سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 4 از 9
یہ حدیث بھی جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی اس کے عموم میں داخل ہیں۔ 
نوٹ: اگرچہ بعض محدثین نے اس حدیث پر ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے مگر دیگر محدثین نے اس کو صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اس کے متن پر منکر ہونے کا حکم کسی نے بھی نہیں لگایا اس کے متن کی تائید قرآن و سنت سے ہوتی ہے۔
11: سیدنا امیرِ معاویہؓ بحیثیتِ فقیہ اور مجتہد
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْيَمَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مُلَيْكَةَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ، فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ
(صحيح البخاری: جلد، 5 صفحہ، 28 حدیث نمبر: 3765)
ترجمہ: ہم سے ابنِ ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابنِ ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق آپؓ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔ 
12: سیدنا عباسؓ کاتبِ وحی 
حدثنی عباس بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِیُّ وَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ المعقری. قالا: حدثنا النضر (وهو ابن محمد اليمامی) حدثنا عكرمة حدثنا أبو زميل حدثنيی ابنِ عباس قال:كان المسلمون لا ينظرون إلى أبی سفيان ولا يقاعدونه فقال للنبی صلى الله عليه وسلم: يا نبی الله! ثلاث أعطنيهن. قال "نعم" قال: عندی أحسن العرب و أجمله، أم حبيبة بنت أبی سفيان، أزوجكها قال "نعم" قال: و معاوية، تجعله ‌كاتبا بين يديك قال "نعم" قال: وتؤمرنی حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال"نعم
(صحيح مسلم: جلد، 4 صفحہ، 1945 عبد الباقی حدیث نمبر: 6409)
ترجمہ: عباس بن عبدالعظیم عنبر احمد بن جعفر معقری نضر ابنِ محمد یمامی عکرمہ ابو زمیل حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ مسلمان نہ تو سیدنا ابوسفیانؓ کی طرف دیکھتے تھے اور نہ ہی ان کے پاس بیٹھتے تھے۔ تو حضرت ابوسفیانؓ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبیﷺ تین باتیں مجھے عطا فرمائیں آپﷺ نے فرمایا: جی ہاں! بتاؤ۔ عرض کیا: میری بیٹی سیدہ اُم حبیبہ بنتِ ابوسفیانؓ اہلِ عرب سے حسین و جمیل ہیں میں اس کا نکاح آپﷺ سے کرتا ہوں آپﷺ نے فرمایا: بہتر عرض کیا اور معاویہؓ کو اپنے لیے کاتبِ وحی مقرر کر لیں آپﷺ نے فرمایا: بہتر آپﷺ مجھے حکم دیں کہ میں کفار سے لڑتا رہوں جیسا کہ میں مسلمانوں سے لڑتا تھا آپﷺ نے فرمایا بہتر ابوزمیل نے کہا اگر یہ خود نبی کریمﷺ سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کرتے تو آپﷺ یہ کام نہ فرماتے کیونکہ آپﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپﷺ سے جس بھی چیز کا مطالبہ کیا جاتا تو آپﷺ اس کے جواب میں ہاں ہی فرماتے تھے۔ 
سیدنا امیرِ معاویہؓ کے کاتبِ وحی ہونے پر دیگر روایات بھی موجود ہیں اختصار کے پیشِ نظر صرف ایک بیان کی گئی ہے۔
13: سیدہ ام حبیبہؓ کا سیدنا امیرِ معاویہؓ سے محبت کا اظہار
 حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلی وحجاج بن الشاعر واللفظ لحجاج- (قال إسحاق: أخبرنا وقال حجاج: حَدَّثَنَا) عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِی عَنْ عَلْقَمَةَ بن مرثد، عن المغيرة بن عبد الله اليشكری، عن معرور بن سويد، عن عبد الله بن مسعود قال: قالت أم حبيبة: اللهم! ‌متعنی ‌بزوجی، ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم وبأبی، أبی سفيان وبأخی معاوية فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم "إنك سألت الله لآجال مضروبة، وآثار موطوءة، وأرزاق مقسومة لا يعجل شيئا منها قبل حله ولا يؤخر منها شيئا بعد حله ولو سألت الله أن يعافيك من عذاب فی النار، وعذاب فی القبر، لكان خيرا لك".
(صحيح مسلم: جلد، 4 صفحہ، 2051 عبد الباقی، حدیث نمبر: 6770)
ترجمہ: سیدنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی بکر وکیع، مسعر علقمہ بن مرثد مغیرہ بن عبداللہ یشکری معرور بن سوید حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ زوجہ نبی اکرمﷺ سیدہ اُم حبیبہؓ نے کہا اے اللہ مجھے اپنے خاوند رسول اللہﷺ اور والد سیدنا ابوسفیانؓ اور بھائی سیدنا امیرِ معاویہؓ سے متمتمع کرنا نبی کریمﷺ نے فرمایا تو نے اللہ سے مقرر شدہ اوقات و ایام اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا ان میں سے کسی چیز کو وقت مقرر سے مقدم اور مؤخر نہیں کیا جاتا اور اگر تو اللہ سے سوال کرتی کہ وہ تجھے جہنم کے عذاب یا قبر کے عذاب سے پناہ دے تو وہ بہتر اور افضل ہوتا۔ 
14: سیدنا امیرِ معاویہؓ اللہ کی رحمت کے حقدار ہیں۔
 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِی (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِی حَمْزَةَ الْقَصَّابِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ: فَجَاءَ فَحَطَأَنِی حَطْأَةً وَقَالَ: اذْهَبْ وَادْعُ لِی مُعَاوِيَةَ قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِیَ: اذْهَبْ فَادْعُ لِی مُعَاوِيَةَ قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ: لَا ‌أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قُلْتُ لِأُمَيَّةَ: مَا حَطَأَنِی؟ قَالَ: قَفَدَنِی قَفْدَةً 
(صحيح مسلم: جلد، 8 صفحہ، 27 حدیث نمبر، 2628)
کتاب: صلہ رحمی کا بیان
باب: نبیﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اس کے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لیے اجر اور رحمت ہے
صفحہ 4 از 9