خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ…

خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3
حضور اکرمﷺ نے آپؓ کی شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی تھی۔ چنانچہ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ: نبی کریمﷺ اُحد پہاڑ پر چڑھے اس وقت آپؓ کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ تھے اُحد پہاڑ کانپنے لگا تو حضورﷺ نے فرمایا: اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں۔
(صحیح بخاری: کتاب فضائل الصحابہ، حدیث:3697) 
اور آپﷺ نے اپنے آخری وقت میں سیدنا عثمانِ غنیؓ کو آنے والی مصیبت پر صبر کرنے کی وصیت بھی فرمائی تھی۔ چنانچہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ: حضور اکرمﷺ نے اپنے مرضِ وصال میں فر مایا کہ: میری خواہش ہے کہ میرے پاس میرا کوئی صحابی ہو۔تو ہم نے عر ض کیا کہ: یارسول اللہﷺ کیا سیدنا ابوبکرؓ کو بلائیں؟ تو حضورﷺ خاموش رہے پھر ہم نے عرض کیا کہ: کیا سیدنا عمرؓ کو بلائیں؟ پھر بھی حضورﷺ خاموش رہے۔ پھر میں نے عرض کیا: سیدنا عثمانؓ کو بلائیں؟ تو حضورﷺ نے کہا کہ: ہاں پھر سیدنا عثمانؓ آئے تو نبی کریمﷺ نے ان سے گفتگو فرمائی تو سیدنا عثمانؓ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔سیدنا ابوسہلہؓ کہتے ہیں کہ: فتنہ کے دنوں میں سیدنا عثمانِ غنیؓ نے ارشاد فرمایا کہ: حضورﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا تو میں اس عہد پر صابر ہوں۔
(ابن ماجہ: حدیث، 113)
نیز حضورﷺ نے خود فتنہ کے دنوں میں آپؓ کے حق اور ہدایت پر ہونے کی خبر پہلے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دے دی تھی سیدنا مرہ بن کعبؓ کا بیان ہے کہ: نبی کریمﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ قریب ہی ہے اتنے میں ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے گزرا تو حضورﷺ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فر مایا کہ: یہ شخص اُس دِن حق پر ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اس شخص کی طرف گیا تو وہ سیدنا عثمانؓ تھے۔ میں نے حضورﷺ سے عر ض کیا کہ: یارسول اللہﷺ یہ حق پر ہوں گے؟ تو حضورﷺ نے فرمایا کہ: ہاں، یہ۔
(تر مذی: حدیث، 3704)
ذی الحجہ، سن 35 ہجری کو جمعہ کا دن تھا سیدنا عثمانِ غنیؓ نے رات کو خواب میں رسول اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ فرما رہے ہیں کہ: اےعثمانؓ! ہمارے پاس آ کر افطار کرو۔ صبح کو سیدنا عثمانؓ نے روزہ رکھا اور اُسی دن عصر کے بعد جب آپؓ قرآنِ شریف کی تلاوت میں مصروف تھے ظالموں نے آپؓ کو شہید کر دیا اور آپ کے خون کا پہلا قطرہ سورة بقرہ کی اس آیت پر گرا فَسَيَكۡفِيڪَهُمُ ٱللَّهُ‌ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ۞
(سورة البقرہ: آیت، 137)
ترجمہ: تو عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔
(المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابہ: حدیث، 4554، 4555)

صفحہ 3 از 3