اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 19 از 32

علی !! تیرے اَندر عیسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے، یہُود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اس قَدر دْشمنی کا اظہار کیا کہ اُن کی والدہ (حضرت مریم علیہا السلام) پر تُہمت لگا دی، اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں اِس قدر غُلو کیا کہ اُن کو اُن کے مَقام سے بہت اُونچا لے گئے، اس کے بعد حضرت علیؓ فرمانے لگے کہ میرے بارے میں بھی دو قسم کے لوگ تباہ ہوں گے، ایک وہ لوگ جو میری محبت میں غُلو کریں گے اور مُجھے میرے مقام سے بہت اُونچا لے جائیں گے، اور دوسرے وُہ لوگ جن کو میری دُشمنی مُجھ پر بُہتان طرازی پر آمادہ کرے گی۔ (مشکوٰۃ ص ۵۸۷ باب مناقب علیؓ)

  آپ(ﷺ) کے اس ارشادِ گرامی میں مَوجود پیشن گوئی کے مطابق کچھ حضرات نے حضرت علیؓ کی شان میں اس قدر غُلو کیا کہ اُن کو خدا کے ساتھ ملا دیا اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین اور تنقیص کی طرف چلے گئے، جبکہ کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مُخالفت میں اس قدر آگے نکل گئے کہ اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امامِ بَرحَق تسلیم کرنے سے بھی اِنکار کر دیا، یہ دونوں طبقات افراط و تَفریط میں پَڑ کر عقیدہ اعتدال سے ہٹ گئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مُحبت یا عَداوَت میں غُلو کر کے طریق مُستقیم پر قائم نہ رہے۔ ان دونوں ہی طبقات کی جانب سے اپنے مَزعومہ خیالات کو ثابت کرنے کے لیے دلائل کا جوڑ توڑ، کلمات کا ہَیر پَھیر اور خلافِ مُدعا دلائل سے اغماض یا انکار پیش آتا رہا مَشقِ سَتم بننے والی احادیث میں ایک حدیث یہ بھی ہے: 

  ’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ الخ‘‘ 

(جس کا میں مولیٰ، اسکا علی مولیٰ)۔

⬅ کچھ حضرات نے تو اس حدیث کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا، حالانکہ یہ حدیث متعدد کتب حدیث میں صحیح طور پر منقول ہے اور 30 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، اس کے برعکس کچھ لوگوں نے اس حدیث سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے خُود ساختہ نظریہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی، اور حدیث کے سیاق و سباق اور پس منظر کو ایک طرف ڈال کر مُفید مقصد الفاظ سے دل پَسند معانی اَخذ کرکے اِس حدیث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافَصل پر اپنی بہت بڑی دلیل قرار دیا۔ علماء کرام نے مسلک اعتدال کو واضح کرنے کے لیے اپنے اپنے انداز سے حدیث اور اس کے پَس مَنظر کو واضح کر کے اس کے مَفہوم کی ایسی تشریح کی جو نہ رَفض کے لیے مؤید ہے اور نہ خَروج کی جانب مائل ہے، مندرجہ ذیل سطروں میں بھی آپ اس حدیث کی تشریح بالاختصار لیکن مُدلَل طور پر پڑھیں گے، جس سے اس کے صحیح معنی سمجھنے میں آسانی پیدا ہوگی۔

  اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ رسُول اللہ (ﷺ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رمضان (10ھ) میں خُمس (مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ) وصُول کرنے کے لیے یَمن بھیجا، اور جب نَبی کریم (ﷺ) حجۃ الوداع کے موقع پر ۴ ذی الحجہ کو مکّہ مُکرمہ پہنچے تو آپ(ﷺ) نے حرمِ مکّہ پہنچ کر پہلے عُمرہ ادا کیا، اور پھر چار یَوم تک مکّہ مُکرمہ میں قیام فرمایا، ان چار دنوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے واپس مَکہ مُکرمہ پُہنچے اور #خُمس آپ(ﷺ) کی خدمت میں پیش کیا، اس سفر کے دوران بعض رفقائے سفر کے دِل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے کچھ بَدگمانی اور کدُورت پیدا ہو گئی، حضور (ﷺ) جو حجۃ الوداع کے اس عظیم اور اہم ترین سفر میں قدم بہ قدم اُمت کو گمراہی اور افتراق سے بچانے کے لیے نَصائح اور خُطبات ارشاد فَرما رہے تھے، یہ کیسے گوارا کر سکتے تھے کہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اجتماعی طور پر لوگوں کے دِلوں میں بدگمانی پیدا ہو جائے، جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار کبار صحابہ اور ’’السابقون الاولون‘‘ میں ہے، اور جبکہ اُنہوں نے آگے چل کر اپنے وقت میں اُمت کی قیادت و سیادت کے فرائض بھی انجام دینے ہیں، اس لیے حضور (ﷺ) نے ’’غدیر خم‘‘ کے مقام پر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مُحبت و عَقیدت کا معاملہ رکھنے کی ترغیب دی اور بدگمانی سے بچنے کی تلقین کی۔ (دیکھئے البدایۃ والنھایۃ ج : 5،/106)

.چنانچہ حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: 

  آپ (ﷺ) جب ’’غدیر خم‘‘ (کے مقام) پر تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے، کیا تُم نہیں جانتے کہ میں مؤمنین کی جانوں سے زیادہ اُنکا مَحبوب (اولیٰ) ہوں ؟ حاضرین نے عرض کیا، کیوں نہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مَومن کی جان سے زیادہ اس کو محبُوب (اُولیٰ ) ہوں؟ حاضرین نے عرض کیا کیوں نہیں ؟

آپ (ﷺ) نے فرمایا اے اللہ! جس کا میں محبُوب (مولیٰ) ہوں تو علی بھی اس کے محبوب (مولیٰ) ہیں، اے اللہ جو (علی رضی اللہ عنہ) سے مُحبت (موالات) کرے تو اس سے محبت (موالات) کر، اور جو (علی رضی اللہ عنہ) سے نفرت (معادات) کرے تو اس سے نَفرت (معادات) کر۔ (مشکوٰۃ مع المرقاۃ10۔476)

⬅1= مذکورہ حدیث اور اسکے پس منظر کی تفصیل سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کو بیان کرنا نہیں بلکہ ان شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا مقصود ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بعض معاملات میں بعض رفقائے سفر کے ذہنوں میں پیدا ہوئے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی برأت کے اظہار کے بعد ان سے محبت کا حکم ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور خلافت کو بیان کرنا ہوتا تو صاف طور پر واضح الفاظ میں اس بات کا اظہار فرما دیتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے، ایسے الفاظ اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی جن سے معاملہ مبہم اور مخفی رہے۔

صفحہ 19 از 32