سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

  مفتی مجاہد احمد

صفحہ 1 از 9

سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر مشتمل 40 احادیث کا مجموعہ

 سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عمومی و خصوصی فضائل مختصر حاشیہ آرائی کے ساتھ بیان کیے جائیں گے تاکہ ناظرین کو مدعا سمجھنے میں آسانی ہو 
1: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ جنتی لشکر کے سربراہ
 حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنِی اللَّيْثُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ قَالَتْ: نَامَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّی ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ فَقُلْتُ: مَا أَضْحَكَكَ قَالَ: أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ: فَادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِی مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا فَقَالَتِ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِی مِنْهُمْ فَقَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ. فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ ‌مَعَ ‌مُعَاوِيَةَ فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ۔
(صحيح البخاری: جلد، 4 صفحہ، 18 حدیث نمبر: 2799)
ترجمہ: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے سیدنا انس بن مالکؓ نے اور ان سے ان کی خالہ سیدہ اُم حرام بنتِ ملحان نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریمﷺ میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپﷺ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے عرض کیا کہ آپﷺ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آپﷺ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ آپﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ آپﷺ سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کہا (بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے) اُم حرامؓ نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور آپﷺ نے وہی جواب دیا۔ اُم حرامؓ نے عرض کیا آپﷺ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو آپﷺ نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی چناچہ وہ اپنے شوہر سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں جس کی سربراہی سیدنا امیرِ معاویہؓ کر رہے تھے غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو سیدہ اُم حرامؓ کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہو جائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ 
2: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ قیامت تک حق پر قائم رہے گا
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِی أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ عُمَيْرٌ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ ‌يُخَامِرَ قَالَ مُعَاذٌ وَهُمْ ‌بِالشَّأْمِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ ‌بِالشَّأْمِ۔
(صحيح البخاری: جلد، 4 صفحہ، 207 حدیث نمبر:3641)
ترجمہ: ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن جابر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا اور انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسولﷺ سے سنا تھا۔ آپﷺ فرما رہے تھے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ سیدنا معاذ بن جبلؓ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاذ بن جبلؓ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔ 
(اس حدیث سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گروپ کا حق پر ہونا ثابت ہوا) 
3: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق پر ہونے کی حضور اکرمﷺ کی گواہی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِی نَضْرَةَ، عَنْ أَبِی سَعِيدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِی فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ فَيَلِی قَتْلَهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقّ
(صحيح مسلم: جلد، 3 صفحہ، 113 حدیث نمبر: 2459)
ترجمہ: ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابو نضرہ، حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے تو ان میں سے تیسرا مارقہ (یعنی خوارج کا گروہ) نکلے گا ان خوارج سے وہ گروہ جہاد کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔ 
(یعنی سیدنا علیؓ حق کے زیادہ قریب تھے اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ بھی حق پر تھا) 
ایک ضروری وضاحت
چودہ سو سال کے تمام اہلِ سنت محدثین، مؤرخین، فقہاء محققین اور اصولیین کا اس بات پر اجماع ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کی موجودگی میں ایمان قبول کیا اور تا دمِ حیات ایمان پر ثابت قدم رہے۔ 
صفحہ 1 از 9