اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 21 از 32

امامیہ اور معتزلہ کا نظریہ: امامیہ اور معتزلہ حسن و قبح عقلی اور قاعدہ لطف کے معتقد ہونے کی وجہ سے  عصمت کی تعریف میں کہتے ہیں کہ: انسان اپنے ارادے اور اختیار سے خدا کے لطف و کرم کی وجہ سے گناہوں سے پرہیز کرتا ہے۔ شریف مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ص326علامہ حلّی عصمت کو خدا کی جانب سے  بندے کے حق میں لطف خفی سمجھتے ہیں اس طرح کہ اس کے ہوتے ہوئے پھر انسان میں گناہ کے انجام دہی یا اطاعت کے ترک کرنے کا رجحان ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اگر چہ اس پر قدرت اور توانائی رکھتا ہے حلی، الباب الحادی عشر‏، ص9 عصمت کا ملکہ اگرچہ تقوا اور پرہیزگاری کی صنف سے ہے لیکن درجے میں  ان دونوں سے بلند و بالا ہے اس طرح کہ معصوم شخص گناہ کے بارے میں سوچنے اور فکر کرنے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔  ربانی گلپائگانی، محاضرات فی الالہیات، ص276جس کی وجہ سے لوگ ان حضرات پر ہر لحاظ سے مکمل اعتماد کرتے ہیں۔مطہری، وحی و نبوت، ص159

 ملا باقر مجلسی کی اصطلاحی تعریف ۔جان لو امامیہ کا اتفاق ہے کہ ائمہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں ان سے اصلا گناہ کا صدور ممکن ہی نہیں عمدا۔  نسیا ۔یا تاویل تفسیر میں غلطی یا ان کو اللہ تعالی کا بھلا دینا تو ایک طرف رہا 

 بحار الانوار جلد 25 صفحہ 211 

 مرآۃ العقول جلد 4 صفحہ 352 

 خلاصہ۔ مجلسی اپنے ائمہ پر عصمت کی عصمت میں تصور کیے جانے والے تمام وجوہ کے اعتبار سے چادر پوشی کر رہا ہے چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے معصوم ہونا خطا سے معصوم ہونا اور سہو ونسیان سے معصوم ہونا یہ تمام معنی عصمت ائمہ کے مفہوم میں شامل ہیں۔عصمت کی یہ صورت گری جو مجلسی نے کی ہے اور اس پر شیعہ کا اتفاق کا اعلان کیا ہے یہ تو اللہ تعالی کے انبیاء اور رسولوں کو بھی حاصل نہیں ہوئی جس طرح اس پر قرآن کے صریح الفاظ سنت رسول اور اجماع امت دلالت کرتے ہیں 

 فکرة التقریب صفحہ 299 حاشیہ   

 نوٹ۔ یہ قول حقیقت میں اسلامی اصول کے سامنے نہ مانوس ہے بلکہ ائمہ سے متعلق حساس ہوناان کی نفی کرنا ان کو اس ذات عالی مرتبت کے ساتھ تشبیہ دینے کے مترادف ہے جس کو نیند آتی ہے نہ اونگھ اسی لیے شیعہ کے آٹھویں امام رضا سے جس کی عصمت کے وہ دعویدار ہیں کہا گیا 

 کوفہ میں ایک قوم کا یہ دعویٰ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں سہو واقعہ نہیں ہوا تو انہوں نے کہا اللہ ان پر لعنت کرے انہوں نے جھوٹ بولا ہے جو بھولتا نہیں وہ صرف وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں 

 بحار الانوار جلد 25 صفحہ 350 

 عیون اخبار الرضا صفحه 326 

یہ عبارت اگر صحیح ہے تو ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سہو کی نفی جو متاخر شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک عصمت کے مفہوم کی اساسیت میں داخل ہوچکی ہےرضا کے زمانے میں شیعہ کی طرف منسوب ایک جماعت کا عقیدہ تھا جن کا نام قلت کی وجہ سے یا ان کو حقیر جانتے ہوئے اور ان کے قول کی شناخت اور نامعقولیت کی بنا پر ذکر نہیں ہوا وہ اس عقیدے کے لئے افضل الخلق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخصوص کرتے تھے اور اس غلوآمیز رجحان کا خود شیعہ کے امام کی طرف سے لعن تعن تکذیب اور تقصیر کی صورت میں جواب دیا گیاکیونکہ اس سوال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ذات کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کو نیند آتی ہے نہ اونگھ اب رضا ان کے بارے میں کیا کہیں گے جو اس وصف کا ان پر اور ان کے ساتھ دیگر ان کے اجداد اور ان کی اولاد پر اطلاق کرتے ہیں؟؟؟رضا انکا زیادہ شدت کے ساتھ اور سخت الفاظ میں انکاراورمذمت کرتے ہیں

