اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 32

 جس طرح امامت کی منادی کی گئی اس طرح کسی چیز کی منادی نہیں کی گئی ان کی ایک دوسری حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے اس میں صاف طور پریہ بات بھی مذکور ہے اور یہ اضافہ بھی ہے راوی کہتا ہے میں نے کہ دیا ولایت افضل ہے 

 الکافی جلد 2 صفحہ 18 

 الشافی جلد 5 صفحہ 59 

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحه 191 

 البرھان جلد 1 صفحہ 303 

 بحارالانوار جلد 1 صفحه 354 

 ایک تیسری روایت بھی پہلی روایت ہی کی طرح ہے جس میں یہ اضافہ ہے اس نے ان کو چار فرائض میں سے کچھ اشیاء کی رخصت دی لیکن کسی مسلمان کو ہماری ولا یت ترک کرنے کی رخصت نادی۔خدا کی قسم اس میں کوئی رخصت نہیں 

 الکافی جلد 2 صفحہ 22 

 مرآۃ العقول جلد 4 صفحہ 369 

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان کی طرف 120 مرتبہ لے جایا گیا ہر مرتبہ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ولایت علی اور ان کے بعد والے آئمہ کی ولایت کی وصیت فرائض کی وصیت سے زیادہ کی اس نے بندوں پر امامت کے اقرار سے بڑھ کر کسی چیز کی تاکید نہیں کی لیکن بندوں نے بھی سب سے زیادہ اسی کا انکار کیا ہے 

 الخصال صفحہ 600۔601

 بحار الانوار جلد 23 صفحہ 69 

 قرب الاسناد صفحہ 123

خلاصہ۔۔۔  

اہلتشیع محقیقین نے آئمہ اہلبیت کے فضائل اور اہمیت ثابت کرنے کے لیے سکڑوں روایات گھڑی ہیں اور صرف الکافی ہی میں آئمہ کی فضیلت واہمیت میں (90)ابواب باندھے ہیں  

 نتیجہ ۔۔

شیعہ محقیقین نے اپنے ائمہ کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملانے کی کوشش کی ہے اور تقریبا الکافی میں ہی امامت کی اہمیت اور امامت کا مفہوم اور فضائل بیان کرنے میں سو کے قریب باب باندھے ہیں جبکہ شیعہ کے ہر بڑے محدث ومفسر ومحقق وفقیہ نے حتی الامکان کوشش کی ہے اور اپنے اس عقیدے کو اسلامی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے باطل استدلات باطل تاویلات کی ہیں لیکن سچ سچ ہی ہوتا ہے چھپائے نہیں چھپتا۔ 

آخر نظریہ امامت منصوص من اللہ  عصمت آئمہ کا نظریہ آیا کہاں سے تو اس کو بھی ہم شیعہ کتب سے تلاش کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلا کہ شیعہ کا نظریہ امامت آیا کہاں سے اس کو ایجاد کس نے کیا اس میں تاویلات کیا ہوئیں

  شیعہ محققین کے اقرارکے مطابق انہوں نے اصولِ امامت خود بڑھایا ہے 

  ولكن الشيعة الإمامية زادوا (ركناً خامساً) وهو: الإعتقاد بالإمامة. يعني أن يعتقد: أن الإمامة منصب إلهي كالنبوة،

 ترجمہ۔ ۔لیکن شیعہ امامیہ نے ایک رکن بڑھا کر پانچ رکن بنا دیے اور وہ عقیدہ امامت ہے یعنی شیعوں کا عقیدہ ہے

 اصل الشیعة و اصولها

 معروف شیعی عالم خمینی صاحب نے اپنی کتاب ”کشف الاسرار“ میں امامت پر گفتگو کی ہے اور اس پر دلائل دینے کی کوشش کی ہے۔ قبل اس سے کہ اس کے دلائل کا جائزہ لیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خمینی صاحب کی اس توجیہ کا بھی جائزہ لیا جائے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پیش کی ہے۔ اسی کتاب کے ص105 پر ایک سوال اٹھایا کہ:

 چرا خدا چنیں اصلا مهم را یک بار هم در قرآن صریح نہ گفت کہ ایں ہمہ نزاع و خونریزی بر سر ایں کار پیدا نشود.

