سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 7 از 9
وَعَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم ‌أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَمِيرِكُمْ هَذَا- يَعْنِی مُعَاوِيَةَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِی، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَذْحِجِی، وَهُوَ ثِقَةٌ
(مجمع الزوائد و منبع الفوائد: جلد، 9 صفحہ، 357)
ترجمہ: حضرت ابو الدرداءؓ ارشاد فرماتے ہیں میں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی نماز کو رسولﷺ کی نماز کے بہت زیادہ مشابہ دیکھا یعنی سیدنا امیرِ معاویہؓ کی نماز حضورﷺ کی نماز کے بہت زیادہ مشابہ تھی 
25: سیدنا امیرِ معاویہؓ کا 12 خلفاء والی حدیث کی فضیلت کا مصداق ہونا
 حدَّثنا عمرو بن عثمان، حدَّثنا مروان بن معاوية، عن إسماعيل يعنی ابن أبی خالدٍ عن أبيه عن جابر بن سمرة، قال: سمعتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يزال هذا الذين قائماً حتى يكون عليكم اثناء عشر ‌خليفةً، ‌كلهم ‌تجتمِع ‌عليه ‌الأمَّة فسمعت كلاماً من النبی صلى الله عليه وسلم لم أفهمه، قلت لأبی: ما يقول؟ قال: كلُّهم من قُريش
(سنن أبی داؤد: جلد، 6 صفحہ، 335 ت الأرنؤوط حدیث نمبر: 4279)
ترجمہ: سیدنا جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرمﷺ سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپﷺ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپﷺ نے فرمایا ہے: یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔ 
وإيضاً ح ذلك أن المراد بالاجتماع انقيادهم لبيعته.والذی وقع أن الناس اجتمعوا على أبی بكر ثم عمر ثم عثمان ثم علی إلى أن وقع أمر الحكمين فی صفين، فسمی معاوية يومئذ بالخلافة، ثم اجتمع الناس على معاوية عند ‌صلح ‌الحسن، 
(فتح الباری لابنِ حجر: جلد، 13 صفحہ، 214، ط السلفية)
ترجمہ: حافظ ابنِ حجرؒ نے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ سیدنا حسنؓ کی صلح کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ حسنین کریمینؓ سمیت سب حضرات نے بیعت کر لی تھی۔
26: سیدنا امیرِ معاویہؓ کا اسلام قبول کرنا اور حضورﷺ کا ان کو مرحبا کہنا
ابنِ سعد: حدثنا محمد بن عمر حدثنی أبو بكر بن أبی سبرة عن عمر بن عبد الله العنسی قال معاوية: لما كان عام الحديبية وصدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البيت وكتبوا بينهم القضية وقع الإسلام فی قلبی فذكرت لأمی فقالت إياك أن تخالف أباك فأخفيت إسلامی فوالله لقد رحل رسول الله من الحديبية وإنی مصدق به ودخل مكة عام عمرة القضية وأنا مسلم وعلم أبو سفيان بإسلامی فقال لی يوماً: لكن أخوك خير منك وهو على دينی فقلت لم آل نفسی خيراً وأظهرت ‌إسلامی ‌يوم ‌الفتح فرحب بی النبی صلى الله عليه وسلم وكتبت له سندہ صحیح 
سير أعلام النبلاء ط الحديث: جلد، 4 صفحہ، 258)
ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ فرماتے ہیں: میں فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کر چکا تھا اور فتح مکہ والے دن اپنے اسلام کو ظاہر کیا حضورﷺ نے مجھے مرحبا کہا اور میں آپﷺ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا۔ 
27: قرآنِ مقدس کی آیت سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کا جنتی ثابت ہونا
وَ مَا لَـكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡـرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ‌ؕ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ 
 (سورة الحديد: آیت، 10)
ترجمہ: اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔  
اگرچہ سیدنا امیرِ معاویہؓ فتح مکہ سے قبل اسلام لا چکے تھے جیسا کہ ایک روایت میں گزر چکا ہے 
سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اگر فتح مکہ سے قبل نازل ہونے والی آیات کا مصداق نہ بھی مانا جائے تو لامحالہ اس آیت کا مصداق بن کر جنتی ثابت ہوتے ہیں 
اور یہاں سے حسنی سے مراد جنت ہے بہت سے محدثین اور مفسرین نے اس کی وضاحت فرمائی ہے سر دست صرف ایک حوالہ ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
حدثنا بشر بن معاذ قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة: وكلاًّ وعد الله ‌الحسنى، ‌وهی ‌الجنة، والله يؤتی كل ذی فضل فضلَه 
(تفسير الطبری: جلد، 9 صفحہ، 96 ط التربية والتراث)
28: قرآن مقدس سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مؤمن ثابت ہونا اور پھر ان پر سکینہ نازل ہونا۔
ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا‌ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡـكٰفِرِيۡنَ
(سورۃ التوبة: آیت، 26)
ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔
یہ آیت ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوۀ حنین میں شریک تھے سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی اس غزوہ میں شریک تھے وہ بھی اس آیت کے مصداق ہیں جس کی صراحت ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔ 
فهذه الآية نزلت فی شأن المؤمنين الذين حاربوا مع النبی صلى الله عليه وسلم يوم حنين، وكان منهم طائفة كثيرة من مسلمة الفتح، ومنهم معاوية رضی الله عنه 
(فتح المنان بسيرة أمير المؤمنين معاوية بن أبی سفيان: صفحہ، 240) 
مذکورہ بالا عبارت سے واضح ہوا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس فضیلت کے مصداق ہیں۔
29: حضورﷺ کی زبان اقدس سے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مؤمن ہونے کی گواہی۔
صفحہ 7 از 9