمان بن خالد قال: سألت أباعبدالله عليه السلام عن امرأة توفى زوجها أين تعتد، في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بلى حيث شاءت، ثم قال: إن عليا عليه السلام لما مات عمر أتى ام كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته. 

سلیمان بن خالد روایت کرتا ہے کہ میں نے جعفر صادق علیہ السلام سے ایک عورت کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا، جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو کہ وہ عورت عدت کہاں گذارے؟ اپنے شوہر کے گھر میں یا جہاں چاہے؟ تو امامؒ نے فرمایا کہ جہاں چاہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جب حضرت عمرؓ شہید ہوئے تو حضرت علیؓ ام کلثومؓ کے پاس آئے اور ان کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ساتھ (عدت گذارنے کیلئے) اپنے گھر لے آئے۔

¹-فروع کافی جلد6 صفحہ 115 کتاب الطلاق مطبوعہ ایران دیکھیں عکس صفحہ170

²-الاستبصار جلد3 صفحہ 352 باب المتوفی عنہا زوجہا عکس صفحہ186

³- تہذیب الاحکام جلد8 صفحہ 161فی عدد النساء عکس صفحہ191

أخبرنا عبد الله أخبرنا محمد حدثني موسى قال حدثنا أبي عن أبيه عن جده جعفر بن محمد عن أبيه عن جده أن عليا ع نقل ابنته أم كلثوم في عدتها حيث مات زوجها عمر بن الخطاب لأنها كانت في دار الإمارة (بحذف اسناد)

حضرت جعفر صادقؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ اپنی دختر حضرت ام کلثومؓ کو عدت گذارنے کے لئے اپنے گھر لے آئے، جبکہ ان کے شوہر حضرت عمر بن خطابؓ فوت ہوئے۔ کیونکہ اس وقت وہ دارالخلافہ میں تھیں۔

(الجعفریات مع قرب الاسنادصفحہ109 باب النفقہ علی الحامل المتوفی عنہا زوجہا۔ عکس صفحہ203)

(مکتبہ شیعہ شاملہ۔ الجعفريات (الأشعثيات)صفحہ 113)

عن جعفر ، عن أبيه ( عليهما السلام )،قال:ماتت ام كلثوم بنت علي (عليه السلام) وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة 

حضرت جعفر صادقؒ اپنے والد محمد باقرؒ سے روایت کرتے ہیں کہ ام کلثوم ؒ حضرت علیؓ کی دختر اور ان کا بیٹا زید بن عمر بن خطاب ایک ہی وقت فوت ہوئے۔

(ملاحظہ فرمائیں تہذیب الاحکام جلد9صفحہ 362، باب میراث الغرقی عکس صفحہ194)

(مکتبہ شیعہ شاملہ۔ وسائل الشيعة 11)

عن عمار بن ياسر قال:أخرجت جنازة أم كلثوم بنت علي وابنها زيد بن عمر ، وفي الجنازة الحسن والحسين وعبدالله بن عمر وعبدالله بن عباس وأبو هريرة ، فوضعوا جنازة الغلام مما يلي الإمام والمرأة ورائه ، وقالوا :هذا هو السنة۔

 (شیخ حُر) حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ام کلثوم بن علیؓ اور ان کے لڑکے زید بن عمرؓ کا جنازہ اٹھا گیا اور نماز جنازہ میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رضی اللہ عنہم) شریک تھے انہوں نے لڑکے (زید بن عمرؒ) کا جنازہ امام کے قریب اور عورت(ام کلثوم)کا جنازہ اس کے بعد رکھا۔ اور فرمایا کہ یہی طریقہ سنت ہے۔

(دیکھیں وسائل الشیعہ جلد1 صفحہ 811 ابواب صلوٰۃ الجنائز، مطبوعہ بیروت عکس صفحہ232)

(مکتبہ شیعہ شاملہ۔ وسائل الشيعة (69/ 7)

ام کلثوم دختر علی علیہ السلام بعد از قتل عمر بن الخطاب بحبالہ نکاح محمد بن جعفر در آمد۔

 ام کلثوم بنت علیؓ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد حضرت محمد بن جعفرؓ کے نکاح میں آئیں۔

(ملاحظہ فرمائیں ناسخ التواریخ جلد4 صفحہ118، اسامی اصحاب رسول ﷺ عکس صفحہ262)

وأما ام كلثوم فهي التي تزوجها عمر بن الخطاب، وقال أصحابنا: أنه عليه السلام إنما زوجها منه بعد مدافعة كثيرة وامتناع شديد واعتلال عليه بشئ بعد شئ، حتى ألجأته الضرورة إلى أن رد أمرها إلى العباس بن عبد المطلب، فزوجها إياه۔

 اور ام کلثوم وہ ہیں جن سے حضرت عمر بن خطابؓ نے شادی کی۔ ہمارے شیعہ علماء کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ان کا نکاح بہت ٹال مٹول اور سخت انکار اور کافی لیت ولعل کے بعد کیا، حتٰی کہ حضرت علیؓ بہت مجبور ہوئے تو انہوں نے یہ معاملہ حضرت عباسؓ کے سپرد کردیا تو حضرت عباسؓ نے ام کلثوم کا نکاح حضرت عمرؓ سے کردیا۔

  • ( اعلام الوریٰ باعلام الھدیٰ صفحہ 204۔ اولاد امیر المؤمنین طبع ایران عکس صفحہ230)
  •  (مکتبہ شیعہ شاملہ: بحار الأنوار - العلامة المجلسي (42/ 93، بترقيم الشاملة آليا)

واما جناب اُمّ کلثوم بنت فاطمہ این محذرہ اسم شریفش رقیّۃ الکبریٰ بود۔ چنانچہ در عمدۃ الطالب است داو نیز خیلی جَلالت قدر داشت و زوجۂ عمر بن خطاب بود۔

 جناب اُمّ کلثوم بنت فاطمہؓ ان پردہ نشین کا اصل نام رقیۃ الکبریٰ تھا، جیسا کہ کتاب عمدۃ الطالب میں مذکور ہے۔ یہ بڑی شان والی اور بزرگ خاتون تھیں اور عمر بن خطابؓ کی زوجہ تھیں۔

(منتخب التواریخ صفحہ 113در حالات اولاد مخدرہ۔ طبع ایران عکس صفحہ303)

ام کلثوم من فاطمۃ واسمھا رقیۃ خرجت الیٰ عمر بن الخطاب فاولدھا زیدا ۔

حضرت امّ کلثوم جو حضرت فاطمہؓ کے بطن مبارک سے تھیں، یہ حضرت عمر بن خطابؓ کے نکاح میں آئیں، جن سے زید پیدا ہوئے۔

(عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب صفحہ63 عقب امیر المؤمنین عکس صفحہ331)

  • •ابن شہر آشوب (المتوفی 588ھ) اور شیخ عباس قمی (المتوفی 1359ھ) لکھتے ہیں:

فولد من فاطمة عليها السلام الحسن و الحسين والمحسن سقط وزينب الكبرى وام كلثوم الكبرى تزوجها عمر

 حضرت فاطمہ علیہا السلام سے حسنؓ، حسینؓ، محسنؓ، زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ پیدا ہوئے۔ اس (ام کلثوم) سے حضرت عمرؓ نے شادی کی۔

¹-مناقب آل ابی طالب جلد 3صفحہ 304 فصل ازواجہ و الادہ، دیکھیں عکس صفحہ323

²-منتہی الآمال جلد1 صفحہ 186 فصل ششم در ذکر اولاد امیر المؤمنین عکس 356

صفحہ 2 از 6