اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 25 از 32

  اعتراض شیعہ کی طرف سے کہ امہات المومنین مونث ہیں یہ ضمیر جمع مزکر حاضر کی لائی گئی ہے تو یہ تو تضاد بیانی ہے اور اس سے مراد حضرت علی حسن حسین رضی اللہ عنھم ہیں 

 جناب لفظ اہل بیت استعمال کیا گیا ہے جو کہ واحدمزکر ہےاور معناجمع مزکر ہے  تو یہ اعتراض ہی باطل ہے

ان آیات میں بائیس ضمیریں جمع مونث حاضر کی ہیں اور تین حروف نداء جن میں سے دو ازواج مطہرات سے متعلق ہیں تو جناب جو قیاس آپ کر رہیے ہیں اور جو آیت سے چاہتے ہیں وہ باطل ہے  

اورقرآن حدیث اور کلام عرب میں کئی مثالیں موجود ہیں 

 قَالُوٓاْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

 حدیث کساء میں ۔

وَأَذْھِبْ عَنْھُمُ  الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیراً

٢۔۔۔آیت استدلال اہل تشیع پر دلالۃالنص وقطعی الدلاله نہیں ہے 

کیونکہ ماقبل اور مابعد کا سیاق جو ہے وہ اہل بیت کو شامل ہے فارسی اور دوسری لغات میں یہ مشہور ہے کہ اہل بیت گھروالیاں ہوتی ہیں 

توسیاق وسباق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ آیت ازواج مطہرات کوہی خطاب ہے اگر تاویلا اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو شامل کرلیا جائے تو تب بھی مسلک اہل سنت کے خلاف نہیں ہے 

 سیاق وسباق

  Surat No 33 : Ayat No 28 

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ  قُلۡ  لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ  کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ  الۡحَیٰوۃَ  الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾

 اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں 

   Surat No 33 : Ayat No 29 

وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ  وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ  فَاِنَّ اللّٰہَ  اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ  اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾

 اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو  ( یقین مانو کہ )  تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالٰی نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں 

 Surat No 33 : Ayat No 30 

یٰنِسَآءَ  النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ  مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ  یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

 اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی  ( کا ارتکاب )  کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا  اور اللہ تعالٰی کے نزدیک یہ بہت ہی سہل  ( سی بات )  ہے 

 Surat No 33 : Ayat No 31 

وَ مَنۡ یَّقۡنُتۡ مِنۡکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تَعۡمَلۡ صَالِحًا نُّؤۡتِہَاۤ  اَجۡرَہَا مَرَّتَیۡنِ ۙ وَ  اَعۡتَدۡنَا  لَہَا  رِزۡقًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾

 اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر  ( بھی )  دوہرا دیں گے  اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے ۔  

 Surat No 33 : Ayat No 32 

یٰنِسَآءَ  النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ  اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ  الَّذِیۡ  فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ  قُلۡنَ  قَوۡلًا  مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾

اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو  اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے  اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔  

 Surat No 33 : Ayat No 33 

وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ  الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ  وَ  اَطِعۡنَ اللّٰہَ  وَ  رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾

 اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو  اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو  اللہ تعالٰی یہی چاہتا ہے کہ اے  نبی کی گھر والیو!  تم سے وہ  ( ہر قسم کی )  گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے ۔  

 Surat No 33 : Ayat No 34 

وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ  بُیُوۡتِکُنَّ  مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ  وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا ﴿۳۴﴾

 اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو  یقیناً اللہ تعالٰی لطف کرنے والا خبردار ہے ۔

 نوٹ آیت نمبر 34 بغیر کسی خطاب کےازواج مطہرات سے مخاطب ہے     

٣۔۔۔۔أقوال المفسرين

وقوله : ( إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا ) :  وهذا نص في دخول أزواج النبي صلى الله عليه وسلم في أهل البيت هاهنا; لأنهن سبب نزول هذه الآية ، وسبب النزول داخل فيه قولا واحدا ، إما وحده على قول أو مع غيره على الصحيح

 ترجمہ۔ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت نص ہے ازواج النبی ﷺ کواہل بیت ہونے میں اور ازواج النبی ﷺ ہی اس آیت کاسبب نزول ہیں  

 تفسیر ابن کثیر متعلقه آیت 

 وروى ابن جرير : عن عكرمة أنه كان ينادي في السوق : ( إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا ) ،  نزلت في نساء النبي صلى الله عليه وسلم خاصة 

 ترجمہ ابن جریر نے کہا بے شک عکرمہ بازاروں میں نداء کرتا تھا کہ یہ آیت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے حق میں نازل ہوئی ہے 

 تفسیر ابن کثیر 

 تفسیر ابن مسعود 

 تفسیر روح المعانی 

، وهكذا روى ابن أبي حاتم قال :حدثنا علي بن حرب الموصلي ، حدثنا زيد بن الحباب ، حدثنا حسين بن واقد ، عن يزيد النحوي ، عن عكرمة عن ابن عباس في قوله : ( إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ) قال : نزلت في  نساء النبي صلى الله عليه وسلم خاصة

وقال عكرمة : من شاء باهلته أنها نزلت في أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فإن كان المراد أنهن كن سبب النزول دون غيرهن فصحيح ، وإن أريد أنهن المراد فقط دون غيرهن ، ففي هذا نظر; فإنه قد وردت أحاديث تدل على أن المراد أعم من ذلك :

صفحہ 25 از 32