اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 7 از 32

٢۔۔۔۔۔بعض محققین شیعہ مذہب کو فارسی اثرات کی پیداوار قرار دیتے ہیں ابن حزم اور مقریزی الفصل جلد 2 صفحہ 273  المقریزی الخطط جلد 2 صفحہ 262  کہتے ہیں اہل فارس وسعت سلطنت دوسری اقوام پر غلبے اور ان کے دلوں میں رعب و دبدبہ کے سبب اپنے آپ کو احرار اور اسیاد کہا کرتے تھےاور دوسرے تمام لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے تھےلیکن جب عرب کے ہاتھوں زوال حکومت کی آزمائش سے دوچار ہوئے جبکہ عرب اہل فارس کی نظر میں سب سے کم وقعت کے حامل تھےانہوں نے مختلف اوقات میں جنگ و جدال کے ذریعے اسلام کو مٹانا چاہا لیکن ہر بار اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا تو ان لوگوں نے سوچا کے سازشی طریقہ کار سے کامیابی کی امید زیادہ ہے اس بنا پر ان میں سے ایک گروہ نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور اہل بیت کی محبت اور علی رضی اللہ عنہ پر ظلم کا پروپیگنڈاکیا اس طرح شیعہ نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی طرف مائل کیا اور ان کو مختلف راستوں پر چلاتےرہے حتی کہ انہیں راہ ہدایت سے برگشتہ کر دیا۔بعض محققین  تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 37  فجر الاسلام صفحہ 277  دراسات فی الفرق صفحہ 23  احزاب المعارضات وسیاست صفحہ 168  السیاسۃ العربیہ صفحہ 72 کہتے ہیں کہ اہل عرب کا شیوہ زندگی آزادی اور حریت تھاجبکہ اہل فارس کا نظام زندگی بادشاہت وملوکیت پر قائم تھا بادشاہ بادشاہی کے خاندان سے بنتا تھا اور وہ لوگ خلیفہ کے لیے انتخاب کے معنی سے بھی ناآشنا تھے چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور اپنے پیچھے جانشینی کے لیے کوئی اولاد نہ چھوڑی تو اب لوگوں میں آپ صلی اللہ وسلم کے سب سے قریبی رشتہ دار آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہی تھے لہذا اگر خلافت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جیسے کسی شخص نے حاصل کی ہے تو اس نے اصل حقدار سے یہ منصب کیا ہے۔جبکہ اہل فارس بادشاہت اور شاہی خاندان میں اس کی مورثیت کو دین کی حد تک مقدس سمجھا کرتے تھے لہذا انہوں نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو بھی اسی نظریے سے دیکھا اور کہا کہ امام کی فرمابرداری ضروری ہے اور اس کی اطاعت گزاری درحقیقت اللہ کی اطاعت گزاری  ہےفارس کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے لیکن اپنے قدیم عقائد سے کلیتاً چھٹکارانا پا سکے اور گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ آپنے انہیں قدیم نظریات کو اسلامی رنگ میں بنا سنوار کر پیش کرتے رہےاسی بنا پر شیعہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی طرف  انہیں نظروں سے دیکھتے ہیں جن نظروں سے وہ فارسی اپنے اولین آباواجداد ساسانی حکمرانوں کو دیکھا کرتے تھے شیخ ابوزہرہ  تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 38 فرماتے ہیں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ بادشاہ اور اس کی موروثیت سے متعلق فارسی افکار سے متاثر ہیں اسی لئے شیعہ مذہب اور اہل فارس کے بادشاہی نظام کے درمیان بڑی واضح مشابہت پائی جاتی ہے جس کی مزید تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ اہل فارس شیعہ ہیں اور اولین شیعہ فارسی النسل تھے     

جب مسلمانوں کے ہاتھوں ملک ایران فتح ھوا تو قیدیوں میں ایک ایرانی بادشاہ یزدگرد کی بیٹی بھی تھی جس سے حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۔اور ان سے اس کا بیٹا علی بن حسین تولد ہوا فارسیوں نے اپنے بادشاہ کی بیٹی سے پیدا ہونے والی اولاد کو اپنے قدیم بادشاہوں کا وارث خیال کیا اور سمجھا کہ علی بن حسین اور ان کی اولاد کی رگوں میں فارسی حکمران یزدگرد کی بیٹی سے تولد پذیر ہونے کے ناطے ایرانی اور ان کے مقدس ساسانی بادشاہوں کا خون دوڑتا ہے

 تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 248 

 الکافی جلد 1 صفحہ 53 

 سمیر اللیثی الزندقہ والثعوبیة صفحہ 52    

 عبداللہ الغریب وجاءدورالمجوس صفحہ 77 

 النشار نشاۃ  الفکر الفلسفی جلد 2 صفحہ 111 

 عبدالرزاق الحصان المھدی المہدویہ صفحہ 82 

 فاطمہ نام فارسیوں کے نزدیک بڑا مقدس نام ہے کیونکہ ان کی قدیم تاریخ میں فاطمہ کا مقام ومرتبہ نہایت قابل تعریف ہےفارسیوں کے خیال کےمطابق فاطمہ ہی کی بدولت سمردیس مجوسی کہ جو کیسا نیوں کے پایہ تخت پر قابض ہوگیا تھا متعلق حقیقت حال کا انکشاف ہوا تھا چنانچہ فاطمہ بڑی بہادر اور مقدس خاتون تھیں اگر وہ نہ ہوتے تو سمر دیس مجوسی کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلتا اور اگر وہ نہ ہوتے تو اس کا باپ اوتاس اور اس کے ساتھی سمردیس کے مقابلے میں مناسب تدبیر اختیار نہیں کر سکتے تھے 

 المہدی والمہدویہ صفحہ 84 

 عنھیرودوتس۔صفحہ 462 

 المقدس بداء التاریخ جلد 4 صفحہ 133 جلد 6 صفحہ 95 

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو ایسی خصوصیات اور صفات سے متصف کرتے ہیں جو بشری طاقت سے ماوراء ہیں یہاں تک کہ ان کو الہ قرار دیتے ہیں 

 رجال کشی صفحہ 15 صفحہ 16 صفحہ 19 صفحہ 6 صفحہ 7 

 مقالات الجسلامین جلد 1 صفحہ 80 

ابولولو فیروز مجوسی جس نے خلیفہ راشد عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اسے یہ لوگ بابا شجاع الدین کہا کرتے تھے اور جس دن عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ والمجوسی کے ہاتھوں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے اس دن کو شیعہ لوگ عید مناتے ہیں الجزائری نے کئی روایات نقل کی ہیں

 الکنی والالقاب جلد 2 صفحہ 55 

 انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 108 

کی طرح یہ لوگ مجوسیت حواریوں مینی روز کی بھی مجوسیوں کی طرح تعظیم کرتے ہیں روایات میں یہ اعتراف و اقرار موجود ہے کہ یوم نیروز مجوسیوں کا تہوار اور ان کی عید ہے 

 معتبس الاثر جلد 29 صفحہ 202 203  

 المجلسی بحار الانوار باب عمل یوم النیروز جلد 98 صفحہ419 

 وسائل الشیعۃ باب استحباب صوم یوم نیروز والغسل فیہ لبس انظف الثیاب والطیب جلد 7 صفحہ 346 

 بحارالانوار جلد 39 صفحہ 108 

٣۔۔۔۔بعض محققین نے شیعہ مذہب کوقدیم ایشیائی مذاہب بدھ مت وغیرہ کے عقائد پر مبنی ہےقراردیاہے

شیعیت ہی کےزیرسایہ تناسخ ارواح تجسیم الہی اور حلول جیسے دیگر عقائد جو زمانہ قبل از اسلام میں براہمہ فلاسفہ اور مجوس کے ہی معروف تھے مسلمانوں میں پھیل گئے بعض مستشرقین بھی شیعہ میں بہت سی غیر اسلامی عقائد کے سرایت کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں شیعہ میں یہ عقائد مجوسیت مانویت اور بدھ مت وغیرہ مذاہب سے منتقل ہوئے ہیں جو ظہور اسلام سے قبل ایشیا میں رائج تھے

صفحہ 7 از 32