اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 32

اگر ولایت نبوت کی ہمجولیاں اس سے بھی بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے تو پھر یہ خفیہ اور رازداری میں کیوں لپٹی ہوئی ہے ؟؟؟حتی کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جن کو اللہ نے یہ حکم دیا کہ ان پر جو نازل ہوا ہے اس کی تبلیغ کریں اس کو چھپا رہے ہیں اور بڑے رازدارانہ انداز میں اسے علی ؓ کے سپرد کر رہے ہیں پھر علیؓ جس کو چاہیں اس کے سپرد کر دیں یہ روایت ان اشخاص کی تعیین بھی نہیں کرتی جن کو حضرت علیؓ نے راز امامت سپرد کیا اور معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ رہی ہے کہ وہ جس کو چاہیں منتخب کر لیں لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس اختیار نہیں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ولایت جو شیعہ کے نزدیک نجات کا قانون قبولیت اعمال کی بنیاد اور کفر و ایمان کے درمیان فیصل قاطع ہے اتنی دیر خفیہ کیوں رہی کہ اس کوکیسا ن کی اولاد نے پھیلانے کی ذمہ داری سنبھالی پھر وہ اس کام کو اس اصل حکم سے خروج قرار دیتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا یہ تمام عبارت اور روایات اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اس نظریے کے خالق امت کے دشمن ہیں انہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس مسئلہ کو استعمال کیا پھر بڑی مشاقی سے اس کو رازداری اور پوشیدگی کی فضا میں گھڑ کر اہل بیت کی طرف منسوب کر دیا تاکہ وہ ان لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا سکیں جن کو بعض علماء آل بیت کے ساتھ پیش آنے والے المناک حادثات نے دکھی کردیا  حادثات و واقعات کا سبب یہ تقیہ کے لبادے میں چھپے ہوئے کینہ پرور اسلام دشمن غداران اسلام اہل تشیع ہی تھے    

یہ چند روایات ہم نے نقل کی ہیں بسبب طوالت۔ورنہ شیعہ محدثین اور مفسرین اور محققین نے باقاعدہ باب باندھ کر تقیہ اور کتمان حق کو بیان کیا ہے ۔

  آئمہ کو ایک متعین تعداد میں محصور کر دینا 

جیسا کہ ہم ماقبل ذکر کر چکے ہیں کہ نظریہ وصیت امامت کا موجد اعلی عبداللہ ابن سبا تھااسی طرح نظریہ رجعت کا بانی بھی عبداللہ ابن سبا تھا لیکن وہ ان نظریات کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ تک محدود رکھتا تھا لیکن اس کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد کے کئی افرادتک وسعت دے دی شیعہ جماعتیں اور نیٹ ورک بڑی رازداری اور مکمل خاموشی کے ساتھ اپنے کام میں لگے ہوئے تھے لیکن جب ان کے کچھ دعوی اہل البیت کےافراد تک پہنچ جاتے تو وہ اپنے جد امجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے بڑی شدت کے ساتھ ان کی تردید کرتے چنانچہ ان کذابوں نے اہل بیت کی نسبت عقیدہ تقیہ اخترع کرلیا تھا کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنے افکار پھیلا سکیں اور ان کو پیروان اہل بیت مزہب کے سچے اور سرعام پیش کرنے میں کوئی دقت نا ہو 

یہ گمان بھی کیا جا سکتا ہے کہ آئمہ کو بارہ کی تعداد میں تعین بھی ابن سباء نے کیا ہو کیوں کہ بارہ آئمہ کا تذکرہ 

شیعہ بارہ آئمہ کی امامت کے دعویدار ہیں حقیقت میں اس قدیم یہودی خیال کی طرف لوٹتی ہے جس کا دانیال کی کتاب میں ذکر ہوا ہے 

 کتاب دانیال میں یہ لکھا ہوا ہیں جب مہدی وفات پا جائے گا تو اس کے بعد سبط اکبر کی اولاد سے پانچ لوگ بادشاہ بنیں گے پھر پانچ سبط اصغر کی اولاد سے ہوں گے پھر ان میں سے آخری خلیفہ سبط اکبر کی اولاد میں سے کسی کے نام خلافت کی وصیت کرے گا اس کے بعد اس کا لڑکا بادشاہ بن جائے گا اس طرح 12 بادشاہ ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک امام مہدی ہوگا۔

