اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 20 از 32

⬅2= لُغت کے مشہور امام ابن اثیر رحمہ اللہ لفظ ’’مولی‘‘ کے تحت لکھتے ہیں اور یہ لفظ ’’مولی‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جو متعدد معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے پس مولیٰ کے معنی پروردگار، مالک، سردار، محسن، آزاد کرنے والا، مددگار، محبت کرنے والا، فرمانبردار، پڑوسی، چچا زاد بھائی، عہد و پیماں کرنے والا، عقد کرنے والا، داماد، غلام، آزاد کردہ غلام اور احسان مند کے آتے ہیں اور ہر حدیث کے مقتضیٰ کے مطابق معنی مراد لیا جاتا ہے۔ (النھایۃ5۔228)

.⬅3= مذکورہ بالا حدیث کے آخر میں ’’ولایت‘‘ کے ساتھ ’’عداوت‘‘ کے تقابل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’مولیٰ‘‘ اور ’’اولیٰ‘‘ وغیرہ الفاظ سے محبت کا معنی ہی مراد ہے جو عداوت کی ضد ہے، اگر محبت کا معنی مراد نہ ہوتا تو ولایت کے تقابل میں عداوت کا لفظ ذکر نہ کیا جاتا۔ 

⬅4= نیز ’’مولیٰ‘‘ سے امامت و خلافت کا معنی مُراد لینے کی صورت میں لازم آئے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی امام اور خلیفہ ہوں، کیونکہ حدیث میں اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مولیٰ ہوں گے، بلکہ حدیث میں صرف اس قدر ہے کہ جس کا میں مولیٰ اس کا علی (رضی اللہ عنہ) مولیٰ، اگر یہاں محبت والا معنی مراد نہیں لیا جاتا تو یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ بلا فصل ہونے پر نہیں، بلکہ امامت و خلافت کے سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مساوات اور اشتراک پر دال ہوگی جو کسی کو بھی تسلیم نہیں، لہٰذا اس حدیث سے وہی معنی متعین ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ 

⬅ 5= ایک دوسری حدیث میں یہی لفظ ’’مولیٰ‘‘ 

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ابو حزیفہؓ کیلئے بھی استعمال ہوا ہے،

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :  يا زيد ! أنت مولاي ومني وإلي ، وأحب القوم إلي  ، وقال لزيد :  أنت أخونا ومولانا  ، وقال:  أنت مولاي ، ومني ، وأحب القوم إلي 

( الجزء رقم : 15، الصفحة رقم: 226)

سیرالاعلام 1/223/262

یاابا ارفع ان المولی قوم من انفسھم 

سیرالاعلام2/18

چنانچہ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:’’ انت مولای ومنی‘‘ (آپ میرے مولا ہیں اور مجھ سے ہیں) (طبقات ابن سعد ۳/۴۴) اور دوسری روایت میں ہے: ’’انت مولای واحب القوم الی‘‘ (آپ میرے مولا ہیں او رمجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں (مصنف عبدالرزاق ۱۱/228) ایک اور روایت میں ہے : ’’انت اخونا و مولانا‘‘ (آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہیں) (طبقات ابن سعد 3/33)

اگر مولیٰ سے امام اور خلیفہ کے معنی ہی متعین ہوں تو پھر چاہیے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام اور خلیفہ بلا فصل ہوں لیکن جب یہاں پر یہ معنی مراد نہیں تو حدیث من کنت مولاہ الخ میں بھی اس معنی کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔

.⬅ 6= مذکورہ حدیث کے نظریہ امامت و خلافت سے غیر متعلق ہونے کی ایک بہت بڑی شہادت یہ بھی ہے کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے حضرت حسن مثنیٰ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ کیا ’’من کنت مولاہ‘‘ کی حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت (خلافت) کی صراحت نہیں؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا: 

  خبردار! اللہ کی قسم، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے امارت یا حکومت کا ارادہ فرماتے تو یہ بات صاف صاف بیان فرما دیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مسلمانوں کا خیر خواہ کوئی نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاف فرما دیتے کہ اے لوگو! میرے بعد تمہارے حاکم اور تمہارے نگران علی رضی اللہ عنہ ہوں گے، ان کی بات سنو، اور اطاعت کرو، مگر ایسی کوئی بات نہیں، اللہ کی قسم اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو ترک فرما دیتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے بڑھ کر خطا کار ہوتے۔ (دیکھئے الصواعق المحرقۃ ص : ۴۸، تحفۃ اثنا عشریۃ ص : 209روح المعانی4/96 التاریخ الکبیر لابن عساکر4/166)

  ملاحظہ فرمائیں کہ خانوادہ نبوت نے کس وضاحت کے ساتھ ہر قسم کے شبہ کا جواب دے دیا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک کی تشریح کرتے ہوئے ہر طرح کے باطل احتمالات کی بیخ کنی کر کے مرادِ رسول(ﷺ) کو متعین فرما دیا ہے، اس کے بعد کسی کو بھی مذکورہ بالا حدیث سے غلط مطلب اخذ کرنے کی لاحاصل سعی نہیں کرنی چاہیے۔تو جناب کا استدلال باطل ہے 

 نتیجہ۔ ۔ہم ماقبل ذکر کر چکے ہیں کہ اس نظریہ امامت کا بانی عبداللہ بن سبا تھا نظریہ امامت تشہیرکرنےوالےاور محصور کرنے والے  ہشام بن حکم اور شیطان الطاق تھے جن کا ذکر ماقبل ہو چکا ہے

 اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح فہم نصیب فرمائے 

 عصمت آئمہ 

مسئلہ عصمت امامیہ شیعہ کے ہاں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے یہ ان کے اتحادی ڈھانچے کی اساسیت میں شامل ہے 

 تاریخ الامامیۃ الصفحة 157 

 حیاۃ الامام موسی بن جعفر جلد 1 صفحه 111 

 عصمت کا لغوی معنی

عصمت عربی زبان میں منع کے معنی میں ہے کہتے ہیں  عصمت اللہ عبدہ 

اللہ تعالی کا اپنے بندے کو اس سے بچانا جو اس کو ہلاک کر سکتا ہے 

 اعتصم فلان باللہ

اللہ کی پناہ میں آنا 

لغوی اعتبار سے عصمت "ع ص م" کے مادے سے اسم مصدر ہے جس کے معنی معصومیت اور محفوظ رہنا فیومی، ص414 پاکدامنی اور نفس کو گناہ سے بچانا، "روکنے کا وسیلہ" اور "مصونیت کا ابزار" کے ہیں ۔ ابن منظور، جلد12صفحہ 412

 عصمت کی اصطلاحی تعریف

‏مسلمان مفکرین نے عصمت کی مختلف تعریفیں کی ہیں جن میں سے سب سے معروف تعریف قاعدہ لطف کے ذریعے اس کی تفسیر ہے۔ جرجانی، شرح المواقف، ص280  اس قاعدے کی بنا پر خداوندعالم بعض انسانوں کو عصمت عطا کرتا ہے جس کے سائے میں صاحب عصمت گناہ اور ترک اطاعت پر قدرت رکھنے کے باوجود ان کے مرتکب نہیں ہوتے ہیں۔ ذیل میں مختلف مذاہب کے نظریات بیان کئے جاتے ہیں:

 اشاعرہ کا نظریہ: اشعری مذہب کے متکلمین چونکہ  انسان کو اس کے اعمال اور رفتار میں مجبور سمجھتے ہیں اس لئے عصمت کی تعریف میں کہتے ہیں کہ خدا معصوم کے اندر گناہ ایجاد نہیں کرتا ہے۔

صفحہ 20 از 32