اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 28 از 32

اورموالی کے متعلق حدیث میں کچھ اس طرح ذکر ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ( غلام ) مھران بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

بلاشبہ ہم آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پرصدقہ حلال نہیں اورقوم کے مولی انہیں میں سے ہوتے ہیں 

(مسند أحمد حديث 15152 ) 

روایت

تواس طرح نبی صلی اللہ علیہ کی آل اوراہل بیت میں ان کی ازواج مطہرات ، ان کی اولاد ، اوربنو ھاشم ، اور بنو عبدالمطلب ، اوران کے موالی شامل ہوۓ

نتیجہ۔

اہل تشیع کا استدلال اس حدیث سے بھی باطل ہے اور دعوی اہل سنت کا ہی درست ہے ورنہ قرآن مجید کی بہت ساری آیات اور احادیث مبارکہ سے تعارض تضاد و تصادم  لازم آتا ہے کہ رسول ﷺ  کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن اورآل رسول ﷺ   دونوں قیامت تک کے لیے اہل بیت میں شامل ہیں۔

 شیعہ کا دوسری آیت سے استدلال

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (61)

ترجمہ۔

جب تمہارے پاس علم یعنی قرآن آچکا تو اس کے بعد بھی اگر تم سے کوئی نصرانی عیسیؑ کے بارے میں حجت کرے تو کہو کہ اچھا میدان میں آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کوہم اپنی جانوں کو بلائیں تم اپنی جانوں کو اس کے بعد ہم سب مل کر خدا کی بارگاہ میں گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں 

ترجمہ فرمان علی شیعہ 

استدلال اہل تشیع 

۔۔۔نصاری نجران نے کہا کہ عیسی علیه الصلاۃ السلام ابن اللہ تھےسرور کائنات رسول ﷺ  نے فرمایا وہ تو آدم علیہ السلاۃ السلام کی طرح مخلوق تھےتو وہ ابن اللہ کیسے ہو سکتا ہے جب معاملہ ذرا حد سے زیادہ ہوا تو بالاتفاق فریقین فیصلہ یہ ہوا کہ دونوں فریق اپنے اہل و عیال اور جماعت کے آدمیوں کو لے آئیں اور میدان میں آکر مباہلہ کریں چنانچہ رسول ﷺ  حضرت علی رضی اللہ عنہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور سیدۃ النساء حضرت فاطمہ الزھرا رضی اللہ تعالی عنہاکو لے کر میدان میں آگئے جب نصاریٰ نے دیکھا تو گھبرا گئے اور مباہلے سے کترا گئےاس سے حسب ذیل امور معلوم ہوئے 

١۔۔۔۔یہ تمام لوگ معصوم تھے اور اہل بیت سے تھے ورنہ ساتھ لانے کا کیا فائدہ تھا 

٢۔۔۔رسول ﷺ  حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے ساتھ لائے کہ وہ انفسنا میں داخل تھے اور حسنین رضی اللہ عنہما ابناءنا میں اور حضرت سیدۃ النساءنا فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا میں شامل ہیں 

٣۔۔۔۔جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ہوئے تو یقینا آپ کے بعد درجہ خلافت بھی ان کو ملنا چاہیے 

جوابات۔

١۔۔۔الإعراب:

الفاء عاطفة (من) اسم شرط جازم مبنيّ في محلّ رفع مبتدأ (حاجّ) فعل ماض مبنيّ على الفتح في محلّ جزم فعل الشرط والكاف ضمير مفعول به، والفاعل ضمير مستتر تقديره هو (في) حرف جرّ الهاء ضمير في محلّ جرّ متعلّق ب (حاجّ) على حذف مضاف أي في أمره (من بعد) جارّ ومجرور متعلّق ب (حاجّ)، (ما) اسم موصول مبنيّ في محلّ جرّ مضاف إليه، (جاء) فعل ماض والكاف ضمير مفعول به، والفاعل ضمير مستتر تقديره هو (من العلم) جارّ ومجرور متعلّق بمحذوف حال من الضمير المستتر في جاء الفاء رابطة لجواب الشرط (قل) فعل أمر والفاعل أنت (تعالوا) فعل أمر مبنيّ على حذف النون..

