اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 22 از 32

 ومن یعتصم باللہ فقدھدی۔ ۔۔۔۔۔۔

 اور جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لے تو یقینا سے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی گئی 

٢۔۔۔۔قاضی عبدالجبار اور محب الدین خطیب عصمت کی نسبت ہشام بن حکم کی طرف کرتے ہیں جس نے یہ عقیدہ اختراع کیا

 روایت۔۔۔ہشام بن حکم سے حسین اشقر نامی ایک شیعہ شخص دریافت کرتا ہےکہ تمہارے اس قول کا کیا معنیٰ ہے   

 ان الامام لایکون الامعصوما۔

 صرف معصوم ہی امام ہوتا ہے 

اس نے کہا میں نے ابو عبداللہ یعنی جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا معصوم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی تمام حدود و محرمات کے ارتکاب سے اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے 

 ومن یعتصم باللہ فقدھدی۔

 معانی الاخبار صفحہ 132 

 بحار الانوار جلد 25 صفحہ 194 195 

 روایت۔ ۔۔۔ابن ابھی عمیر نامی ایک دوسرا شیعہ کہتا ہے 

 میں نے ہشام بن حکم کے ساتھ اپنی طویل ترین صحبت میں عصمت امام کے بارے میں اس بات سے زیادہ کسی اچھی بات کا استفادہ نہیں کیا جو اس نے کہی امام گناہ نہیں کرتا کیونکہ گناہ کے دروازے سے حرص حسد بغض اور شہوت ہیں اور یہ تمام وجوہ امام میں ناپید ہیں  

 بحار الانوار جلد 25 صفحہ 192 93 

 الخصال جلد 1 صفحہ 215 

 معانی الاخبار صفحہ 133 

 الأمالي الصدوق صفحہ 375 376 

 خلاصہ۔ ۔لیکن یہ مفہوم بھی ہر حال میں عصمت کے بارے میں مجلسی کے غلو پر مشتمل نہیں نہ اس پر وہ نتائج مرتب ہوتے ہیں جو شیعہ کے عصمت کے اس آخری مفہوم پر مرتب ہوتے ہیں وہ امام کے کلام کو وحی قرار دیتا ہے جس میں کسی  طرف سے باطل کی آمیزش نہیں اور اس سے سہو غفلت اور نسیان جیسے انسانی عوارض کی نفی کرتا ہے تاکہ وہ مخلوق کے طبقے سے نکل کر خالق بشریت کی صفات کی چادراوڑھ لے 

٣۔۔۔۔مسئلہ عصمت معصیت کی نفی کی حد تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس سے تجاوز کر گیا ہے چوتھی صدی میں ابن بابو یہ المتوفی 381ھ نے اپنے کتاب الاعتقادت میں جس کو وہ امامیہ شیعہ دین کا نام دیتا ہے اور عقیدہ عصمت کے متعلق لکھتا ہے 

 ائمہ کے بارے میں ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ وہ معصوم اور ہر پلیدی سے پاک ہیں نہ چھوٹا گناہ کرتے ہیں نہ بڑا جو اللہ نے ان کو حکم دیا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے جو ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو وہ بجا لاتے ہیں جس نے ان کے احوال میں سے کسی چیز میں بھی عصمت کی نفی وہ ان سے ناواقف اور جاھل ہے اور جو ان سے ناواقف ہے وہ کافر ہے ان کے بارے میں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ معصوم اور اوائل عمر سے لے کر آخر تک علم و کمال کے ساتھ موصوف ہیں ان کے احوال میں کوئی چیز بھی نقص نافرمانی یا جہالت سے متفق نہیں 

 الاعتقادات صفحہ 108 109 

 خلاصہ۔۔۔وہ یہاں ان سے معصیت جہالت اور نقص کی نفی کر رہا ہے اور اس کا مالک اثبات کر رہا ہے جو ان کی زندگی کے آغاز سے لے کر اختتام تک ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے اس کو کافر قرار دیتا ہے یہ ایک دوسرا مرحلہ ہے جس میں مسئلہ عصمت داخل ہوجاتا ہے لیکن اس نے ائمہ سے سہو کی نفی کی وضاحت نہیں کی جس طرح مجلسی اور دیگر متاخر علماء نے کیا ہے 

