اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 32

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے صالحین کی جماعت کی دعا نقل کرکے قیامت تک آنے والے مومنین کے لیے اس طرح دعا مانگنے کی ایک راہ ہموار کر دی تاکہ وہ بھی انہی کی طرح دعا مانگتے رہیں ۔اس سے معلوم ہوا کہ امام المتّقین بننے کی دعا کرنا صرف جائز نہیں بلکہ اللہ تعالی کو پسندیدہ بھی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت تک امام المتقین ہوتے رہیں گے اور امامت کا سلسلہ جاری رہے گا جیسا کہ شیعہ مذہب میں ہے امامت کا مرتبہ نبوت کے مرتبے سے بالاتر ہے 

 حیات القلوب اردو جلد 3 صفحہ 10 

تو جس طرح نبوت مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اسی طرح امامت ان کے بارہ اماموں پر ختم ہے اور جس طرح کسی کو بھی دعا مانگنے سے نبوت نہیں مل سکتی اسی طرح دعا مانگنے سے کوئی امام المتقین نہیں بن سکتا اور جس طرح نبوت کے لئے دعا مانگنا حرام ہے اسی طرح امامت کے لئے بھی دعا مانگنا عندالشیعہ حرام ہے۔

 دوسری قسم امامت

جس طرح ہدایت کے مقابلے میں گمراہی ہے اسی طرح گمراہی پھیلانے میں یعنی کفریہ اور شرکیہ نظریات کو عام کرنے میں جو لوگ قائد اور پیشوا ہوں گے وہ اپنے تابعداروں کے امام ہوں گے اور اس قسم کی امامت بھی پہلے سے ہی چلی آرہی ہے اور قیامت تک چلتی رہے گی مثلا فرعون اور ان کے خاص درباریوں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا۔ 

Surat No 28 : Ayat No 41 

وَ جَعَلۡنٰہُمۡ  اَئِمَّۃً  یَّدۡعُوۡنَ  اِلَی النَّارِ ۚ وَ  یَوۡمَ  الۡقِیٰمَۃِ  لَا  یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۱﴾

اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں  اور روز قیامت مطلق مدد نہ کئے جائیں ۔  

اس سے معلوم ہوا کہ فرعون اور اس کے خاص ساتھی اپنے تابعداروں کے امام اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کو امام بھی اللہ تعالی نے بنایا تھا اس پر وہ لوگ غور کریں جو کہتے ہیں کہ امام معصوم ہوتا ہے اور مرتبہ امامت مرتبہ نبوت سے بالاتر ہے 

 Surat No 9 : Ayat No 12 

وَ  اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ  مِّنۡۢ بَعۡدِ عَہۡدِہِمۡ وَ طَعَنُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ  فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الۡکُفۡرِ ۙ اِنَّہُمۡ لَاۤ اَیۡمَانَ لَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ  یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾

 اگر یہ لوگ عہد و پیمان کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم بھی ان سرداران کفر سے بھڑ جاؤ ۔  ان کی قسمیں  کوئی چیز نہیں ممکن ہے کہ اس طرح وہ بھی باز آجائیں ۔  

اس سے معلوم ہوا کہ کافروں کی پیشوائی کرنے والے ان کے امام ہیں اور اس طرح گمراہی اور کفر کے پیشوا قیامت تک رہیں گے( یعنی اس قسم کی امامت بھی قیامت تک رہے گی) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جس امامت کا ذکر ہے اس میں  منصوص من اللہ معصوم عن الخطاء اورمفترض الطاعة ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ کافر اور گمراہ کو بھی امام کہا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہلسنت کے ہاں بنظریہ قران امامت عام ہے ناکہ خاص 

اسلام میں امامت کا مفہوم سمجھنے کے بعد اب ہم شیعہ مذہب میں جو نظریہ امامت ہے اس کو نقل کرتے ہیں 

 امامت عندالشیعہ

 شیعہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہر نبی کا کوئی وصی نامزد ہوتا ہے جس کو وہ اللہ تعالی کے حکم سے وصیت کرتا ہے الصدوق ذکر کرتا ہے کہ اوصیاءکی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار۔