والواو فاعل (ندع) مضارع مجزوم فهو جواب الطلب والفاعل ضمير مستتر تقديره نحن (أبناء) مفعول به منصوب و(نا) ضمير في محلّ جرّ مضاف إليه الواو عاطفة في المواضع الخمسة (وأبناءكم، ونساءنا، ونساءكم وأنفسنا، وأنفسكم) ألفاظ مركّبة من مضاف ومضاف إليه معطوفة بحروف العطف على (أبناء) منصوبة مثله (ثم) حرف عطف (نبتهل) مضارع مجزوم معطوف على ندع، والفاعل نحن الفاء عاطفة (نجعل) مضارع مجزوم معطوف على (نبتهل)، والفاعل نحن (لعنة) مفعول به منصوب (اللّه) لفظ الجلالة مضاف إليه مجرور (على الكاذبين) جارّ ومجرور متعلّق بمحذوف مفعول به ثان ل (نجعل).. أي نجعل لعنة اللّه واقعة على الكاذبين...

جملة: (من حاجّك) لا محلّ لها معطوفة على جملة إنّ مثل... في الآية السابقة.

وجملة: (حاجّك) في محلّ رفع خبر المبتدأ (من).

وجملة: (جاءك) لا محلّ لها صلة الموصول (ما).

وجملة: (قل...) في محلّ جزم جواب شرط جازم مقترنة بالفاء.

وجملة: (تعالوا) في محلّ نصب مقول القول.

وجملة: (ندع) لا محلّ لها جواب شرط مقدّر غير مقترنة بالفاء.

وجملة: (نبتهل) معطوفة على جملة ندع.

وجملة: (نجعل) لا محلّ لها معطوفة على جملة نبتهل.

الصرف:

(تعالوا)، فيه إعلال بالحذف، حذفت الألف الساكنة قبل واو الجماعة الساكنة تخلّصا من التقاء الساكنين، وفتح ما قبل الواو دلالة عليها، أو هو فعل جامد يأتي في الأمر بإسناد الضمائر اليه، أو من غير إسناد الضمائر (تعال)، وعلى ذلك فليس فيه حذف ولا إعلال.

(ندع)، فيه إعلال بالحذف لمناسبة الجزم، وزنه نفع.

(الكاذبين)، جمع الكاذب، اسم فاعل من كذب الثلاثيّ وزنه فاعل.

ترکیب کے لحاظ سے کوئی قرینہ کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حسنین رضی اللہ عنہما اور حضرت فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا کو شامل ہیں صرف راوی کے وہم و گمان پر عقائد قائم نہیں کئے جاسکتے اس میں کون کون شامل تھے وہ ہم روایت کے ضمن میں زکر کریں گے ان شاء اللہ  

٢۔۔۔ آیت قطعی الدلاله و الدلالت النص نہیں ہے بلکہ استدلال کا دارومدار روایت پر ہے تو رویت کے بارے میں بحث روایت پیش کرکے کریں گے۔ان شاءاللہ  

٣۔۔۔ رسول ﷺ  اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان میں تناسب کونسا ہے 

اگر انفسانا سے ہم تناسب تساوی کالیں تو نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ جس طرح رسول ﷺ  آخری نبی ہیں اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ آخری نبی ہیں نعوذبالله

اور اگر ہم کوئی اور تناسب لیتے ہیں تو معامله وجھگڑا ختم اور استدلال باطل ہے 

۴۔۔۔اگر انفسنا سے حقیقی نفس مراد لیا جائے گا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کا کیا حکم ہے اگر مجازا ہے تو استدلال باطل ہے 

صفحہ 28 از 32