سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 3 از 9
ترجمہ: "حضرت مسورؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی بیٹی کا رشتہ کے لیے پیغام بھیجا، انہوں نے جواباً کہا: ان سے کہئے گا کہ وہ مجھے عشاء کے وقت مل لیں، چنانچہ حضرت حسن بن حسنؓ عشاء کے وقت ان سے ملاقات کے لیے گئے حضرت مسورؓ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد بولے: خدا کی قسم! تمہارے نسب تمہارے سبب اور تمہارے ساتھ رشتہ داری سے بڑھ کر میری نظر میں کسی چیز کی اہمیت نہیں ہے، لیکن رسولﷺ نے فرمایا ہے"فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اس کی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی خوشی سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔ اور قیامت کے دن تمام نسب ختم ہو جائیں گے سوائے میری نسبی رشتہ داری، میری سببی رشتہ داری اور میری سسرالی رشتہ داری کے۔ جبکہ تمہارے ہاں پہلے سے ان کی صاحبزادی موجود ہے اگر میں اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں تو یہ چیز اس سید زادی کو تکلیف دے گی۔ یہ کہہ کر انہوں نے معذرت کر لی ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اس کو نقل نہیں کیا۔"
سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس فضیلت میں یقینی طور پر داخل ہیں ان کو بھی جنت میں رسولﷺ کی رفاقت نصیب ہو گی کیونکہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی حضورﷺ کے سسرال والوں میں سے ہیں 
8: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کی ممانعت
حدثنا علی بن حمشاذ العدل، ثنا بشر بن موسىٰ، ثنا الحميدی، ثنا محمد بن طلحة التيمی، حدثنی عبد الرحمٰن بن سالم بن عتبة بن عويم بن ساعدة، عن أبيه، عن جده، عن عويم بن ساعدة، رضی الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن الله تبارك و تعالىٰ ‌اختارنی واختار بی أصحابا فجعل لی منهم وزراء وأنصارا وأصهارا، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه 
(المستدرك على الصحيحين: جلد، 3 صفحہ، 732 التعليق من تلخيص الذهبی: حدیث: 6656 صحيح)
ترجمہ: حضرت عویم بن ساعدہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرا انتخاب فرمایا اور میرے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چنا اور ان میں سے میرے وزیر بنائے، میرے مددگار بنائے، میرے سسرالی رشتہ دار بنائے، جس نے میرے ان تعلق داروں کو گالی دی، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی عمل قبول ہو گا نہ اس کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی۔
 یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے سسرالی خاندان والوں کو برا بھلا کہنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی اسی خاندان کے فرد ہیں۔ 
9: سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بغض کفر کی علامت ہے 
بَابُ الْقُولِ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى آلِهِ وَرَضِی عَنْهُمْ قَالَ اللّٰهُ تبارك وتعالىٰ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌
 (سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ 
قرآن مقدس کی اس آیت کے بالکل آخری حصہ کو غور سے پڑھیں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جلنا اور بغض رکھنا یہ کافروں کے نشانی ہے۔ 
یہ حکم جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی اس میں داخل ہیں۔
10: سیدنا امیرِ معاویہؓ سے محبت رسولﷺ کے ساتھ محبت کے مترادف ہے۔
 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِی رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللّٰهَ اللّٰهَ فِی أَصْحَابِی، لَا ‌تَتَّخِذُوهُمْ ‌غَرَضًا ‌بَعْدِی، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّی أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِی أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِی، وَمَنْ آذَانِی فَقَدْ آذَى اللّٰهَ، وَمَنْ آذَى اللّٰهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
(سنن الترمذی: جلد، 5 صفحہ، 696 حدیث نمبر: 3862)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی اور جس نے مجھے ایذاء پہنچائی اس نے اللہ کو ایذاء دی، اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے ۔
صفحہ 3 از 9