اس اقتباس سے یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ رجحان اور نقطہ نظر رضا کے زمانے کے بعد عام ہوا یہ امر ہمارے لئے اس عقیدے کے آغاز و ارتقاء کے ابتدائی عناصر کی تحقیق کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے

 عقیدہ عصمت کا آغاز 

١۔۔۔عصمت کا لفظ ابن سبا سے منقول نہیں بلاشبہ ابن سبا سے ایسی آراء منقول ہیں جو عصمت یا اس سے بھی کسی خطرناک قول کا موجب ہو سکتی ہیں بلکہ اس سے امیرالمؤمنین کی الوہیت کا قول بھی منقول ہے

لیکن ابن سبا سے امامی نظریہ کے مطابق عصمت کا موقف پیش نہیں کیا  

اس کی رائے اکثریت کے ساتھ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہیں بلکہ وہ شیعہ میں سے پہلا شخص ہے جس نے توقف کیا امام علی رضی اللہ کے ظہور اور واپس آنے کے انتظار کا نظریہ پیش کیا

 مقالات اسلامیین جلد 1 صفحه 86 

 التنبیہ والرد صفحہ 18  

 الفرق بین الفرق صفحہ-21 

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 173 

 رجال کشی صفحه 106 107 

 الزینۃ صفحہ 305 

 تنقیح المقال جلد 2 صفحہ 183 

 المقالات والفرق صفحہ-20 

  ٢۔۔۔قاضی عبدالجبار ومحب الدین خطیب  کی رائے 

امام کا عصمت کا اس حیثیت سےعقیدہ کہ کسی بھی حالت میں اس کے لئے غلطی کرنا یا ٹھوکر کھانا جائز نہیں اور نہ وہ سہو اور غفلت کا شکار ہوسکتا ہے یہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں ہشام بن حکم کے عصر تک غیرمعروف تھا 

ہشام بن حکم نے یہ قول ایجاد کیا تھا 

 تثبیت دلائل النبوۃ جلد 2 صفحہ 528

محبت الدین خطیب اس نظریہ میں عبدالجبار کی رائے کے ساتھ متفق ہیں اور وہ اس کے ساتھ شیطان الطاق کا نام بھی ذکر کرتے ہیں 

 مجلۃ الفتح جلد 18 صفحہ 277 

٣۔۔۔ڈونلڈ سن کی رائے 

نظریہ عصمت شیعہ کے ہاں جعفرصادق کے زمانے سے شروع ہوچکا تھا یہ بات بھی قابل ملاحظہ ہے کہ ہشام بن حکم اور شیطان الطاق جعفر صادق کےمعاصر تھے 

 ڈونلڈ سن عقیدہ شیعہ صفحہ 329 

 نظریہ الامامت صفحہ 134 

 عقیدہ عصمت کے تدریجی مراحل 

 شیعہ عقیدہ عصمت کے تدریجی مراحل کے بارے میں مختلف روایات 

١۔۔۔۔امام زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں 

 معصوم وہ ہے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے اور اللہ کی رسی قرآن ہے 

 معانی الاخبار صفحہ 132 

 بحار الانوار جلد 25 صفحہ 194 

 خلاصہ۔ اس سوال کی نسبت علی بن حسین رضی اللہ عنہ کی طرف صحیح ہو یا نہ ہو لیکن یہ شیعہ کی تاریخ کے ابتدائی دور میں عصمت کے متعلق درست نقطہ نظر پیش کرتا ہے نیز اس کو اسلام کے اس خوبصورت مفہوم کے ساتھ مربوط کرتا ہے کہ قرآن کے ساتھ تمسک اور اعتصام ہی عصمت اور نجات ہے یہ مفہوم مخصوص افراد تک ہی محدود نہیں اللہ تعالی فرماتا ہے 

 واعتصمو بحبل اللہ جمیعا 

  اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو 

صفحہ 21 از 32