اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 30 از 32

 خلاصہ۔۔۔۔۔۔حافظ ابن حجر فرماتے ہیں وفی قصۃ اہل نجران من الفوائد ان اقرار الکافر با لنبوۃ فلا یدخل فی الاسلام حتی یلتزم احکا م الاسلام وفیہا جواز مجادلۃ اھل الکتاب وقد تجب اذا تعینت مصلحۃ وفیھا مشروعیۃ مباھلۃ المخالف اذا اصر بعد ظھور الحجۃ وقد دعا ابن عباس الی ذلک ثم الاوزاعی ووقع ذلک لجماعۃ من العلماءاومما عرف بالتجربۃ ان من باھل وکان مبطلارد تمضی علیہ سنۃ من یوم المباھلۃ ووقع لی ذلک مع شخص لبعض الملاحدۃ فلم یقم بعد ھا غیر شھرین وفیھا مصالحۃ اھل الذمۃ علی مایراہ الامام من اصناف المال وفیھا بعث الامام الرجل العالم الامین الی اھل الذمۃ فی مصلحۃ الاسلام وفیھا منقبۃ ظاہر ۃ لابی عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ عنہ وقد ذکر ابن اسحاق ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعث علیا الی اھل نجران لیاتیہ بصدقاتہم وجزیتھم وھذہ القصۃ غیر قصۃ ابی عبیدۃ لان ابا عبیدۃ توجہ معھم فقبض مال الصلح ورجع وعلی ارسلہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد ذلک یقبض منھم مااستحق علیہم من الجزیۃ ویاخذ ممن اسلم منھم ماوجب علیہ من الصدقۃ واللہ اعلم ( فتح الباری )

ترجمہ۔

حافط ابن حجر فرماتے ہیں کہ اہل نجران کے قصے میں بہت سے فوائد ہیں جن میں یہ کہ کافر اگر نبوت کا اقرار کرے تویہ اس کو اسلام میں داخل نہیں کرے گا جب تک جملہ احکام اسلام کا التزام نہ کرے اور یہ کہ اہل کتاب سے مذہبی امور میں مناظرہ کرنا جائز ہے بلکہ بعض دفعہ واجب ، جب اس میں کوئی مصلحت مد نظر ہو اور یہ کہ مخالف سے مباہلہ کرنا بھی مشروع ہے جب وہ دلائل کے ظہور کے بعد بھی مباہلہ کا قصد کرے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ایک حریف کو مباہلہ کی دعوت دی تھی اور امام اوزاعی کو بھی ایک جماعت علماءکے ساتھ مباہلہ کا موقع پیش آیا تھا اور یہ تجربہ کیا گیا ہے کہ مباہلہ کرنے والاباطل فریق ایک سال کے اندر اندر عذاب الہی میں گرفتار ہوجاتا ہے اور میرے ( علامہ ابن حجر کے ) ساتھ بھی ایک ملحد نے مباہلہ کیا وہ دو ماہ کے اندر ہی ہلاک ہوگیااور یہ کہ اس سے امام کے لیے مصلحتا اختیار ثابت ہوا ، وہ ذمی لوگوں کے اوپر مال کی قسموں میں سے حسب مصلحت جزیہ لگائے اور یہ کہ امام ذمیوں کے پاس جس آدمی کو بطور تحصیلدار مقرر کرے وہ عالم امانت دارہواور اس میں حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ کی منقبت بھی ہے اور ابن اسحاق نے ذکر کیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران والوں کے ہاں تحصیل زکوۃ اور اموال جزیه کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا یہ موقع دوسراہے حضرت ابوعبیده رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ صرف صلح نامہ کے وقت طے شدہ رقم کی وصولی کے لیے بھیجا تھا، بعد میں علی رضی اللہ عنہ کو ان سے مقررہ جزیہ سالانہ وصول کرنے اور جومسلمان ہوگئے تھے ان سے اموال زکوۃ حاصل کرنے کے لیے بھیجاتھا۔