 فتح الباری جلد 13 صفحه 213  

 نتیجہ ۔۔۔۔

 شیعہ کا بارہ آئمہ کو محصور کرنے کا نظریہ بھی یہود سے لیا گیا ہے

 متعین تعداد آئمہ کے نظریے  کا بانی

شیعہ کی اہم ترین کتاب رجال الکشی میں یہ روایت ذکر ہوئی ہے جو یہ انکشاف کرتی ہے کہ شیطان الطاق وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ قول مشہور کرنا شروع کر دیا کہ امامت اہل بیت کےمخصوص افراد میں محصور ہے 

 تعارف شیطان الطاق

شیطان الطاق کا نام محمد ابن علی ابن نعمان ابوجعفر احول ہے جو 160ہجری کے قریب فوت ہوا اسی کی طرف یہ قول منسوب ہے کہ اللہ تعالی اس وقت تک کسی چیز کے متعلق کچھ نہیں جانتے جب تک وہ رونما نہیں ہو جاتی اور ایسی ہی دیگر گمراہی والی باتیں اس کی طرف منسوب ہیں اس کی طرف شیعوں کا ایک فرقہ  شیطانی یا نعمانیہ منسوب کیا جاتا ہےمعروف ہے کہ شیطان الطاق ہشام بن حکم  کا معاصر تھا (جس کا ذکر ہم شیعہ کے اصل اول توحید میں نظریہ تجسیم کے تحت کر آئے ہیں )حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ جب شیخ الرافضہ ہشام بن حکم کو معلوم ہوا کہ لوگوں نے اس کو شیطان الطاق کے القاب سے ملقب کیا ہےتو اس نے اسے مومن الطاق کے نام سے موسوم کیا ممکن ہے کہ وہ اس جرم میں ہشام بن حکم کے شریک ساتھیوں میں سے ایک ہو کیونکہ وہ مسئلہ امامت کے متعلق کتاب کی تالیف میں شریک تھا  جو اس جھوٹ کی بنیاد اور اس کا سبب ہے جیسا کہ اس جھوٹ اور بہتان سے متعلق روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں 

 الفصل جلد 5 صفحہ 39 

 رجال کشی صفحه 185 

 رجال النجاشی صفحہ 249 

 لسان المیزان جلد 5 صفحه 300 

 فرق الشیعۃ للنوبختی صفحہ 78 

 سفینہ البحار جلد 1 صفحہ 333 

 مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحه 111 

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 186 

 الانتصار لابن خیاط صفحہ 14 ۔،38

 متعلقہ نظریےکی روایات 

 روایت شیطان الطاق امامت اہل بیت کے مخصوص افراد میں منحصر ہے جب زید ابن علی کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس افواہ کی حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے اس کے پاس پیغام بھیجا انہوں نے اس سے کہا مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم یہ خیال کرتے ہوآل محمد میں ایک امام ہے جس کی اطاعت فرض کی گئی ہے ؟؟؟شیطان الطاق نے جواب دیا ہاں اور تمہارا باپ علی بن حسین ان میں ایک تھا تو انہوں نے کہا یہ کس طرح ہوسکتا ہے ؟؟؟اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ گرم وہ اس کو اپنے ہاتھ سے ٹھنڈا کرتا اور میرے منہ میں ڈالتا تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ جو میرے لیے روٹی کا گرم ٹکڑا برداشت نہیں کرتا تھا میرے لئے جہنم کی گرمی برداشت کرتا ؟؟؟؟؟

شیطان الطاق نے کہا میں نے ان سے کہا اس نے یہ بات اسی خوف کے پیش نظر تجھ کو بتانے سے گریز کیا کہ کہیں تم انکار کرکے کفر کا ارتکاب نہ کر لو اور اس کے پاس تمہاری شفاعت کا اختیار بھی نہ رہے اور تجھے جنت میں داخل کرنے کی اللہ کی بھی مشیت نہ رہے 

صفحہ 9 از 32