خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم…

خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ (کتاب المختصر فی اخبار البشر لابی الفداء، الکامل فی التاریخ ابن الاثیر، العقد الفريد، محمد بن عبدربہ، حیاۃ الصحابہ)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

 سطر نمبر 15 پر ہے۔ حضرت علیؓ نے ابوسفیان کو جواب دیا ولولا انا رأينا ابو بکر لذالك. اهلا ما خلينا و ایاها الخ.
مطلب یہ ہے کہ ہم اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت کا اہل نہ جانتے تو ان کو اس مقام پر کھڑا نہ رہنے دیتے (چونکہ وہ مستحق خلافت تھے اسی لئے تو ہم خاموش رہے) آخری سطر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:
. وانا قد بايعنا ابابکر و كان لذالك اهلا۔
اور ہم نے جو حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تو وہ اس لئے کہ وہ اس وقت خلافت کی اہلیت رکھتے تھے۔
محترم حضرات یہی وہ چار کتابیں ہیں جن کے عکس دے کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ابو سفیان اور بنو ہاشم و متعدد صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہ کی تھی حالانکہ ان کتابوں کی چیدہ چیدہ عبارات ہم نے نقل کر دی ہیں جن میں ابوسفیان صحابہ کرامؓ اور حضرت علیؓ، حضرت زبیؓرؓ وغیرہ حضرات کا صراحتاً بیعت کرنا اور حیدر کرارؓ کا دشمنان صدیق اکبرؓ کا لگام ڈالنے والا جواب ارشاد فرمانا منقول ہے کہ صدیق اکبرؓ کے خلافت کہ اہل تھے جب ہی تو ہم نے بیعت کی اور یہ کہ رسول اللہﷺ مجھے اور میرے خاندان کو اچھی طرح سے جانتے تھے اگر میں ابوبکر صدیقؓ سے مقدم اور خلیفہ بلافصل ہوتا تو خود رحمت عالمﷺ مجھے نماز پڑھانے کا حکم دیتے مگر آپﷺ تو سوائے صدیق اکبرؓ کے کسی اور کے امام بنے پر راضی نہ ہوئے لہٰذا لوگوں نے اسی کو اپنا دنیا میں امام بنا لیا جس کو رسول اللہﷺ نے لوگوں کے دین کا امام بنایا تھا پس لوگ حضرت صدیق اکبرؓ کے بیعت ہو گئے اور میں بھی بیعت ہو گیا۔
 ( العقد الفريد صفحہ 271 وغیره)
اب آپ ہی فرمائیے اس سے بڑھ کر اور کیا دھوکہ ہو گا کہ اقرار بیعت کو انکار بیعت بنا کر پیش کر دیا گیا اسے کہتے ہیں کہ جھوٹ وہ بول کہ سچ کو بھی مزا آجائے“۔
  2: قوم کو دھوکہ دینا اور آنکھوں پر پٹی باندھنے کی کوشش میں مصروف رہنا رافضی قوم کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ مذکورہ واقعہ:
میں بھی اس فرض کی بجا آوری میں اپنی قوت کا بھر پور استعمال کیا ہے ورنہ ارباب علم جانتے ہیں کہ رحمت عالمﷺ کا دار فانی سے رحلت فرما جانا ایسا المناک واقعہ تھا جو قیامت صغریٰ بن کر صحابہ کرامؓ پر ٹوٹ پڑا ایسے میں اگر صبر و استقامت کے ساتھ حالات پر قابو نہ پایا جاتا تو ارتدار و انکار زکوٰۃ وغیرہ جیسے بے شمار فتنے اسلامی قوت کو تر لقمہ کی طرح نگل چکے ہوتے مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف حالات کو قابو کیا بلکہ خلافت کے باب میں امت کا شیرازہ بکھرنے سے بجا طور پر بچا لیا۔ چنانچہ نبی سقیفہ میں اول بیعت ہوئی جس میں محدود لوگ شریک ہوئے پھر رفتہ رفتہ دور قریب کے لوگ وقتاً فوقتاً بیعت کرتے رہے اب جو لوگ بنی سقیفہ کی بیعت میں شریک نہ ہوئے تھے ان کے بارے میں یہ اعلان داغ دینا کہ انہوں نے خلافت صدیقی کو تسلیم نہ کیا تھا پرلے درجہ کا جھوٹ اور دجل کی عدیم المثال داستان ہے۔

