اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 32 از 32

اہل علم اہلسنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ رسول کے سوا ہر شخص کا قول اپنایا بھی جاسکتا ہے اور چھوڑا بھی جا سکتا ہے مگر رسول کا نہیں اس کی  ہرخبر کی جو اس نے دی تصدیق کرنا جو حکم دیا اس کو بجا لانا جس سے منع کیا اسے رک جانا واجب اور لازم ہے نیز جو شریعت اور طریقہ آپ نے بتایا ہے اس کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کی جاسکتی ہے کیونکہ وہی ایسا معصوم ہے جو اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ اس وحی کی پیروی کرتا ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے 

(منہاج السنہ جلد 3 صفحہ 175) 

بہت زیادہ تعداد میں سنت مطہرہ بھی اس پر دلالت کرتی ہیں ہم نے یہ چند آیات پیش کی ہیں جوکہ شیعہ کا نظریہ امامت وعصمت ائمه سے متصادم ہیں اسلام 

الاسلام بین الافراط و التفریط والا راستہ ہے نہ کہ شیعہ نظریات کی طرح تناقض تصادم تفریط افراط اور تضادات والا راستہ جو باطل تأویلات باطل استدلال اور باطل قیاس آرائیوں کی بنیاد پر گھڑا جانے والا مزہب اللہ ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہم سب کو سمجھ عطاء کرے ۔۔۔

 واللہ اعلم ۔۔۔۔۔تمت


صفحہ 32 از 32