 ترجمہ: کیوں اللہ تعالیٰ نے اس اہم اصل (بنیاد) کو قرآن میں صراحتاً ایک بار بھی بیان نہ فرمایا تاکہ اس سلسلہ میں جو اختلاف اور خونریزی ہوئی وہ پیدا ہی نہ ہوتی؟

اس سوال کے کئی جوابات جو خمینی صاحب نے دیے، ان میں سے ایک یہ ہے:

 در صورتیکہ امام را در قرآن ثبت می کردند آنہائیکہ جز برائے دنیا و ریاست با اسلام وقرآن سروکار نداشتد و قرآن را وسیلہ اجراء نیات فاسدہ خود کردہ بودند آں آیات را از قرآن بر دارند و کتاب آسمانی را تحریف کنند.

(کشف الاسرار ص 114)

 ترجمہ: اس صورت میں کہ امام کا قرآن میں ذکر کردیا جاتا تو وہی لوگ جو دنیا طلبی کے سوا اسلام اور قرآن سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے اور قرآن کو اپنی فاسد نیتوں کا ذریعہ بنا رکھا تھا، ان آیات کو جن میں امام کا ذکر ہوتا قرآن سے نکال دیتے اور آسمانی کتاب میں تحریف کردیتے۔

خلاصہ۔۔۔

اہلتشیع محققین خود اقرار کنندہ ہیں کہ نظریہ امامت کو اہلتشیع نے خود اصول الدین میں زیادہ کیا ہے جب کہ ہم تعرف ایمانیات میں بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کےبیان کردہ اصول الدین کیا ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ اصول الدین کیا ہیں اورامت مسلمہ کے بیان کردہ اصول الدین کیاہیں جبکہ اہلتشیع اصول کے مطابق جب ہم اہلتشیع سے سوال کرتے ہیں کہ اپنے اصول الدین کےبیان میں کوئی ایک روایت رسول اللہ کی بیان کردہ پیش کردیں تو وہ عاجز ہوجاتےہیں اور یہی وہ وجہ ہے کہ شیعہ فرقوں کی تعداد 300الخطط المقریزی اصل الشیعہ نے 100مسعودی نے 70 یعقوبی نے 80لکھی ہے اوروجہ افتراق یہی ہے کہ امامت فی نفسہ کے بارے میں قران میں کچھ بھی نازل نہیں ہوا ہے۔توتحقیق کرنے کا پہلویہ ہے کہ نظریہ امامت آیا کہاں ہے ؟؟؟

 اس نظریےامامت کا سب سے پہلا بانی ایک یہودی النسل عبداللہ بن سباء تھا اس کوبھی ہم شیعہ کتب سے کھوجتے ہیں 

   شیعہ کتب کی روشنی میں عبداللہ بن سباء کے  عقائد 

شیعہ مذہب کا نامور عالم اور فقیہ سعد بن عبداللہ القمی  ابن سبا کے وجود کا اعتراف اور اس کے چند ساتھیوں کا نام تک ذکر کرتا ہے جو اس کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے تھے پھر اسکے فرقہ کو سبائیہ نام سے ملقب کرتا اور کہتا ہے کہ دین اسلام میں سب سے پہلے غلو کا اظہار کرنے والا یہی فرقہ تھا اور بعدازاں ابن سبا کو وہ پہلا شخص قرار دیتا ہے جس نے ابو بکر عمر عثمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر اعلانیہ طعن وتشنیع کا اظہار کیا اور ان سے برات ظاہر کی اور دعوی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ  نے اسے اس کام کاحکم دیا ہے پھر سعد قمی ذکر کرتا ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کو اس کے عقائد کی خبر ہوئی تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن پھر چھوڑ دیا اور صرف اسے مدائن کی طرف جلاوطن کرنے پر اکتفا کیا جس طرح اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے 

 المقالات والفرق ص20

صفحہ 4 از 32