اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 29 از 32

۵۔۔۔اگر معیت اور رفاقت مراد ہے اور اسی سے آپ استدلال کرتے ہیں تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت سمیت اور بہت سارے مواقع پر اکیلے رسول ﷺ  کے ساتھ تھے تو اس صورت میں بھی استدلال باطل ہے۔ 

شان نزول کی روایت سے استدلال۔

اکثر شیعہ حضرات الزامی طور پر اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور حوالے کئی کتابوں اور تفاسیر کے دیتے ہیں 

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ (مباہلے والی) آیت:

آیة

﴿نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ﴾

اور (مباہلے کے لیے) ہم اپنے بیٹے بلائیں تم اپنے بیٹے بلاؤ۔ 

نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رضی اللہ عنہم اجمعین) کو بلایا اور فرمایا:

(اَللّٰھُمَّ ھٰؤ لا أھلي)

اے اللہ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔

(صحیح مسلم: 32/2404 و ترقیم دارالسلام: 6220)

(زمخشری، نے اپنی تفسیر

الزمخشری، تفسیر الکشاف، ذیل آیه 61 آل عمران)

(فخر رازی نے اپنی تفسیر

الرازی، التفسیر الکبیر، ذیل آیه 61 آل عمران)

(بیضاوی نے اپنی تفسیر البیضاوی، تفسیر انوار التنزیل واسرار التاویل، ذیل آیه 61 آل عمران)

میں اور دیگر مفسیرین نے کہا ہے کہ:

ابناءنا (ہمارے بیٹوں) سے مراد حسن (ع) اور حسین (ع) ہیں اور " نسا‏‏ءنا " سے مراد فاطمہ زہراء علیہا السلام اور " انفسنا " ہمارے نفس اور ہماری جانوں ] سے مراد حضرت علی (ع) ہیں۔ یعنی وہ چار افراد جو آنحضرت (ص) کے ساتھ مل کر پنجتن آل عبا یا اصحاب کساء کو تشکیل دیتے ہیں۔ اور اس آیت کے علاوہ بھی زمخشری اور فخر رازی، کے مطابق آیت تطہیر اس آیت کے بعد ان کی تعظیم اور ان کی طہارت پر تصریح و تاکید کے لیے نازل ہوئی ہے،

روایت سے استدلال کے جوابات

١۔۔۔صحيح البخاري - حدیث 4380

كِتَابُ المَغَازِي

بَابُ قِصَّةِ أَهْلِ نَجْرَانَ

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا قَالَا إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا فَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

ترجمہ۔ 

صحیح بخاری - حدیث 4380

کتاب: غزوات کے بیان میں

باب: نجران کے نصاریٰ کا قصہ۔۔مجھ سے عباس بن حسین نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے ، ان سے ابو اسحاق نے ، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید ، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کروکیونکہ خدا کی قسم ! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا توہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی ، پھر ان دونوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیا ر ہیں ۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئے ، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہو نا ضروری ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہوگا بلکہ پورا پورا امانت دار ہوگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے ، آپ نے فرمایا ابو عبیدہ بن الجراح ! اٹھو ، جب وہ کھڑے ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں ۔

٢۔۔۔اگر مباہلے کے لیے حضرت علی حضرت حسنین حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو ساتھ لے جانا معصومیت کی علامت ہے تو پھر حضرات ابوبکر اور ان کے بیٹے عمر اور ان کے بیٹے عثمان اور ان کےبیٹے یہ تمام مباہلے میں موجود تھے جیسا کہ روایات میں موجود ہیں  

روایت۔

عن جعفر بن محمد عن ابیہ فی ھذہ الایت تعالوا ندع أبناءنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة

قال فجاءبابی بکروولدہ وبعمروولدہ وبعثمان وولدہ وبعلی وولدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے فرمایا آپ مباہلہ کے روز صدیق اکبر اور ان کے فرزند حضرت عمر اور ان کے فرزند حضرت عثمان اور ان کے فرزند حضرت علی اور ان کے فرزند کو ساتھ لائے 

(تفسیر در منثور آیه 61 سوره آل عمران جلد 2 صفحہ 40)

(روح المعانی آیه 61 سوره آل عمران 

جلد 1 صفحہ 406)  

نتیجہ۔۔

 تو جناب کا استدلال ہی باطل ہے کیونکہ اس طرح ان تمام لوگوں کا معصوم ہونا ثابت آتا ہے 

جب کہ روایات میں آپ دیکھ سکتے ہیں 

مباہلے میں دوسرے حضرات کے ناجانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ تفسیر طبرسی جلد 3 صفحه 192 

روایت

حدثنا ابن حمران قال حدثنا جرير قال فقلت المغیرة ان الناس یروون  فی حدیث النجران ان علیا معھم فقال ام الشعبی لم یذکره۔ ۔۔۔

ترجمہ۔

جریرہ نے مغیرہ سے روایت کی ہے کہ لوگ حدیث نجران میں علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی رفاقت اور معیت کا ذکر کرتے ہیں لیکن شعبی نے ان کا ذکر نہیں کیا خداجانے باہمی مناقشات کی وجہ سے یا ویسے حدیث میں ان کا ذکر نہیں تھا 

اب جب ان احادیث میں اتفاق نہیں ہے اور روایات مختلف فیہ ہیں تو استدلال باطل ہو جاتا ہے 

صفحہ 29 از 32