اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 27 از 32

رسول ﷺ  کے پرورده حضرت عمربن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے گھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت ''اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔'' نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اﷲ علیہم کو بلایا اور انہیں ایک کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی! میں (بھی) ان کے ساتھ ہوں، فرمایا : تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔''

اعتراضات۔

١۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ یہ ہی میرے اہل بیت ہیں۔

٢۔۔۔ یا آپ نے فرمایا ہو کہ اس کے علاوہ اور کوئی میرے اہل بیت میں سے نہیں ہے ۔

٣۔۔۔اب اگر ان روایات کی روشنی میں صرف اہل بیت وہی ہیں جو چادر کے نیچے تھے۔ 

تو کیاحکم ہے ان عورتوں کا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وفات فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بعد نکاح کیا؟؟؟

۴۔۔۔کیا حکم ہے ان اہل بیت اطہار کاجو بعد میں پیدا ہوے؟؟؟

۵۔۔۔کیاحکم ہےان اہل بیت کا جن کی عصمت کا دعوی بعد کاہے؟؟؟

تبصرہ۔

١۔۔۔قرآنِ مجید میں اہلِ بیت سے مراد ازواج اور اولاد ہے:

قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ.

فرشتوں نے کہا: کیا تم اﷲ کے حکم پر تعجب کر رہی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔

(هُوْد، 11: 73)

٢۔۔۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے لیے قرآن مجید میں اہل بیت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِذْ رَأَى نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا.

جب موسٰی (علیہ السلام) نے (مدین سے واپس مصر آتے ہوئے) ایک آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا میں نے ایک آگ میں انس و محبت کا شعلہ پایا ہے)۔

(طهٰ، 20: 10)

٣۔۔۔عزیز مصر کی بیوی کے لیے بھی اہل کا لفظ استعمال ہوا ہے:

قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا إِلاَّ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ.

وہ (فورًا) بول اٹھی کہ اس شخص کی سزا جو تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اور کیا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ قید کر دیا جائے یا (اسے) دردناک عذاب دیا جائے۔

(يُوْسُف، 12: 25)

۴۔۔۔حضرت ایوب علیہ السلام کے زوجہ اور بچوں کے لیے بھی اہل کا لفظ استعمال ہوا ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ.

تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں جو تکلیف (پہنچ رہی) تھی سو ہم نے اسے دور کر دیا اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال (بھی) عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (عطا فرما دیئے)۔

(الْأَنْبِيَآء، 21: 84)

نتیجہ

تویہ سب آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ زوجہ اہل بیت اورآل دونوں اہلبیت میں داخل ہیں۔

 آل عبدالمطلب کے بارے میں

١۔۔۔امام احمد سے روایت ہے کہ وہ اہل بیت میں سےہیں  ۔

٢۔۔۔امام شافعی رحمہ اللہ تعالی نے بھی یہی کہا ہے ۔

٣۔۔امام ابوحنیفہ اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ آل عبدالمطلب آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل نہيں اورامام احمد رحمہ اللہ تعالی سے یہ قول بھی مروی ہے۔

اس مسئلہ میں راجح قول یہی ہے کہ بنو عبدالمطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں شامل ہیں اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے :

روایت 

جبیربن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اورعثمان بن عفان رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گۓ اورہم نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بنومطلب کودیا اورہمیں محروم رکھا ہے حالانکہ ہمارا اوران کا مرتبہ آپ کے ہاں ایک ہی ہے ۔

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : بلاشبہ بنومطلب اوربنوھاشم ایک ہی چیز ہیں 

(صحیح بخاری حدیث 2908 ) 

(سنن نسائی حدیث (4067 ) وغیرہ نے بھی روایت کی ہے۔

اہل بیت میں بنوھاشم بن عبدمناف جو کہ آل علی ، آل عباس ، آل جعفر ، آل عقیل ، اورآل حارث بن عبدالمطلب شامل ہیں اس کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے زيد بن ارقم رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے ۔

روایت

زیدبن ارقم رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ کےدرمیان ماءخما کے مقام پر ہمیں خطبہ ارشادفرمایا اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمانے لگے :

اما بعد۔ اے لوگو بلاشبہ میں ایک بشر اورانسان ہوں قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا بھیجا ہوا آجاۓ تومیں اس کی دعوت پرلبیک کہوں ( موت کی طرف اشارہ ہے ) اور یقینا میں تم میں دواشیاء چھوڑ کر جارہا ہوں ان میں سے پہلی اللہ عزوجل کی کتاب جس میں نورو هدایت ہے ، اللہ تعالی کی کتاب کوتھام لو اوراس پرمضبوطی اختیار کرو ، توانہوں نے کتاب اللہ پرعمل کرنے کےلیے ابھارا اوراس میں رغبت دلائی۔

اورفرمایا : میرے اہل بیت ، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، حصین نے کہا کہ اے زيد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا ان ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ، توانہوں نے کہا ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں ، لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے ، انہوں نے کہا وہ کون ہیں ؟ وہ کہنے لگے :

وہ آل علی اورآل عقیل ، اورآل جعفر ، اورآل عباس رضي اللہ تعالی عنہم ہیں ، انہوں نے پوچھا کیاان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ زید نے جواب دیا جی ہاں ۔ 

(مسند احمد حدیث نمبر ( 18464 ) ۔

روایت

صفحہ 27 از 32