اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 31 از 32

امت اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے ساتھ غلطی سے معصوم و محفوظ ہے اور گمراہی پر اتفاق نہیں کر سکتی امت کی یہ عصمت  امام کی عصمت سے بے نیاز کر دیتی ہے لہذا اس کی عصمت نبوت کے قائم مقام ہے اب کسی کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اس میں کچھ تبدیلی کرے اس لئے ماقبل ذکر کی جانے والی آیت میں اللہ تعالی نے مومنوں کی راہ کو رسول کی اطاعت کے ساتھ مربوط و مقرون کر دیا ہےلہذا امت کی عصمت اور گمراہی سے محفوظ رہنا جس طرح اس کا شرعی دلائل میں ذکر ہوا ہے اس شخص کی مکمل مخالفت کرتا ہے جومسلمانوں میں سے کسی ایک کی عصمت کو لازمی قرار دیتا ہے اور مجموعی طور پر مسلمانوں کے لئے اگر ان میں کوئی معصوم نہ ہو تو خطا اور غلطی کے رواں ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے

(المنتقی مختصر صفحه 401)

٢۔۔۔آیة 

اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ عِیۡسٰی وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡنُسَ وَ ہٰرُوۡنَ وَ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ  زَبُوۡرًا ﴿۱۶۳﴾ۚ

یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح  ( علیہ السلام )  اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی اورہم نےوحی کی ابراهیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اُن کی اولاد پر اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف اور   ہم نےداؤد (  علیہ السلام )  کو زبور عطا فرمائی۔  

بلاشبہ اللہ تعالی نے ائمہ کا ذکر نہیں کیا یہ آیت شخصی امامت کے قول کو باطل کر دیتی ہے جو مخلوق کے لئے رسول کے علاوہ کسی دوسرے یعنی ائمہ کی ضرورت کو لازمی قرار دیتا ہے 

(مجموع الفتاوی جلد 19 صفحہ 66)

٣۔۔۔آیة 

قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ  اِلٰۤی  اِبۡرٰہٖمَ  وَ  اِسۡمٰعِیۡلَ وَ  اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی وَ مَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ  رَّبِّہِمۡ ۚ  لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ   ۫ ۖ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾

 اے مسلمانوں! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز  ابراہیم ،  اسماعیل اسحاق اور یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اورعیسیٰ(علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء  ( علیہ السلام  ) دیئے گئے ۔  ہم اُن میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ،  ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں ۔  

عصمت آئمہ کا دعوی نبوت میں مشارکت کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے اور معصوم کے ہر قول کی اتباع واجب ہے اس کی کسی بھی بات میں مخالفت کرنا جائز نہیں یہ انبیاء کی خصوصیت ہے ماقبل آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ ہم کہیں جو نبیوں کو دیا گیا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو انبیاء لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے پس جس نے رسول کے اثبات کسی کو معصوم قرار دیا جس کے ہر قول پر ایمان لانا واجب ہو اس نے اس کو ضرور نبوت کا معنی دے دیا ہے اگرچہ لفظ نبوت نہیں بولا

(منہاج السنہ جلد 3 صفحہ 173)

۴۔۔۔آیة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ  وَّ  اَحۡسَنُ  تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾                   

 اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالٰی کی اور فرمانبرداری کرو رسول  ( صلی اللہ علیہ و سلم )  کی اور تم میں سے اختیار والوں کی پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالٰی کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اگر تمہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبارِ انجام کے بہت اچھا ہے۔  

اللہ تعالی نے ہمیں اختلاف اور تنازعہ کے وقت کتاب و سنت کے علاوہ کسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم نہیں دیا اگر لوگوں کے لئے رسول کے علاوہ بھی کوئی معصوم ہوتا تو ان کو اس کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا جاتا چنانچہ قرآن کریم اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ رسول کے سوا کوئی معصوم نہیں 

(منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 105) 

۵۔۔۔آیة 

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

 اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول  ( صلی اللہ علیہ وسلم  ) کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیاہے جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یه بهترین رفیق ہیں ۔  

٦آیة۔

اِلَّا  بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِسٰلٰتِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ  وَ  رَسُوۡلَہٗ  فَاِنَّ  لَہٗ  نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ  فِیۡہَاۤ   اَبَدًا ﴿ؕ۲۳﴾

 البتہ ( میرا کام  ) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات  ( لوگوں کو )  پہنچا دینا ہے  ( اب )  جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے ۔  

قرآن کریم نے بہت سارے مواقع پر اس بات پر دلالت کی ہے کہ جس نے رسول کی اطاعت کی وہ خوش بخت ہے اور اس میں کسی دوسرے معصوم کے اتباع کی شرط نہیں لگائی نیز یہ بھی کئی جگہ فرمایا ہے کہ جس نے رسول کی نافرمانی کی اس کے لئے دوزخ کی وعید اور دھمکی ہے چاہے وہ یہ خیال کرتا رہا ہوکہ اس نے اپنے گمان کے مطابق جس کو معصوم سمجھا اس کی اتباع  کی ہے 

نتیجہ۔

صفحہ 31 از 32