اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 23 از 32

۔مجلسی کا عصمت ائمہ کے نظریے کا انہدام ان کی اپنی ہی روایات و اقوال سے ہو جاتا ہے جب اس سے سوال کیا جائے اجماع کب ہوا جب کہ تمہارا شیخ صدوق اور اس کا استاد ابن ولید دونوں ہی اس مذہب کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں 

 ان دونوں کی مخالفت اجماع کے لیے غیر مضر ہے کیونکہ دونوں کا نسب معروف ہے

 بحارالانوار جلد 25 صفحات 350 351 

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی کتابوں میں اثبات سہو کے متعلق اپنے ائمہ کی منقول صریح روایات کو رد کرتے ہیں اور ایسے اجماع کو لیے پھرتے ہیں جو محض احتمال اور گمان کے ذریعے غائب معصوم کے قول کا انکشاف کرتا ہے

 تبصرہ۔۔۔

اب ہم ابن سباء کےبارے متفرق مورخین اور مستشرقین کے اقوال پیش کرتے ہیں 

١۔۔۔۔۔بعض محققین کی رائے ہے شیعہ مذہب کی بنیاد یہودیت پر قائم ہے  القمی مقالات والفرق صفحہ-20  نوبختی فرق الشیعہ الصفحہ22   رجال الکشی صفحہ 108 ان متقدمین شیعہ علماء نے ابن سبا کے نظریات (وصیت امامت رجعت)  کا تذکرہ کیا جو کہ بعد میں شیعہ کے عقائد بن گئے۔

پہلا اور جامع ترین بیان امام شعبی سے مروی ہے  تہذیب التہذیب جلد 5 صفحہ 5  السنہ میں روایت موجودہے۔کہ شیعہ  اور یہود کے فکری و نظریاتی اصولوں میں بڑی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ابن حزم  الفصل جلد 5 صفحہ 37 شیعہ بھی یہود کے نقش قدم پر گامزن ہے جو کہتے ہیں کہ یقینا الیاس علیہ السلام اور فنحاس علیہ السلام بن العازار بن ہارون علیہ السلام آج تک زندہ ہیں امام ابن تیمیہ منہاج السنۃ جلد 1 صفحہ 6  فرماتے ہیں شیعہ میں جہالت غلو اور خواہش کی پیروی جیسی خصلتیں موجود ہیں جن کے سبب ایک اعتبار سے وہ نصاری سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ایک مستشرق عالم گولڈ زہیر العقیدۃ والشریعۃ صفحہ 215  کہتا ہے کہ شیعہ میں رجعت کا عقیدہ یہودیت اور نصرانیت کے زیر اثر پیدا ہوا ہے  ایک مشتشر ق فریڈلینڈر  عالم العقیدۃ والشریعۃ صفحہ 100 کہتا ہے شیعوں نے اپنے بنیادی عقائد یہودیت سے اخذ کیے ہیں مستشرق فلہوزن احذابالمعارض صفحہ 170  بھی شیعیت کو یہودیت سے ماخوذ بتاتا اور ان دونوں کے درمیان فکری مشابہت کا تذکرہ کرتا ہے   

 پروفیسر احمد امین کہتے ہیں  فجر الاسلام صفحہ 276 شیعہ کا رجعت کا عقیدہ یہودیت کے زیر اثر ہےشیعہ کہتے ہیں کہ شیعہ شخص پر تھوڑی مدت کے سوا آگ حرام  کی گئی ہے یہی بات بعینی ہیں یہود کہتے ہیں تھے اسی طرح امام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف مسیح کی نسبت کے مانند ہے یہ عیسائی اثرات کا نتیجہ ہے  

