خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ…

خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3
اپنے دورِ خلافت میں بہت سے اجتہاد فرمائے جن سے آپؓ کی شانِ فقاہت معلوم ہوتی ہے۔ چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
جمع قرآن: 
جب آپؓ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر روم و ایران کے دور دراز علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ قرآنِ مجید سات لغتوں پر نازل ہوا تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سات لغات پر تلاوت فرماتے تھے۔ قراءتوں کا یہ اختلاف دور دراز کے علاقوں میں بھی پھیل گیا جب تک لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ قرآن کا نزول سات لغات پر ہوا ہے اس وقت تک اختلاف سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن جب یہ اختلاف ان دور دراز کے مملک میں پہنچا جن میں یہ بات پوری طرح سے مشہور نہیں ہوئی تھی کہ قرآن سات لغات پر نازل ہوا ہے تو اس وقت جھگڑے پیدا ہونے لگے۔ بعض لوگ اپنی قراءت کو صحیح اور دوسری کو غلط کہنے لگے تو اس وقت سیدنا عثمانؓ نے امت کو لغتِ قریش پر جمع فرمایا۔ یہ آپؓ کی اجتہادی شان کا عظیم کارنامہ ہے۔
 ترکِ قراءت خلف الامام:
مشہور مسئلہ ہے کہ امام کے پیچھے قراءت کی جائے یا نہ؟ اس بارے میں احادیث و آثار کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ ترک قراءات کے متعلق آیت قرآنی وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا الایۃ اور احادیث مبارکہ کے پیش نظر سیدنا عثمانؓ نے ترکِ قراءت کو ہی راجح قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمرؓ کے اقوال کے ساتھ آپؓ کے قول کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ مثلاً
عن موسی بن عقبۃ ان رسول اللہﷺ وابابکرؓ و عمرؓ وعثمانؓ کانوا ینہون عن القراءۃ خلف الامام
(مصنف عبد الرزاق: جلد، 2 صفحہ، 90، 91 حدیث: 754)
عن زید بن اسلم قال کان عشرۃ من اصحاب رسول اللہﷺ ینہون عن القراءۃ خلف الامام اشد النہی ابوبکر الصدیقؓ وعمر الفاروقؓ وعثمان بن عفانؓ
(عمدۃ القاری: جلد، 4 صفحہ، 449 باب وجوب القراءۃ للامام والماموم)
ترجمہ: یعنی حضورﷺ کے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے تھے جو سختی سے امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرماتے تھے۔ان میں سے سیدنا ابوبکرؓ ،سیدنا عمرؓ، اور سیدنا عثمانؓ بھی تھے۔
جمعہ کی اذانِ ثانی
آنحضرتﷺ، سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے دور میں جمعہ کے لیے ایک اذان دی جاتی تھی۔ جب سیدنا عثمانؓ کا دورِ خلافت آیا اور مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تو آپؓ کے حکم سے اذانِ ثانی شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے۔ سیدنا سائب بن یزیدؓ اس اذان کے متعلق فرماتے ہیں: فثبت الامر علی ذالک۔
(صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 125 کتاب الجمعۃ باب التأذین عند الخطبۃ)
ترجمہ: یعنی اذان کا یہ طریقہ مستقل طور پر رائج ہوگیا۔
دیت کی ادائیگی میں مال دینا:
آنحضرتﷺ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے عہد سے دیت میں اونٹ لینے کا طریقہ چلا آ رہا تھا۔ آپؓ نے دیت میں ان کی قیمت دینی بھی جائز قرار دی کیونکہ یہاں اونٹوں میں سوائے مال کے اور کوئی جہت نہیں پائی جاتی۔ قاضی القضاۃ امام ابو یوسفؒ نے بھی اپنے دور میں یہی فتویٰ دیا۔
 امت کے متعلق آپؓ کا نقطہ نظر:
آپؓ کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن و سنت کے نام پر آزاد نہیں رہنا چاہیئے بلکہ اپنے اسلاف کی پیروی کرنی چاہیئے۔ اسی وجہ سے جب آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے آپؓ سے عہد لیا کہ آپؓ شیخین کریمینؓ کی سیرت پر چلیں گے۔ آپؓ نے اس کو قبول کر لیا۔ آپؓ مجتہد ہونے کے باوجود سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی پیروی کرتے تھے مثلاً سیدنا عمرؓ کے دور مبارک میں پورا مہینہ بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھی، آپؓ نے انہی کی اتباع میں اسی پر دوام فرمایا۔
عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطابؓ فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ قال و کانوا یقرءون بالمئین وکانوا یتوکئون علی عصیھم فی عہد عثمان بن عفانؓ من شدۃ القیام۔
(سنن الکبری للبیہقی: جلد، 2 صفحہ، 496 باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان)
ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے اور سیدنا عثمانؓ کے زمانہ میں لمبے قیام کی وجہ سے سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے۔
آپؓ کا فرمان یہ تھا کہ مسلمانوں کو جب بھی عروج ملا ہے وہ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے سے ملا ہے آپؓ کا فرمان ہے:
إنما بلغتم ما بلغتم بالاقتداء والاتباع فلا تلفتنكم الدنيا عن أمركم
(تاریخ طبری: جلد، 5 صفحہ، 45)
ترجمہ: تم جس مقام پر پہنچے ہو وہ پہلوں کی تقلید سے پہنچے ہو خیال کرنا دنیا کہیں تمہیں حکم الہٰی سے دوسری طرف نہ پھیر دے۔
خلافت:
سیدنا عمرؓ نے اپنے آخری وقت میں ایک کمیٹی بنائی جس میں سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ، سیدنا طلحہ بن عبداللہؓ اور سیدنا زبیر بن عوامؓ کو شامل کیا اور ارشاد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب حضورﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تو ان سے راضی اور خوش تھے اس لئے یہ لوگ جن کو خلیفہ بنا دے وہی مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ کے بعد اس کمیٹی کے اتفاق سے سیدنا عثمانِ غنیؓ 1 محرم الحرام ، سن 24 ہجری میں حضورﷺ کے تیسرے خلیفہ کے طور پر نامزد کئے گئے اور لوگوں نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کیا۔
(اسد الغابہ: جلد، 2 صفحہ، 253)
آپؓ نے کل بارہ سال تک خلافت کی ذمہ داری نبھائی جس میں چھ سال تو نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ گزرا اور مسلمانوں کی بڑی ترقی ہوئی مگر آخر کا چھ سال حضورﷺ کی خبر کے مطابق کہ اے عثمانؓ اللہ تعالیٰ تمہیں خلافت کی قمیص پہنائے گا جسے منافقین اتارنا چاہیں گے مگر تم نہ اتارنا۔
(ترمذی: حدیث، 3705 ابنِ ماجہ: حدیث، 112)
عبداللہ ابنِ سباء یہودی جو شیعہ مذہب کا بانی تھا اس نے آپؓ کو خلافت سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا اور پھر آپؓ کے خلاف فتنہ وفساد کی آگ بھڑکانا شروع کیا مگر آخر وقت تک آپؓ حضورﷺ کی نصیحت پر جمے رہے اور صبر کرتے رہے یہاں تک ظالموں نے آپ کو شہید کردیا۔
شہادت:
صفحہ 2 از 3