وکیل صحابہ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ -…

وکیل صحابہ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ

  قاری محمد اکرام

صفحہ 2 از 3

آپؒ نے زندگی میں متفرق اوقات میں 10 سال جیل میں گذارے اور درجنوں اضلاع میں کئی کئی ماہ تک ہر حکومت میں داخلہ پابندی رہی۔ایک واقعہ جناب انجم نیازی اپنی کتاب ’’ایک تنہا آدمی‘‘ (خود نوشت) میں لکھتے ہیں:’’ایک دن میں ایس ڈی ایم صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ پولیس والوں کے چہرے اترے ہوئے تھے اور گھبراہٹ میں ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ بار بار ایس ڈی ایم کے پاس آتے اور واپس چلے جاتے۔ پتہ چلا کہ چکوال میں ’’آل پاکستان احمدیہ کانفرنس‘‘ کا انعقاد ہونا ہے۔ اس کے لئے ساری انتظامی مشینری مصیبت میں پڑی ہوئی ہے۔ ان دنوں ایم ایم احمد، ایوب خان کا دست راست تھا اور اس کی وجہ سے مرزائی پورے عروج پر تھے۔ حکومت اور اس کی ساری مشینری ان کے اشارے پر چلتی تھی۔ میں نے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ قاضی مظہر حسین نے الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ یہ جلسہ اس کی لاش پر ہو گا۔ میں نے کہا کیا ایک مولوی کے خوف سے اس قدر سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے؟ مولوی کے لئے تو ایک اے ایس آئی ہی کافی ہوتا ہے۔ جواب ملا وہ ایسا مولوی نہیں ہے جس کے لئے ایک اے ایس آئی کافی ہو۔ اس کے لئے تو پاکستان بھر کی ساری انتظامی قوت بھی ناکافی ہے۔ اول تو وہ کوئی فیصلہ بلا سوچے سمجھے جلدی میں کرتا ہی نہیں۔ جب فیصلہ کر لے تو پھر کسی قیمت پر بدلتا نہیں۔ خوف اور لالچ کے الفاظ اس کے لغت میں ہیں ہی نہیں۔ وہ کئی بار آزمایا جا چکا ہے۔ ایک گولی کے لئے نہیں، کئی گولیاں کھانے کے لیے میدان میں آئے گا۔ اس کی پیش قدمی فوجی ٹینک بھی نہیں روک سکتے۔ ٹینک اسے کچل سکتے ہیں، اس کو روک نہیں سکتے۔ میں حیران تھا کہ چکوال میں ایسی شخصیت موجود ہے۔ جس سے ساری حکومتی مشینری خوف زدہ ہے۔کانفرنس کا دن آنا تھا، آ گیا۔ قادیانیوں نے لائوڈ سپیکر پر اپنی تقریریں شروع کر دیں۔ ان کی عبادت گاہ کو چاروں طرف سے پولیس نے گھیر رکھا تھا۔ مگر وہ چند منٹ ہی تقریریں کر سکے۔ اس کے بعد لائوڈ سپیکر کی آواز بند ہو گئی۔ قادیانی صحن سے بھاگ کر عبادت گاہ کے کمرے کے اندر خوف سے ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر ہو گئے۔ پتہ چلا کہ جس مولوی کا خطرہ تھا، وہ مولوی آ پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نوجوان تھے جو گولیوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ پہلے تو پولیس نے اپنا دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ رائفلیں لوڈ کر لی گئیں۔ سپاہیوں نے گولی چلانے کی پوزیشن سنبھال لی۔ ڈی ایس پی نے ایک لکیر کھینچی اور کہا کہ جو اس لکیر سے آگے آئے گا، ہم گولی چلا دیں گے۔ اس لائن کو سب سے پہلے کراس کرنے والا وہی مولوی تھا جس نے الٹی میٹم دے رکھا تھا۔بہادری اور شجاعت بھی اپنے اندر کمال کا حسن رکھتی ہیں، بشرطیکہ یہ صداقت کے لئے ہو۔ اب ڈی ایس پی کی ساری شوخی ، رعب اور دبدبہ کی مصنوعی عمارت زمین بوس ہو گئی۔ اس کو نوکری خطرے میں گھری ہوئی محسوس ہونے لگی یا اس کے اندر ایمان کی کسی کرن نے کروٹ لی۔ اس نے قاضی مظہر حسین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور کہا کہ آپ ہمارے حال پر مہربانی کریں۔ کوئی ایسا حل بتائیں جس پر ہم عمل کر سکی عقائد اہلسنت قاضی مظہر حسین رحمہ اللہ نے کہا: لائوڈ سپیکر اتار لو جو کچھ انہوں نے کہنا ہے، بند کمرے میں کہتے رہیں۔ ہم جھوٹے نبی کی کھلے عام تبلیغ برداشت نہیں کر سکتے۔

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کی جدوجہد دین کے ہر شعبے میں تھی لیکن دو باتوں کو ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی اور ان کی تگ و دو کا اکثر و بیشتر حصہ انہی دو امور کے گرد گھومتا تھا۔ ایک اہل سنت کے مذہب و عقائد کی ترویج اور دوسرا علماء دیوبند کے مسلک کا تحفظ۔ ان دو حوالوں سے وہ کسی مصلحت یا لچک کے روادار نہیں تھے اور کسی کو رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ ان کے نزدیک عقائد اور ان کی تعبیرات کے باب میں اکابر علماء دیوبند کی تصریحات ہی فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھتی تھیں۔ کسی بھی حلقہ یا شخصیت کی طرف سے اس سے ہٹ کر کوئی بات سامنے آتی تو کسی جھجھک کے بغیر اس کی تردید کر دیتے اور اس معاملہ میں ان کے ہاں کوئی ترجیحات یا پروٹوکول نہیں تھا۔

آپؒ نے چکوال میں 14 جولائی 1960ء کو جامعہ اہلسنت تعلیم النساء قائم کیا جس میںہزاروں بچیاں حفظ وناظرہ اور سینکڑوں طالبات شعبہ فاضلات سے سند فراغت حاصل کر چکی ہیں۔ جامعہ عربیہ اظہار الاسلام کے تحت درجنوں بیرونی شاخیں قائم ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں بچے قرآن و حدیث، تفسیر اور دُوسرے دینی علوم و فنون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔قائد اہلسنت قاضی مظہر حسین صاحب نے 1958 میں مدنی مسجد کی خطابت شروع کی اور قریباً 45سال سے زائد عرصہ تک مسلسل درس قرآن دیا۔ اور یہاں سے ہی پورے ملک میں مولانا قاضی مظہر حسین نے اہلسنت و الجماعت کے عقیدے کی ترجمانی کی۔ جامع مدنی مسجد چکوال تحریک خدام اہل سنت والجماعت پاکستان اور جامعہ عربیہ اظہار الاسلام چکوال کا مرکز بھی ہے

صفحہ 2 از 3