سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 5 از 9
ترجمہ: محمد بن مثنی، عنبری ابنِ بشار ابنِ مثنی امیہ بن خالد شعبہ، ابی حمزہ قصاب حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہﷺ تشریف لے آئے تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھے میرے دونوں کندھوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا جاؤ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بلا کر لاؤ سیدنا ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ میں آیا اور پھر میں نے عرض کیا وہ (کھانا) کھا رہے ہیں حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ نے مجھے فرمایا جاؤ حضرت امیرِ معاویہؓ کو بلا کر لاؤ سیدنا ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے پھر آ کر عرض کیا وہ کھانا کھا رہے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ابن المثنی نے کہا میں نے امیہ سے کہا حطانی کیا ہے انہوں نے کہا تھپکی دینا۔
سیّدنا امیرِ معاویہؓ چونکہ اس بددعا کے مستحق نہیں تھے جیسے کہ شارحِ حدیث نے لکھا ہے اس لیے ان کا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہونا ثابت ہوا۔
15: سیدنا امیرِ معاویہؓ کا حضور اکرمﷺ کے بال مبارک کاٹنا 
وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِی سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‌بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ ‌بِمِشْقَصٍ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ 
(صحيح مسلم: جلد، 4 صفحہ، 58 حدیث نمبر: 3022)
ترجمہ: محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابنِ جریج، حسن بن مسلم، طاؤس، سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ نے انہیں خبر دی فرمایا کہ میں نے رسولﷺ کے بال مروہ پر تیر کے پیکان سے کاٹے یا کہا کہ میں نے آپﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ مروہ پر تیر کے پیکان سے بال کٹوا رہے ہیں۔
16: حضورﷺ کا سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے ہادی ہونے کی دعا کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ ‌هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
(سنن الترمذی: جلد، 5 صفحہ، 687 حكم الألبانی: حدیث نمبر: 3842، تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف تحفة الأشراف: صفحہ، 9708 صحیح) 
کتاب: مناقب کا بیان
باب: سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ کے مناقب
ترجمہ: صحابی رسول سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! تو معاویہؓ کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے 
امام ترمذیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔   
17: سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کرنا چاہیئے 
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِی قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِی إِدْرِيسَ الخَوْلَانِی، قَالَ: لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ حِمْصَ وَلَّى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ النَّاسُ: عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: اللّٰهُمَّ اهْدِ بِهِ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
(سنن الترمذی: جلد، 5 صفحہ، 687 حكم الألبانی: صحيح لغيره حدیث نمبر: 3843)
کتاب: مناقب کا بیان
باب: حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ کے مناقب
ترجمہ: ابو ادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدنا عمیر بن سعدؓ کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے سیدنا عمیرؓ کو معزول کر دیا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو والی بنایا، تو سیدنا عمیرؓ نے کہا: تم لوگ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللهم اهد به اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے۔
18: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت رحمتِ الہٰی تھی
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم: أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَ رَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَ رَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَ رَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ إِمَارَةً وَ رَحْمَةً، رَوَاهُ الطَّبَرَانِی وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
(مجمع الزوائد و منبع الفوائد: جلد، 5 صفحہ، 189)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا یہ معاملہ (یعنی خلافت کا) پہلے نبوت اور رحمت کے ساتھ شروع ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر ملوکیت اور رحمت ہو گی پھر امارت اور رحمت ہو گی۔  
اس حدیث سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت رحمت والی ثابت ہوتی ہے۔ 
19: سیدنا امیرِ معاویہؓ پر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا اعتماد
 أخبرَنا أبو الحُسَينِ ابنُ الفَضلِ القَطّانُ، أخبرَنا عبدُاللّٰهِ بنُ جَعفَرٍ، حدثنا يَعقوبُ بنُ سُفيانَ، حدثنا سُلَيمانُ، حدثنا عُمَرُ بنُ علىِّ بنِ مُقَدَّمٍ، عن هِشامِ بنِ عُروةَ، عن أبيه قال: دَخَلتُ على مُعاويَةَ فقالَ لِى: ما فعَلَ المَسلولُ؟ قال: قُلتُ: هو عِندِى. فقالَ: أنا واللّٰهِ خَطَطتُه بيَدِى: أقطَعَ أبو بكرٍ الزُّبَيرَ أرضًا. فكُنتُ أكتُبُها. قال: فجاءَ عُمَرُ، فأخَذَ أبو بكرٍ يَعنِى الكِتابَ فأدخَلَه فی ثِنی الفِراشِ، فدَخَلَ عُمَرُ فقالَ: كأنَّكُم على حاجَة فقالَ أبو بكرٍ: نَعَم. فخَرَجَ، فأخرَجَ أبو بكرٍ الكِتابَ ‌فأتمَمتُه 
(السنن الكبير للبيہقی: جلد، 12 صفحہ، 211 ت التركی)
صفحہ 5 از 9