 3: حقیقی دستاویز و رد تحقیقی دستاویز کے مقدمہ کی بحث میں تفصیل کے ساتھ حضرت علیؓ و دیگر حضرات کا سیدنا صدیق اکبرؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنا فریقین کی مسلمہ کتب سے ثابت کر چکے ہیں۔
قارئین و ہاں ملاحظہ فرمائیں! آخر میں دو شیعہ رہنماؤں کے اقتباسات قارئین کرام کی نظر کرتے ہیں۔

 نمبر 1 جسٹس سید امیر علی اپنی انگریزی کتاب میں سیدنا صدیق اکبرؓ کی بیعت پر رقم طراز ہیں۔ عربوں میں کسی قوم کی سرداری اور سربراہی موروثی نہ تھی اس کا انحصار انتخاب پر ہوتا تھا عمومی حق رائے وہی کے اصول پر شدت سے عمل ہوتا تھا قبیلہ کے تمام افراد کی سردار کے انتخاب میں آواز ایک ہوتی تھی اس قدیم قانون کے مطابق جانشین پیغمبرﷺ کے انتخاب میں بھی پابندی کی گئی چونکہ حالات کی نزاکت کسی تاخیر کی اجازت نہ دیتی تھی اس لئے ابوبکر جو اپنی عمر اور حیثیت و مرتبہ کی بنیاد پر جو ان کو مکہ میں حاصل تھا اور وہ عربوں کے حساب و انداز میں بڑا مرتبہ رکھتے تھے بغیر کسی تاخیر کے خلیفہ یا پیغمبرﷺ کے جانشین منتخب ہو گئے ابوبکر اپنی دانشمندی اور اعتدال کی وجہ سے امتیاز خاص کے مالک تھے۔ ان کے انتخاب کو حضرت علیؓ اور خاندان نبوت (بنو ہاشم نے اپنے روایتی خلوص اور اسلام سے وفاداری اور دلی وابستگی کی بنا پر تسلیم م کیا۔۔
 (جسٹس سید امیر علی بحوالہ خلفائے راشدینؓ نے صفحہ 9 الشیخ الاجل حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃاللہ ماضی قریب کے شیعہ راہنما ڈاکٹر موسیٰ الموسوی الشیعہ والتصحيح میں لکھتے ہیں:
حضرت علیؓ نے اپنی خلافت کے وقت ارشاد فرمایا
بلاشبہ جن لوگوں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما در اور عثمانؓ کی بیعت کی تھی انہیں لوگوں نے میری بیعت کی ہے اور اسی شرط پر کی ہے جس پر ان کی بیعت کی تھی اس لئے کسی حاضر کو تردد کا اور کسی غائب کو انکار کا حق نہیں ہے اور بلاشبہ مشورہ انصار و مہاجرین کا حق ہے اگر یہ حضرات کسی پر اتفاق کر لیں اور اسے امام بنا دیں تو یہ اللہ کی رضا کی دلیل ہوگی اگر کوئی شخص ان پر طعنہ زنی کرے اور نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے ان کے احکامات سے روگردانی کرے تو ان کا حق ہے کہ مسلمانون کا راستہ چھوڑنے کے سبب اس سے جنگ کریں۔
 (التصحيح والشیعہ اردو ترجمہ اصلاح شیعہ صفحہ 31 از نہج البلاغہ جلد 3 صفحہ 7) شیعہ رہنماؤں کے ان اقتباسات کے بعد تحقیقی دستاویز والوں کے اس اعتراض کی حثیت موری والے ٹکے کی بھی نہیں بچتی۔

مزید وضاحت کیلئے عرض کیا جاتا ہے کہ مذکورہ کتابوں کی بنیاد پر جو الزام اہلسنت پر دھرا گیا وہ محض افترا اور دھوکہ کی ایک مثال ہے ورنہ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں ان کتابوں کے عکسی صفحات پر خلافت صدیقی پر بیعت کرنے کا ذکر ہے انکار کا نہیں ان عکسی صفحات پر خلافت صدیقی پر بیعت کرنے کا ذکر ہے نے انکار کا نہیں ان عکسی صفحات نے شیعہ قوم کی ناک کاٹنے کے سوا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔


صفحہ 2 از 2