٢۔۔۔۔۔بعض محققین شیعہ مذہب کو فارسی اثرات کی پیداوار قرار دیتے ہیں ابن حزم اور مقریزی الفصل جلد 2 صفحہ 273  المقریزی الخطط جلد 2 صفحہ 262  کہتے ہیں اہل فارس وسعت سلطنت دوسری اقوام پر غلبے اور ان کے دلوں میں رعب و دبدبہ کے سبب اپنے آپ کو احرار اور اسیاد کہا کرتے تھےاور دوسرے تمام لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے تھےلیکن جب عرب کے ہاتھوں زوال حکومت کی آزمائش سے دوچار ہوئے جبکہ عرب اہل فارس کی نظر میں سب سے کم وقعت کے حامل تھےانہوں نے مختلف اوقات میں جنگ و جدال کے ذریعے اسلام کو مٹانا چاہا لیکن ہر بار اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا تو ان لوگوں نے سوچا کے سازشی طریقہ کار سے کامیابی کی امید زیادہ ہے اس بنا پر ان میں سے ایک گروہ نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور اہل بیت کی محبت اور علی رضی اللہ عنہ پر ظلم کا پروپیگنڈاکیا اس طرح شیعہ نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی طرف مائل کیا اور ان کو مختلف راستوں پر چلاتےرہے حتی کہ انہیں راہ ہدایت سے برگشتہ کر دیا۔بعض محققین  تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 37  فجر الاسلام صفحہ 277  دراسات فی الفرق صفحہ 23  احزاب المعارضات وسیاست صفحہ 168  السیاسۃ العربیہ صفحہ 72 کہتے ہیں کہ اہل عرب کا شیوہ زندگی آزادی اور حریت تھاجبکہ اہل فارس کا نظام زندگی بادشاہت وملوکیت پر قائم تھا بادشاہ بادشاہی کے خاندان سے بنتا تھا اور وہ لوگ خلیفہ کے لیے انتخاب کے معنی سے بھی ناآشنا تھے چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور اپنے پیچھے جانشینی کے لیے کوئی اولاد نہ چھوڑی تو اب لوگوں میں آپ صلی اللہ وسلم کے سب سے قریبی رشتہ دار آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہی تھے لہذا اگر خلافت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جیسے کسی شخص نے حاصل کی ہے تو اس نے اصل حقدار سے یہ منصب کیا ہے۔جبکہ اہل فارس بادشاہت اور شاہی خاندان میں اس کی مورثیت کو دین کی حد تک مقدس سمجھا کرتے تھے لہذا انہوں نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو بھی اسی نظریے سے دیکھا اور کہا کہ امام کی فرمابرداری ضروری ہے اور اس کی اطاعت گزاری درحقیقت اللہ کی اطاعت گزاری  ہےفارس کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے لیکن اپنے قدیم عقائد سے کلیتاً چھٹکارانا پا سکے اور گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ آپنے انہیں قدیم نظریات کو اسلامی رنگ میں بنا سنوار کر پیش کرتے رہےاسی بنا پر شیعہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی طرف  انہیں نظروں سے دیکھتے ہیں جن نظروں سے وہ فارسی اپنے اولین آباواجداد ساسانی حکمرانوں کو دیکھا کرتے تھے شیخ ابوزہرہ  تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 38 فرماتے ہیں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ بادشاہ اور اس کی موروثیت سے متعلق فارسی افکار سے متاثر ہیں اسی لئے شیعہ مذہب اور اہل فارس کے بادشاہی نظام کے درمیان بڑی واضح مشابہت پائی جاتی ہے جس کی مزید تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ اہل فارس شیعہ ہیں اور اولین شیعہ فارسی النسل تھے     

جب مسلمانوں کے ہاتھوں ملک ایران فتح ھوا تو قیدیوں میں ایک ایرانی بادشاہ یزدگرد کی بیٹی بھی تھی جس سے حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۔اور ان سے اس کا بیٹا علی بن حسین تولد ہوا فارسیوں نے اپنے بادشاہ کی بیٹی سے پیدا ہونے والی اولاد کو اپنے قدیم بادشاہوں کا وارث خیال کیا اور سمجھا کہ علی بن حسین اور ان کی اولاد کی رگوں میں فارسی حکمران یزدگرد کی بیٹی سے تولد پذیر ہونے کے ناطے ایرانی اور ان کے مقدس ساسانی بادشاہوں کا خون دوڑتا ہے

 تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 248 

 الکافی جلد 1 صفحہ 53 

صفحہ 23 از 32