اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 24 از 32

 سمیر اللیثی الزندقہ والثعوبیة صفحہ 52    

 عبداللہ الغریب وجاءدورالمجوس صفحہ 77 

 النشار نشاۃ  الفکر الفلسفی جلد 2 صفحہ 111 

 عبدالرزاق الحصان المھدی المہدویہ صفحہ 82 

 فاطمہ نام فارسیوں کے نزدیک بڑا مقدس نام ہے کیونکہ ان کی قدیم تاریخ میں فاطمہ کا مقام ومرتبہ نہایت قابل تعریف ہےفارسیوں کے خیال کےمطابق فاطمہ ہی کی بدولت سمردیس مجوسی کہ جو کیسا نیوں کے پایہ تخت پر قابض ہوگیا تھا متعلق حقیقت حال کا انکشاف ہوا تھا چنانچہ فاطمہ بڑی بہادر اور مقدس خاتون تھیں اگر وہ نہ ہوتے تو سمر دیس مجوسی کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلتا اور اگر وہ نہ ہوتے تو اس کا باپ اوتاس اور اس کے ساتھی سمردیس کے مقابلے میں مناسب تدبیر اختیار نہیں کر سکتے تھے 

 المہدی والمہدویہ صفحہ 84 

 عنھیرودوتس۔صفحہ 462 

 المقدس بداء التاریخ جلد 4 صفحہ 133 جلد 6 صفحہ 95 

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو ایسی خصوصیات اور صفات سے متصف کرتے ہیں جو بشری طاقت سے ماوراء ہیں یہاں تک کہ ان کو الہ قرار دیتے ہیں 

 رجال کشی صفحہ 15 صفحہ 16 صفحہ 19 صفحہ 6 صفحہ 7 

 مقالات الجسلامین جلد 1 صفحہ 80 

ابولولو فیروز مجوسی جس نے خلیفہ راشد عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اسے یہ لوگ بابا شجاع الدین کہا کرتے تھے اور جس دن عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ والمجوسی کے ہاتھوں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے اس دن کو شیعہ لوگ عید مناتے ہیں الجزائری نے کئی روایات نقل کی ہیں

 الکنی والالقاب جلد 2 صفحہ 55 

 انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 108 

کی طرح یہ لوگ مجوسیت حواریوں مینی روز کی بھی مجوسیوں کی طرح تعظیم کرتے ہیں روایات میں یہ اعتراف و اقرار موجود ہے کہ یوم نیروز مجوسیوں کا تہوار اور ان کی عید ہے 

 معتبس الاثر جلد 29 صفحہ 202 203  

 المجلسی بحار الانوار باب عمل یوم النیروز جلد 98 صفحہ419 

 وسائل الشیعۃ باب استحباب صوم یوم نیروز والغسل فیہ لبس انظف الثیاب والطیب جلد 7 صفحہ 346 

 بحارالانوار جلد 39 صفحہ 108 

٣۔۔۔۔بعض محققین نے شیعہ مذہب کوقدیم ایشیائی مذاہب بدھ مت وغیرہ کے عقائد پر مبنی ہےقراردیاہے

شیعیت ہی کےزیرسایہ تناسخ ارواح تجسیم الہی اور حلول جیسے دیگر عقائد جو زمانہ قبل از اسلام میں براہمہ فلاسفہ اور مجوس کے ہی معروف تھے مسلمانوں میں پھیل گئے بعض مستشرقین بھی شیعہ میں بہت سی غیر اسلامی عقائد کے سرایت کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں شیعہ میں یہ عقائد مجوسیت مانویت اور بدھ مت وغیرہ مذاہب سے منتقل ہوئے ہیں جو ظہور اسلام سے قبل ایشیا میں رائج تھے

 تاریخ المذاہب الاسلامیہ لابی زہرہ جلد 1 صفحہ 37    

 المعجم الفلسفی صفحہ 55 

 التعریفات للجرجانی صفحہ93 

 التدمیر یہ صفحہ 32 ضمن مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ جلد 3 

 منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 97 تا145 

 درءتعارض العقل والنقل جلد 1 صفحہ 118 119 

 التعریفات للجرجانی صفحہ 103 

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 232 

 الرازی اعتقادات فرق المسلمین والمشرکین ۔صفحہ 137 

 فجر الاسلام صفحہ 277 

 المنیة والعمل صفحہ 60 

 شرح الطحاویہ صفحہ 18 

مختصر تحفہ اثنا عشریہ مولف فرماتے ہیں کہ شیعہ مذہب کی یہودونصاری اور مجوس و مشرکین کے فرقوں کے ساتھ مکلمل مشابہت پائی جاتی ہےپھر انہوں نے ان مذاہب کے تمام فرقوں کے ساتھ شیعہ مذہب کی مشابہت کی وجوہات ذکر کی ہیں 

اسی طرح بعض محققین کا کہنا ہے کہ جب ہم نے شیعہ فرقوں پر تحقیق اور ان کا مطالعہ کیا تو ان میں تمام مذاہب و ادیان کے عقائد موجود تھے جن کو مٹانے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا 

برکات عبدالفتاح الوحدانیہ صفحہ 125 

 ۔۔۔نتیجہ

مسئلہ یہ ہے کہ شیعہ مذہب ان کے آئمہ کا مذہب نہیں رہا علماء و شیوخ کا مذہب بن کر رہ گیا مجلسی ان نصوص اور روایات کو دیکھ کر جو اس کے ہم مذہب افراد کے اجماع کی مخالفت کرتی ہیں آنگشت بدندان ہے اور کہتا ہے 

 یہ مسئلہ بہت زیادہ اشکال کا شکار ہے کیونکہ بہت ساری اخبار اور نشانیاں ان سے سہو کے صدور پر دلالت کرتی ہیں نیز اصحاب کا اجماع بھی اس پر دلالت کرتا ہے سوائے ان افراد کے جنہوں نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے عدم جواز کا مذہب اپنایا ہے 

 بحارالانوار جلد 25 صفحه 351 

مجلسی کا کھلے الفاظ میں اعتراف ہے کہ ائمہ کی مطلقا عصمت پر متاخرین شیعہ کا اجماع ان کی روایات کی مخالفت ہےیہ ایک حقیقی دلیل اور صریح اعتراف ہے کہ وہ گمراہی اور عدم دلیل پر حتی کہ اپنی کتابوں کے بھی خلاف  اجماع کیے بیٹھے ہیں 

  عصمت ائمہ پر استدلات اہل تشیع  

  Surat No 33 : Ayat No 33 

وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ  الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ  وَ  اَطِعۡنَ اللّٰہَ  وَ  رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾

 اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو  اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو  اللہ تعالٰی یہی چاہتا ہے کہ اے  نبی کی گھر والیو!  تم سے وہ  ( ہر قسم کی )  گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے ۔ 

 اہل تشیع کا استدلال 

اہل تشیع حضرات آیت کے اس ٹکڑے سے استدلال کرتے ہیں تو ہم سب سے پہلے اس ٹکڑے کی ترکیب پیش کرتے ہیں تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ یہ آیت کے اس ٹکڑے کا ماقبل ومابعد سے کیا تعلق ہے 

 ترکیب و اعراب 

   اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا

اللہ تعالٰی یہی چاہتا ہے کہ اے  نبی کی گھر والیو!  تم سے وہ  ( ہر قسم کی )  گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے

وجملة: (إنّما يريد اللّه...) لا محلّ لها استئناف بيانيّ.

وجملة: (يذهب...) لا محلّ لها صلة الموصول الحرفيّ (أن) المضمر.

وجملة: (يطهّركم...) لا محلّ لها معطوفة على جملة يذهب.

1...ترکیب آیت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ آیت کاحصہ ماقبل کے لیے بیانیہ ہے کوئی الگ حکم نہیں ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ ماقبل میں تمام تر ذکر امہات المومنین کا ہے تو آیت کا یہ حصہ بھی امہات المومنین کے لیے ہی ہے 

صفحہ 24 از 32