اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 32

 تاریخ المذاہب الاسلامیہ لابی زہرہ جلد 1 صفحہ 37    

 المعجم الفلسفی صفحہ 55 

 التعریفات للجرجانی صفحہ93 

 التدمیر یہ صفحہ 32 ضمن مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ جلد 3 

 منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 97 تا145 

 درءتعارض العقل والنقل جلد 1 صفحہ 118 119 

 التعریفات للجرجانی صفحہ 103 

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 232 

 الرازی اعتقادات فرق المسلمین والمشرکین ۔صفحہ 137 

 فجر الاسلام صفحہ 277 

 المنیة والعمل صفحہ 60 

 شرح الطحاویہ صفحہ 18 

مختصر تحفہ اثنا عشریہ مولف فرماتے ہیں کہ شیعہ مذہب کی یہودونصاری اور مجوس و مشرکین کے فرقوں کے ساتھ مکلمل مشابہت پائی جاتی ہےپھر انہوں نے ان مذاہب کے تمام فرقوں کے ساتھ شیعہ مذہب کی مشابہت کی وجوہات ذکر کی ہیں 

اسی طرح بعض محققین کا کہنا ہے کہ جب ہم نے شیعہ فرقوں پر تحقیق اور ان کا مطالعہ کیا تو ان میں تمام مذاہب و ادیان کے عقائد موجود تھے جن کو مٹانے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا 

  برکات عبدالفتاح الوحدانیہ صفحہ 125 

 نتیجہ ۔۔۔

 امامت منصوص من اللہ عصمت آئمہ مفترضة الطاعة رجعت کا نظریہ پیش کرنے والا سب سے پہلا شخص عبداللہ بن سباء یہودی تھا جس کو شیعت نے اپنا بنیادی عقیدہ بنایا 

 نظریہ امامت ایک راز تھا 

امامت کے مسئلہ میں شیعہ روایات اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ اسلامی خلافت کے ارکان کو زمین بوس کرنے کے لیے ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کیا گیا جس نے اس مقصد کے لیے اپنے کارکنان کے لیے یہ عقیدہ اور نظریہ وضع کیا اس لیے جوں ہی خلافت راشدہ کے عہد سعید میں اس کے چہرے سے نقاب اترا تو امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے خلاف بڑا سخت گیر مگر محکمانہ موقف اپنایا چنانچہ انہوں نے ابن سبا کا تعاقب کیا اس کو مدائن کی طرف جلاوطن کیا اور اسلامی معاشرے میں اس نے جو افکار پھیلانے کی کوشش کی انہوں نے ان کی تردید کی خود شیعہ کی کتابوں کو بھی اس کا اعتراف ہے لیکن بعد میں یہ جماعت( ابن سبا کے پیروکار) لوٹ آئے اور انہوں نے انتہائی رازدارانہ انداز میں اس نظریے کا پرچار شروع کر دیا 

 القالات والفرق صفحہ 20 

 فرق الشیعۃ و صفحہ 22 23 

 رجال کشی صفحہ 107 میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ابن سبا کو قتل کردیا تھا 

 روایت۔یہ گروہ علی رضا کے زمانے میں کہا کرتا تھا جس طرح ان کی طرف یہ روایت منسوب کرنے سے ظاہر ہوتا ہے 

۔اللہ تعالی نے اپنی ولایت کو رازدارانہ طریقے سے جبرائیل کے سپرد کیا جبرائیل نے اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں ڈال دیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خفیہ خفیہ علی کو دے دیا اور علی اس کو جس کو اللہ نے چاہا دے دیا پھر تم اس کو پھیلاتے ہو ؟؟کون ہے وہ جس نے کسی حرف کو سنا تو اس کو روک لیا ؟؟

 المازندرانی۔ شرح جامع جلد 9 صفحہ 123 

 روایت۔ ابو جعفر نے کہا الداؤد کی حکمت و دانائی کی باتوں میں سے ایک یہ حکمت ہے مسلمان کو اپنے نفس کا مالک ہونا چاہیے ذات کی اصلاح پر توجہ رکھنی چاہیے اپنے اہل زمانہ کی معرفت ہونی چاہیے لہٰذا اللہ سے ڈرو اور ہماری بات نہ پھیلاؤ 