۴۔۔۔۔مجلسی لکھتا ہے ہمارے امام اصحاب نے آئمہ کی ولادت سے لے کر موت تک ان کے چھوٹے بڑے گناہوں سے عمدا۔ خطائا۔ نسیانا۔ اجماع کیا ہے 

 بحارالانوار جلد 25 صفحه 350 351 

۵۔۔۔غیر معروف لوگوں کی رائے ہے 

 یہ بھی احتمال ہے کہ امام غائب اپنی کمین گاہ سے نکل کر ان کی آواز میں شامل ہوگیا ہو اور اپنا ووٹ ان کے حق میں استعمال کر دیا ہو اس کا یہ کہنا اجماع میں ہی قابل اعتماد ہے 

 فصل الإجماع 

 تبصرہ و نقد

امام پر گناہوں سے معصوم رہنے کا حکم اور اس کا لازمی طور پر نیکی کرنا یعنی وہ اللہ کی طرف سے اس کے لئے مجبور ہے یہ تقدیر میں اثناعشریہ کے مذہب حریت و اختیار اور بندے کا اپنے فعل کا خالق ہونا اس کے بھی منافی ہے 

اور اس بات پر بھی دلیل ہے کہ ان کا عصمت کے متعلق یہ مفہوم تقدیر کے متعلق ان کے مذہب سے پہلے کا ہے جس کو انہوں نے تیسری صدی میں معتزلہ سے اخذ کیا تھا لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ کا اعتزالی فکرونظر سے متاثر ہونے کے بعد ان کے نزدیک عصمت کا مفہوم بھی بعض اعتزالی افکار کے رنگ میں رنگا جا چکا جیسے نظریہ لطف الہی ۔نظریہ انسانی اختیار جیسا کہ مفید کی تعریف میں قسمت کے بارے میں موجود ہے وہ کہتا ہے کہ یہ لطف و کرم ہے جو اللہ تعالی مکلف پر کرتے ہیں اور اس سے معصیت کے وقوع اور قدرت کے باوجود ترک اطاعت کو روک دیتے ہیں لہذا عصمت کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالی امام کو ترک معصیت پر مجبور کرتے ہیں بلکہ اس پر مہربانیاں کرتے ہیں جن کے ہوتے ہوئے وہ اپنے اختیار کے ساتھ معصیت ترک کردیتا ہے یہی معتزلی کی اصطلاحات سے استمداد ہے 

ابن بابویہ اپنی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں صراحت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو کی نفی غالی اور مفوضہ لوگوں کا مذہب ہے

 غلاۃ اور مفوضہ اللہ ان پر لعنت کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو کے وقوع کا انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں بھول جانا تسلیم کرلیا جائے تو تبلیغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاسہوتسلیم کرناپڑے گا کیونکہ جس طرح نماز فریضہ ہے اسی طرح تبلیغ بھی فریضہ ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سہو ہمارے سہوکی طرح نہیں 

کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہو اللہ کی طرف سے ہے اللہ نے اس لیے آپ کو بھلایا تا کہ وہ باور کروایا جائے کہ آپ بھی بشر اور مخلوق ہیں جن کو اللہ کے علاوہ رب اور معبود نہ بنایا جائے نیز لوگ آپ کے سہو سے سہو کا حکم معلوم کرلیں ہمارے شیخ استاد محمد بن حسن بن احمد بن ولید کہا کرتے تھے غلو کاپہلا درجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو کی نفی کرنا ہے اور میں نبی کے سہو کے اثبات اور اس کے منکرین کا رد ایک الگ کتاب کی شکل میں لکھنے میں ثواب کی امید رکھتا ہوں 

 من لا یحضر الفقیہ جلد 1 صفحہ 234 

 اسی قسم کی ایک روایت ابو عبداللہ کے بارے میں ہے 

بحارالانوار جلد 25 صفا 351 

ایک اور روایت 

 من لا یحضر الفقیہ جلد 1 صفحہ 233 

شیعہ کی کتابوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز میں بھولنے کے متعلق روایات نقل کی ہیں 

صفحہ 22 از 32