نتیجہ۔

ماقبل ذکر کی گئی آیت اور اس کے شانزول سے متعلق روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ  حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما حضرت فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور ان حضرات کی فضیلت مسلم ہے اس کا کوئی منکر نہیں بلکہ کوئی کافر ہی منکر ہو گا ناکہ خلافت وامامت وعصمت اسی طرح وہ روایات جن میں صدیق اکبر اور ان کے فرزند رضی اللہ عنہم حضرت عمر اور ان کے فرزند رضی اللہ عنہم حضرت عثمان اور ان کے فرزند رضی اللہ عنھم اجمعین کی مباہلہ میں شرکت کا ذکر ہے وہ بھی بطور فضیلت ہے ناکہ بطور امامت وخلافت وعصمت تو اس آیت اور ان روایات سے شیعہ کا نظریہ عصمت آئمہ ثابت نہیں ہوتا 

شیعہ کا تیسری آیت سے استدلال 

آیة۔ 

وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی  اِبۡرٰہٖمَ  رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ  اِمَامًا  ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ  ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾

ترجمہ۔ 

جب ابراہیم  ( علیہ السلام )  کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا  اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا عرض کرنے لگے میری اولاد کو  فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں ۔  

طرزاستدلال۔

ہمارے اصحاب کا اس آیت سے استدلال کے امام و ہی ہوسکتا ہے جو معایب اور قباحتوں سے معصوم ہو اس بنیاد پر ہے کہ اللہ تعالی نے یہ نفی کی ہے کہ اس کا عہدہ جو امامت ہے کسی ظالم کو پہنچے وہ یا تو اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے یا دوسرے پر اگر یہ کہا جائےکہ ظالم ظلم کی حالت میں اس عہدہ کو نہیں پا سکتا

سوال۔

 اگر توبہ کر لے تو اس کو ظالم نہیں کہا جائے گا چنانچہ اس کا اس عہدہ کو پانا درست ہوگا؟

جواب۔

 اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظالم اگر توبہ بھی کر لیں تب بھی وہ اس حالت سے خارج نہیں کہ آیت اس وقت اس کو شامل تھی جب وہ ظالم تھا جب یہ نفی کی کہ وہ اس کو پائے گا تو اس پر یہ حکم لگا دیا کہ وہ اس کو نہیں پا سکے گا آیت مطلق ہے ایک وقت کو چھوڑ کر کسی دوسرے وقت کے ساتھ مقید نہیں لہذا اس کو تمام اوقات پر محمول کرنا واجب ہے اور ظالم چاہے بعد میں توبہ بھی کر لے تب بھی اس کو نہیں پا سکے گا 

(مجمع البیان جلد 1 صفحه 201) 

(التبیان جلد 1 صفحه 419 )

(بحار الانوار جلد 25 صفحہ 191 )

(اصل الشیعۃ صفحه 59) 

(اعیان الشیعة جلد 1 صفحه 458)   

خلاصه استدلال۔

اہل تشیع نے دوٹوک موقف اختیارکیاہے کہ توبہ تائب کام آنےوالی نہیں ہےبلکہ جو اس حالت پر تھا اسی پر رہیے گا تو چند سوالات پیداہوتے ہیں۔

کوئی شخص پہلے شیعہ نہیں تھا پھر شیعت اختیار کی تووہ شیعہ شمار ہوگایانہیں ہوگا؟؟؟

کیا یہی نظریہ یہود کا نہیں ہے کہ جس شخص نے یہودیت اختیارکی پھر بھی اصلا یہودی نہیں ہوسکتا؟؟؟ 

ردونقد۔

١۔۔۔آیة

وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ  سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۱۱۵﴾٪              

 جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول   ( صلی اللہ علیہ وسلم  ) کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے  ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے   ،  وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔

صفحہ 30 از 32