 عقائد الصدوق صفحہ 106 

 مجلسی اپنے اخبار و روایات میں ذکر کرتا ہے علیؓ آخری وصی ہیں 

 بحارالانوار جلد 39 صفحه 324 

 الکافی۔ان الإمامة عهد من الله عز وجل معهود من واحد إلى واحد عليهم السلام

 ۔یہ باب کہ امامت اللہ کی طرف سے عہد ہے جو یکے بعد دیگرے ہر ایک امام کیلئے صادر ہوا ہے

 الکافی جلد 1 صفحه 188  

  الکافی۔ان الإمامة عهد من الله عز وجل معهود من واحد إلى واحد عليهم السلام

یہ باب کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے ایک ایک کرکے ترتیب کے ساتھ آئمہ کی وصیت کی ہے 

 الکافی1۔286

 شیعہ عالم مقداد حلی لکھتا ہے ۔شیعہ کے نزدیک امامت کے مستحق شخص کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے معہود یعنی جس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ہونا ضروری ہے نہ کہ ہر وہ شخص جس پر اتفاق ہو جائے 

 النافع یوم الحشر صفحہ 47

 خلاصه روایات

 ایک لاکھ چوبیس ہزار وصی ہوے ہیں 

 حضرت علیؓ آخری وصی ہیں 

 وصی رسول اللہ ؐ کی وصیت سے بنتا ہے ناکہ لوگوں کے اتفاق سے

 اللہ نے یہ عہدہ ایک ایک امام کو سونپا ہے 

نتیجہ۔۔۔

امامت کے موضوع پر اہلتشیع حضرات نے تقریبا(2000)روایات گھڑی ہیں اہلتشیع کی ان روایات کاجیسے جیسے جائزہ لیاجاے گاویسےویسے تعرضات سامنے آتے جائیں جیسے کہ ماقبل پیش کی جانے والی چند روایات میں منصوص من اللہ اور منصوص من الرسول اللہ وصی ہونے کا تعرض پیش آیا ہے  

 شیعہ کے نزدیک اہمیت امامت  

 ولكن الشيعة الإمامية زادوا (ركناً خامساً) وهو: الإعتقاد بالإمامة. يعني أن يعتقد: أن الإمامة منصب إلهي كالنبوة، فكما أن الله سبحانه يختار من يشاء من عباده للنبوة والرسالة، ويؤيده بالمعجزة التي هي كنص من الله عليه (وربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرةفكذلك يختار للإمامة من يشاء، ويأمر نبيه بالنص عليه، وأن ينصبه إماماً للناس من بعده للقيام بالوظائف التي كان على النبي أن يقوم بها، سوى أن الإمام لا يوحى إليه كالنبي وإنما يتلقى الأحكام منه مع تسديد إلهي. فالنبي مبلغ عن الله والإمام مبلغ عن النبي.والإمامة متسلسلة في اثني عشر، كل سابق ينص على اللاحق. ويشترطون أن يكون معصوماً كالنبي عن الخطأ والخطيئة، والإ لزالت الثقة به، وكريمة قوله تعالى: (إني جاعلك للناس إماماً قال ومن ذريتي قال لا ينال عهدي الظالمين) صريحة في لزوم العصمة في الإمام لمن تدبرها جيداً.وأن يكون أفضل أهل زمانه في كل فضيلة، وأعلمهم بكل علم، لأن الغرض منه تكميل البشر، وتزكية النفوس وتهذيبها بالعلم والعمل الصالح فمن اعتقد بالإمامة بالمعنى الذي ذكرناه فهو عندهم مؤمن بالمعنى الأخص،والغرض: إن أهم ما امتازت به الشيعة عن سائر فرق المسلمين هو: القول بإمامة الأئمة الأثني عشر، وبه سميت هذه الطائفة (إمامية) فقد تتجاوز طوائف الشيعة المائة أو أكثر، ببعض الاعتبارات والفوارق، ولكن يختص اسم الشيعة اليوم ـ على إطلاقه ـ بالإمامية التي تمثل أكبر طائفة في المسلمين بعد طائفة السنة.

 اصل الشیعة واصولھا ص62۔63۔64۔65

صفحہ 2 از 32