اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 32

ماقبل ہم نے شیعہ مذہب کے آغاز کے متعلق اہم آراء ذکر کی ہیں اور ان پر حسب ضرورت نقد و تبصرہ بھی کیا ہے شیعہ مذہب ایک نظریہ اور عقیدہ بن کر اچانک ہی نمودار نہیں ہوا بلکہ یہ کئی وقتی تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور مختلف مراحل سے گزرا ہے البتہ شیعہ مذہب کے ابتدائی افعال اور اس کے بنیادی اصول فرقہ سبائیہ کے ہاتھ پر ظہور پذیر ہوئے تھےجیسا کہ کتب شیعہ بھی اس حقیقت کا اعتراف و اقرار کرتی ہیں کہ عبداللہ ابن سباءنے سب سے پہلے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت ضروری ہےاور یہ کہ علی رضی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں جیساکہ گزرچکا ہے بعینہ یہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منصوص من اللہ  امامت کا عقیدہ ہے جو شیعہ مذہب کی اساس ہے جیسا کہ شیعہ مذہب کی تعریف کے زمن میں ہم شیعہ عالم کا نظریہ ذکر کر چکے ہیں پھرسب کو یہ بھی معلوم ہوچکا کہ ابن سبا اور اس کی جماعت نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور سسر نسبی رشتے دار خلفاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھیوں ابوبکر و عمر عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن دراز کی تھی اور شیعہ بھی صحابہ کرام کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی کتب میں مرقوم ہے نیز ابن سباء ہی سب سے پہلے رجعت علی رضی اللہ عنہ کا قائل تھا اور اب یہی رجعت شیعہ مذہب کا بنیادی اصول ہے مزید برآں ابن سبا ہی نے یہ بات کہی تھی کہ علی اور اہل بیت کے پاس چند مخصوص مخفی علوم ہے جیسا کہ حسن بن محمد بن حنفیہ نے رسالہ الارجاء میں کہاں ہے اب یہ مسئلہ شیعہ کے بنیادی عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے 

 مقالات والفرق صفحہ 21 

 فرق الشیعۃ  صفحہ 23 

 مسائل إمامة صفحہ 22 23 

 مقالہ الاسلامیین جلد 1 صفحہ 86 

 التمبیہ والرد صفحہ 18 

 الفرق بین الفرق صفحہ 234 

 التبصیر فی الدین  صفحه 76 

 محصل افکار المتقدمین و المتاخرین صفحه 242 

 المواقف صفحہ 419 

 تہذیب التہذیب جلد 2 صفحہ 32 

 رسالة الإرجاء ص 249۔250

 صحیح بخاری میں بھی ایک اثر مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریہ بہت پہلے ظاہر ہوگیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں یا لوگوں کے پاس نہیں ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر اس کی حتمی تردید کی تھی 

  بخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 204 

 باب۔حرم۔المدينة۔

 باب۔فکاک۔الاسیر

 باب ذمة المسلمین و جوار ہم  ۔

 باب اثم من عاھد ثم عذر ۔

 باب اثم من تبرأ من موالیہ ۔

 باب العاقلہ۔ 

 باب لا یقتل مسلم بکافر ۔

 باب من یکرہ من التعمق والتنازع والغلو

 مسلم۔مع۔النووي 9/143/144/13/141

 نسائی المجتبی ،8/19

 ترمذی 4/668

 امام احمد 1/100

 یہی شیعہ مذہب کا اہم دینی اصول ہیں جو یقینا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں معرض وجود میں آئے تھے لیکن لوگوں میں ایک مخصوص فرقے کی صورت میں متعارف نہیں ہوئے تھے بلکہ فرقہ سبائیہ نے جیسے ہی اپنا سر نکالا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسےنابود کردیالیکن اس کے متصل بعد رونما ہونے والے واقعات معرکہ صفین واقعہ تحکیم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت وغیرہ نے ان عقائد کے ظہور اور انہیں جماعتی قالب میں ڈھالنے کے لئے مناسب فضا مہیا کر دیں  

 مجموع الفتاوی ابن تیمیہ جلد 20 صفحه 466 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 

 فتح الباری جلد 2 صفحہ 270 

 التنبیہ والرد صفحہ 18 

 التبصیر فی الدین صفحہ 70 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 220 

 تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

١۔۔۔۔۔بعض محققین کی رائے ہے شیعہ مذہب کی بنیاد یہودیت پر قائم ہے  القمی مقالات والفرق صفحہ-20  نوبختی فرق الشیعہ الصفحہ22   رجال الکشی صفحہ 108 ان متقدمین شیعہ علماء نے ابن سبا کے نظریات (وصیت امامت رجعت)  کا تذکرہ کیا جو کہ بعد میں شیعہ کے عقائد بن گئے۔

پہلا اور جامع ترین بیان امام شعبی سے مروی ہے  تہذیب التہذیب جلد 5 صفحہ 5  السنہ میں روایت موجودہے۔کہ شیعہ  اور یہود کے فکری و نظریاتی اصولوں میں بڑی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ابن حزم  الفصل جلد 5 صفحہ 37 شیعہ بھی یہود کے نقش قدم پر گامزن ہے جو کہتے ہیں کہ یقینا الیاس علیہ السلام اور فنحاس علیہ السلام بن العازار بن ہارون علیہ السلام آج تک زندہ ہیں امام ابن تیمیہ منہاج السنۃ جلد 1 صفحہ 6  فرماتے ہیں شیعہ میں جہالت غلو اور خواہش کی پیروی جیسی خصلتیں موجود ہیں جن کے سبب ایک اعتبار سے وہ نصاری سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ایک مستشرق عالم گولڈ زہیر العقیدۃ والشریعۃ صفحہ 215  کہتا ہے کہ شیعہ میں رجعت کا عقیدہ یہودیت اور نصرانیت کے زیر اثر پیدا ہوا ہے  ایک مشتشر ق فریڈلینڈر  عالم العقیدۃ والشریعۃ صفحہ 100 کہتا ہے شیعوں نے اپنے بنیادی عقائد یہودیت سے اخذ کیے ہیں مستشرق فلہوزن احذابالمعارض صفحہ 170  بھی شیعیت کو یہودیت سے ماخوذ بتاتا اور ان دونوں کے درمیان فکری مشابہت کا تذکرہ کرتا ہے   

 پروفیسر احمد امین کہتے ہیں  فجر الاسلام صفحہ 276 شیعہ کا رجعت کا عقیدہ یہودیت کے زیر اثر ہےشیعہ کہتے ہیں کہ شیعہ شخص پر تھوڑی مدت کے سوا آگ حرام  کی گئی ہے یہی بات بعینی ہیں یہود کہتے ہیں تھے اسی طرح امام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف مسیح کی نسبت کے مانند ہے یہ عیسائی اثرات کا نتیجہ ہے  

صفحہ 6 از 32