سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 2 از 9
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے قرآن و سنت میں جتنے فضائل و مناقب وارد ہوئے ہیں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی بالاجماع ان تمام مناقب و فضائل کے کامل طور پر حقدار ہیں ۔ 
4: فضیلت حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بحیثیتِ قریشی
سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ قبیلہ قریش کی مشہور شاخ بنو اُمیہ کے چشم و چراغ ہیں، 
آپؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے:
 معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدِ شمس بن عبدِ مناف بن قصی 
پانچویں پشت میں جا کر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب حضورﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے۔
 ایک اصولی ضابطہ ہے کہ قبیلہ قریش کے جو مناقب بیان کیے گئے ہیں اس میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی داخل ہیں جو خاندانِ قریش کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی خاندانِ قریش کے ساتھ تھا۔ 
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِی وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِی، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: إِنَّ اللّٰهَ ‌اصْطَفٰى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِی هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِی مِنْ بَنِی هَاشِم۔
(صحيح مسلم: جلد، 7 صفحہ، 58 حدیث نمبر: 5938)
ترجمہ: محمد بن مہران رازی محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم ولید ابنِ مہران ولید بن مسلم، اوزاعی ابی عمار شداد، حضرت واثلہ بن اسقعؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور قریش کو کنانہ میں سے چنا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور پھر بنی ہاشم میں سے مجھے چنا۔
5: فضیلت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بحیثیتِ صحابی رسولﷺ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَيْكَةَ قَالَ:أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ، وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ ‌صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم.
(صحيح البخاری: جلد، 5 صفحہ، 28 حدیث نمبر: 3764)
ترجمہ: کہا ہم سے حسن بن بشیر نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے اور ان سے ابنِ ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں سیدنا ابنِ عباسؓ کے مولیٰ (کریب) بھی موجود تھے، جب وہ ابنِ عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (سیدنا امیرِ معاویہؓ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا) اس پر انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ رسولﷺ کے صحابی ہیں۔
6: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہؓ کے بھائی اور مومنوں کے ماموں ہیں
سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ سے سب سے مشہور اور قریبی رشتہ داری یہ ہے کہ آپؓ اُم المؤمنین سیدہ اُم حبیبہؓ کے حقیقی بھائی ہیں، اور خبر قرآنی کے مطابق سیدہ اُم حبیبہؓ تمام مسلمانوں کی ماں ہیں، اسی وجہ سے محدث اور فقیہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو خال المؤمنین (تمام مسلمانوں کے ماموں) کا لقب عنایت فرمایا ہے
أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا طَالِبٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا عَبْدِاللّٰهِ: أَقُولُ: ‌مُعَاوِيَةُ ‌خَالُ ‌الْمُؤْمِنِينَ؟ وَابْنُ عُمَرَ خَالُ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: نَعَمْ، مُعَاوِيَةُ أَخُو أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِی سُفْيَانَ، زَوْجِ النَّبِی صلى الله عليه وسلم وَرَحِمَهُمَا، وَابْنُ عُمَرَ أَخُو حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِی صلى الله عليه وسلم وَرَحِمَهُمَا، قُلْتُ: أَقُولُ: ‌مُعَاوِيَةُ ‌خَالُ ‌الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: نَعَمْ" 
(السنة لأبی بكر بن الخلال: جلد، 2 صفحہ، 433 اسنادہ صحیح)
 ترجمہ: ابو طالب نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا میں یہ کہتا ہوں کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرؓ مؤمنین کے ماموں ہیں کیا یہ بات درست ہے؟ تو امام احمد بن حنبلؒ نے ارشاد فرمایا جی ہاں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ اُم حبیبہؓ جو حضورﷺ کی زوجہ ہیں کے حقیقی بھائی ہیں اور سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سیدہ حفصہؓ کے حقیقی بھائی ہیں پھر اس شخص نے کہا کہ کیا میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو مؤمنین کا ماموں کہہ سکتا ہوں تو امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا بالکل کہہ سکتے ہیں۔
7: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنت میں حضورﷺ کی رفاقت نصیب ہو گی۔
أخبرنی أحمد بن جعفر القطيعی، ثنا عبدالله بن أحمد بن حنبل، حدثنی أبی، ثنا أبو سعيد، مولى بنی هاشم، ثنا عبدالله بن جعفر، حدثتنا أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن عبيدالله بن أبی رافع، عن المسور، أنه بعث إليه حسن بن حسن يخطب ابنته، فقال له: قل له فليقانی فی العتمة، قال: فلقيه فحمد الله المسور وأثنى عليه ثم قال: أما بعد، وايم الله ما من نسب ولا سبب ولا صهر أحب إلی من نسبكم و سببكم و صهركم، ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فاطمة بضعة منی يقبضنی ما يقبضها ويبسطنی ما يبسطها، وإن الأنساب يوم القيامة تنقطع غير نسبی وسببی ‌وصهری وعندك ابنتها ولو زوجتك لقبضها ذلك فانطلق عاذرا له هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه 
(المستدرك على الصحيحين: جلد، 3 صفحہ، 127 التعليق من تلخيص الذهبی: حدیث، 4747 - صحيح)
صفحہ 2 از 9