 الکافی جلد 2 صفحہ 234 

 نوٹ۔ یہ روایات اشارہ دیتی ہیں کہ ولایت اصلا تنزیل الہی میں اسرار اورخفیہ امور میں داخل ہے اور اس کے بارے میں اظہار خیال سے خبردار کیا گیا یعنی اسلام کے ترقی یافتہ عہد زریں میں ولایت اور اس کے معاملے کے متعلق کسی آواز کی شنوائی نہیں ہوئی 

 شارح الکافی اس کی علت بیان کرتا ہے ۔

جب ان کے زمانے میں تقیہ شدت اختیار کرگیا تو انہوں نے اپنے شیعہ کو اپنے اسرار امامت احادیث اور ان کے مذہب کے خصوصی احکام سب کچھ چھپانے کا حکم دے دیا 

 المازندرانی۔ شرح جامع۔ جلد 9 صفحه 118  

 روایت۔ ہمارا راز افشا نہ کرو نہ ہمارا معاملہ نشر کرو 

 الکافی جلد 2 صفحہ 222 

اس روایت کی شرح میں شارح الکافی کہتا ہے یہ امامت اور خلافت کا معاملہ ہے 

 شرح جامع جلد 9 صفحہ 119 

 روایت ہماری بات نشر کرنے والا اس کے انکار کرنے والے کی طرح ہے 

 الکافی جلد 2 صفحہ 234 

یہ روایت جعفر کی طرف منسوب ہے اس کے متعلق شارح الکافی کہتا ہے

جان لو ان کو دشمنان دین سے اپنی اور شیعہ کی جان کا خوف تھا وہ ان کی وجہ سے شدید تقیہ کی کیفیت میں تھے اس لیے انہوں نے اپنی امامت کیا اپنے آباءکی امامت پر دلالت کرنے والی خبر کو پھیلانے سے منع کردیا  

 شرح جامع جلد 10 صفحہ 26

 ان کے درمیان راز داری قائم رکھنے کے لیے انہوں نے کہا ہے ہمارا معاملہ مقفی اور میثاق نقاب میں محفوظ ہے جس نے ہمارا پردہ چاک کیا اللہ اس کو ذلیل کرے گا 

 الکافی کے محقق نے یہاں حاشیہ میں کہا ہے کہ میثاق سے مراد وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے آئمہ علیہ الصلاۃ والسلام سے لیا تھا کہ اس معاملے کو دوسروں سے چھپا کر رکھیں 

 الکافی جلد 2 صفحہ 228۔27 حاشیہ 

 نوٹ ۔۔۔شیعہ کے بعض روایات ولایت کے راز کے افشاء کے آغاز کے تعین میں ذکر کرتے ہیں کہ یہ کام کسانیہ فرقہ کے ہاتھوں ہوا ایک روایت میں ہے ۔

 روایت۔ ہمارا راز چھپا ہوا تھا کہ یہ کیسان کی اولاد کے ہاتھ لگا تو انہوں نے اس کو گلی بازار اور مضافات کوفہ و بصرہ کی بستیوں میں موضوعِ سخن بنا دیا 

 الکافی جلد 2 صفحہ 223 

 روایت۔ ۔اپنی زبان روکے رکھو اور اپنے گھروں میں دبکے رہو تمہیں مخالفین سے کوئی ضررنہیں پنہچے گا اور تمہارا معاملہ تمہیں تک مخصوص رہے گا اور زیدیہ تمہارے لئے ہمیشہ ڈھال رہیں گے 

 الکافی جلد 2 صفحہ 225 

 خلاصہ روایات۔ 

 ان روایت میں اس بات کا احتمال ہے کہ زیدیہ کوطلبی ولایت کے اظہار کی پاداش میں مورد الزام ٹھہرایا جائے گا اور ان کی پکڑ دھکڑ ہوگی اور تم تقیہ کو اپنائے رکھنے کی بنا پر بچ جاؤ گے جس طرح شارح الکافی نے شرح جامع صفحہ 9/126پر بھی اس کا ذکر کیا ہے 

صفحہ 8 از 32