سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 9 از 9
ترجمہ: راوی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا حضورﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی تلواروں کے ساتھ حضور اکرمﷺ کو سایہ کیے ہوئے تھے میں نے کہا کہ تم میں محمد کون ہے؟ حضورﷺ نے اپنی ذات کی طرف اشارہ کیا میں نے خط حضورﷺ کے حوالے کر دیا حضور اکرمﷺ نے یہ خط اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو دے دیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ ہیں پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے وہ خط حضور اکرمﷺ کو پڑھ کر سنایا۔
37: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی سخاوت 
حَدَّثَنَاهُ الدُّورِی قَالَ: ثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ الْمُؤَدِّبُ قَالَ: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ ‌أَسْوَدَ مِنْ مُعَاوِيَة قَالَ: قُلْتُ: هُوَ كَانَ ‌أَسْوَدَ مِنْ أَبِی بَكْرٍ؟ قَالَ: هُوَ وَاللهِ أَخْيَرُ مِنْهُ، وَهُوَ وَاللهِ كَانَ ‌أَسْوَدَ مِنْ أَبِی بَكْرٍ "قَالَ: قُلْتُ: فَهُوَ كَانَ ‌أَسْوَدَ مِنْ عُمَرَ؟ قَالَ: عُمَرُ وَاللهِ كَانَ أَخْيَرَ مِنْهُ، وَهُوَ وَاللهِ ‌أَسْوَدُ مِنْ عُمَرَ" قَالَ: قُلْتُ: هُوَ كَانَ ‌أَسْوَدَ مِنْ عُثْمَانَ؟ قَالَ: وَاللهِ إِنْ كَانَ عُثْمَانُ لَسَيِّدًا، وَهُوَ كَانَ ‌أَسْوَدَ مِنْهُ" قَالَ الدُّورِی: قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: مَعْنَى أَسْوَدًا أَی أَسْخَى سندہ صحیح 
(السنة لأبی بكر بن الخلال: جلد، 2 صفحہ، 141)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ارشاد فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ سے زیادہ سخی کوئی نہیں دیکھا۔ حضرت نافعؓ نے ان سے پوچھا کیا سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے بھی زیادہ سخی تھے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا اگرچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بہت زیادہ بہتر تھے لیکن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ سخی تھے۔ پھر راوی نے پوچھا کہ کیا سیدنا عمرؓ سے زیادہ سخی تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا اگرچہ سیدنا عمرؓ کا مقام سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ بلند تھا لیکن سخاوت میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا عمرؓ سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ پھر راوی نے پوچھا کہ کیا سیدنا عثمانؓ سے بھی زیادہ سخی تھے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا بے شک سیدنا عثمانؓ سردار تھے لیکن سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا عثمانؓ سے بھی زیادہ سخی تھے۔ 
38: سیدنا ابوالدرداءؓ کے نزدیک سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مقام 
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، نا عَبْدُاللهِ بْنُ صَالِحٍ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِی الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه، قَالَ: لَا مَدِينَةَ بَعْدَ عُثْمَانَ، وَلَا ‌رَخَاءَ بَعْدَ مُعَاوِيَةَ رضی الله عنهما۔
(الآحاد والمثانی لابن أبی عاصم: جلد، 1 صفحہ، 382)
ترجمہ: سیدنا عثمانؓ کے بعد مدینہ نہ رہا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بعد کشادگی نہ رہی۔
39: سیدنا امیرِ معاویہؓ کے تمام ساتھی جنتی ہیں سیدنا علیؓ کی شہادت
 عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِی، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَأَلَ عَلِی عَنْ قَتْلَى، يَوْمِ صِفِّينَ ، فَقَالَ: ‌قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ فِی الْجَنَّةِ، وَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَی وَإِلَى مُعَاوِيَةَ
(مصنف ابن أبی شيبة: جلد، 7 صفحہ، 552 ت الحوت)
ترجمہ: سیدنا علیؓ ارشاد فرماتے ہیں ہمارے اور سیدنا معاویہؓ کے شہداء جنت میں ہیں باقی میرا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔
40: سیدنا امیرِ معاویہؓ کے جسم کو لگنے والی مٹی حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سے ہزار درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ شَهْرَيَارَ الْبَلْخِی قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِی بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ الْوَهَّابِ الْوَرَّاقُ قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، بِمَرْوَ قَالَ لِابْنِ الْمُبَارَكِ: مُعَاوِيَةُ خَيْرٌ أَوْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: ‌تُرَابٌ ‌دَخَلَ فِی أَنْفِ مُعَاوِيَةَ رحمه الله مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم خَيْرٌ أَوْ أَفْضَلُ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
(الشريعة للآجری: جلد، 5 صفحہ، 2466)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مبارکؒ سے پوچھا گیا سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مقام زیادہ ہے یا سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ کا؟ سیدنا عبداللہ بن مبارکؒ نے جواب دیا: سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ناک میں مٹی جو حضورﷺ کی معیت میں پڑی وہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ سے کئی درجہ افضل ہے۔
 فللہ الحمد

صفحہ 9 از 9