سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 6 از 9
ترجمہ: عروہ کہتے ہیں: میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا خفیہ طور پر الاٹ کی ہوئی جائیداد کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس موجود ہے۔ یہ سن کر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے کہا: بخدا میں نے ہی اس زمین کو ایکوائر کیا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا زبیرؓ کو بطور جاگیر عطا کی تھی اور میں اس کی کاغذی کارروائی مکمل کر رہا تھا کہ اس دوران سیدنا عمر فاروقؓ تشریف لائے، انہیں دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس زمینی دستاویز کو اپنے بستر کے نیچے دبا دیا۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے اندر آتے ہی پوچھا: تم لوگ کسی ضروری کام میں مشغول تھے؟ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا:جی ہاں یہ سن کر سیدنا عمر فاروقؓ چلے گئے ان کے چلے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے تحریری دستاویز دوبارہ نکالی۔ پھر میں نے اسے مکمل کیا۔ 
 سیدنا عمر فاروقؓ کا سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مصلح امت قرار دینا 
 قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِی، وَالْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ الْأَغَرِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِی، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَعَزَّاهُ عُمَرُ بِابْنِهِ يَزِيدَ بْنِ أَبِی سُفْيَانَ. قَالَ: آجَرَكَ اللّٰهُ فِی ابْنِكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ، فَقَالَ: أَیُّ بَنِیِّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: يَزِيدُ بْنُ أَبِی سُفْيَانَ قَالَ: فَمَنْ بَعَثْتَ عَلَى عَمَلِهِ؟ قَالَ: مُعَاوِيَةَ أَخَاهُ وَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَنَا أَنْ ‌نَنْزِعَ ‌مُصْلِحًا رواتہ ثقات الا انہ منقطع 
(الطبقات الكبرىٰ، متمم الصحابة، الطبقة الرابعة: جلد، 1 صفحہ، 113)
ترجمہ: سیدنا ابوسفیانؓ سیدنا عمر فاروقؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا عمر فاروقؓ نے یزید بن ابی سفیان کے بارے میں سیدنا ابوسفیانؓ سے تعزیت کی اور فرمایا: اے سیدنا ابوسفیانؓ، اللہ تیرے بیٹے کے صدمہ پر تجھے اجر عطا فرمائے، سیدنا ابوسفیانؓ نے کہا: امیر المؤمنین کس بیٹے کی بات کر رہے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: یزید کی، سیدنا ابوسفیانؓ نے کہا: پھر یزید کی جگہ نے پھر آپؓ نے کسے والی بنا کر بھیجا ہے؟ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اس کے بھائی سیدنا امیرِ معاویہؓ کو، اور فرمایا: ہم کسی مصلح سے منازعت کو حلال نہیں سمجھتے۔ یعنی کسی مصلح اور قابل کو ہم آگے ہی بڑھاتے ہیں پیچھے نہیں کھینچتے ہیں 
فائدہ: سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مصلح امت قرار دیا ہے۔ 
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ پر کتنا اعتماد کرتے تھے۔ 
21: سیدنا علیؓ کی زبانی سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکرِ خیر ہے  
 أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِی، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ عَلِی مِنْ صِفِّينَ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ أَبَدًا، فَتَكَلَّمَ بِأَشْيَاءَ كَانَ لَا يَتَكَلَّمُ بِهَا، وَحَدَّثَ بِأَحَادِيثَ كَانَ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، لَا ‌تَكْرَهُوا ‌إِمَارَةَ ‌مُعَاوِيَةَ، وَاللّٰهِ لَوْ قَدْ فَقَدْتُمُوهُ لَقَدْ رَأَيْتُمُ الرُّءُوسَ تَنْدُرُ مِنْ كَوَاهِلِهَا كَالْحَنْظَلِ سند حسن
(مصنف ابنِ أبی شيبة: جلد، 7 صفحہ، 548 ت الحوت)
 ترجمہ: سیدنا علیؓ نے فرمایا: اے لوگو! سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو برا نہ سمجھو، بخدا جب وہ تم میں نہیں ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اس طرح الگ ہوتے دیکھو گے جیسے حنظل (اندرائن) کو اس کی بیل سے توڑ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔
22: سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ صلح کرنا 
حَدَّثَنِی عَبْدُاللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِی عَنْ أَبِی مُوسَى عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَكْرَةَ رضی الله عنه أَخْرَجَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‌ابْنِی هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ ‌يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(صحيح البخاری: جلد، 4 صفحہ، 204 حدیث نمبر: 3629)
کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب: نبی کریمﷺ کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان
ترجمہ: مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے ابو موسیٰ نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے سیدنا ابوبکرؓ نے کہ نبی کریمﷺ سیدنا حسنؓ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ 
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سیدنا حسنؓ نے امرِ خلافت سیدنا امیرِ معاویہؓ کو سپرد کر دیا تھا اور فریقین کی صلح ہو گئی تھی۔
23: سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا اپنی عمر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو دینے کی دعا
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسىٰ، وَهِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، أَخْبَرَنِی سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِی عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِی عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا زَالَ بِی مَا رَأَيْتُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ فِی الْفِتْنَةِ، حَتَّى إِنِّی لَأَتَمَنَّى أَنْ يَزِيدَ اللّٰهُ عزوجل ‌مُعَاوِيَةَ مِنْ ‌عُمْرِی ‌فِی ‌عُمْرِهِ
(المنتقى من كتاب الطبقات لأبی عروبة الحرانی: صفحہ، 41)
ترجمہ: سیدہ عائشہ صدیقہؓ یہ ارشاد فرماتی تھی کہ میری یہ تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری عمر بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ لگا کر ان کی عمر کو زیادہ کر دے۔ 
اُم المومنینؓ کے یہ الفاظ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی منقبت کو ظاہر کرتے ہیں
24: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی نماز رسول اللہﷺ کی نماز کے بہت زیادہ مشابہ تھی 
صفحہ 6 از 9