اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 26 از 32

 ترجمہ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق نازل ہوئی ہے حضرت عکرمہ بھی یہی کہتے ہیں بلکہ تفسیرروح المعانی میں ہے کہ جو چاہے میں اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہو بات تو یہی سچی ہے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عورتوں کے متعلق نازل ہوئی ہے 

 اور عکرمہ نے یہ بھی کہا ہےلوگ وہ بات جس کی طرف تم جا رہے ہو بلکہ اس سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی عورتیں ہیں 

 تفسیر ابن کثیر  

 روح المعانی 

 تفسیر خازن

 4۔۔۔۔ اس آیت میں بھی یہی سیاق اور سباق اور افعال استعمال ہوے ہیں تو یہ آیت جس کو مخاطب ہے وہ بھی اہل تشیع اصول سے معصوم ہونے چاہیں 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (5:6)

 اِذۡ یُغَشِّیۡکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنۡہُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً  لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ وَ یُذۡہِبَ عَنۡکُمۡ رِجۡزَ الشَّیۡطٰنِ وَ لِیَرۡبِطَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ وَ یُثَبِّتَ بِہِ  الۡاَقۡدَامَ ﴿ؕ۱۱﴾

۵۔۔۔پھر انما حصر کے لیے ہے بالفرض اگر مان لیا جائے حضرت علی حسن حسین رضی اللہ عنھم معصوم ہیں لیکن دوسرے آئمہ عصمت میں کس دلیل سے شامل ہیں اور بارہ آئمہ کے علاوہ اہل بیت میں سے  جن تین سو آئمہ کی عصمت کا دعوی دوسرے شیعہ فرقوں نے کیا ہے وہ عصمت میں شامل کیوں نہیں ہیں جیسا کہ الخطط مقریزی جلد ٢صفحہ ٣۵١پر مذکور ہے ان کو امامیہ کافر کہتے ہیں کیا وہ اہل بیت کی اولادیں نہیں ہیں ؟؟؟؟؟؟

 نتیجہ۔۔۔اس آیت سے استدلالِ اہل تشیع کسی بھی صورت ثابت نہیں ہوتا    

ناتو یہ آیت دلالت النص و قطعی الدلاله ہے ناہی سیاق سباق کے اعتبار سے کوئی مناسب تاویل ہوسکتی ہے اور ناہی کوئی قرینہ ِ تخصیص موجود ہے تو اہل تشیع کا استدلال شانزول کی روایات سے ہے ناکہ قرآن سے تو قران نے استدلال کہنا ہی باطل ہے 

 روایت سے استدلال  

اہل بیت کے لغوی معنی

لغت میں اہل بیت سے مراد 

امام اللغۃ حسین بن محمد راغب اصفهانی اور محمد مرتضیٰ الزبیدی فرماتے ہیں:

اهل الرجل من يجمعه و اياهم نسب او دين او مايجري مجراهما من صناعة وبيت وبلد فأهل الرجل في الأصل من يجمعه وإياهم مسکن واحد ثم تجوز به فقيل أهل بيت الرجل لمن يجمعه اياهم نسب و تعورف في أسرة النبي صلیٰ الله عليه وآله وسلم مطلقا إذا قيل أهل البيت لقوله عزوجل {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ} 

(احزاب، 33: 33) وغير بأهل الرجل عن امرأته وأهل الإسلام الذين يجمعهم ولما کانت الشريعة حکمت برفع حکم النسب في كثير من الاحکام بين المسلم و الکافر قال تعالیٰ {إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ} 

(هود، 11: 46)

ترجمہ

کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہیں جو اس کے نسب یا دین یا پیشہ یا گھر یا شہر میں شریک اور شامل ہوں۔ لغت میں کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہیں جو کسی کے گھر میں رہتے ہوں پھر مجازاً جو لوگ اس کے نسب میں شریک ہوں ان کو بھی اس کے اہل کہا جاتا ہے اور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے لوگوں کو بھی مطلق اہل بیت کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید کی اس آیت میں ہے {بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے} کسی شخص کی بیوی کو اس کے اہل سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اہل اسلام ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو سب انسانوں کے ماننے والے ہوں۔ چونکہ اسلام نے مسلم اور کافر کے درمیان نسب کا رشتہ منقطع کر دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا {بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے}

(اصفهانی، المفردات في غريب القرآن، 1: 29، بيروت، لبنان: دار المعرفة)

(الزبيدي، تاج العروس، 28: 41، دار الهداية)

روایت۔

حضرت ام سلمیٰ والی حدیث

نزلَت هذِهِ الآيةُ على النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا في بيتِ أمِّ سلَمةَ، فدعا النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ فاطمَةَ وحَسنًا وحُسَيْنًا فجلَّلَهُم بِكِساءٍ وعليٌّ خَلفَ ظَهْرِهِ فجلَّلَهُ بِكِساءٍ ثمَّ قالَ: اللَّهمَّ هؤلاءِ أَهْلُ بيتي فأذهِب عنهمُ الرِّجسَ وطَهِّرهم تطهيرًا قالَت أمُّ سلمةَ: وأَنا معَهُم يا رسولَ اللَّهِ؟ قالَ: أنتِ على مَكانِكِ وأنتِ إلي خَيرٍ

الراوي: عمر بن أبي سلمة (صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 3787)

ترجمہ۔

صفحہ 26 از 32