اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 18 از 32

میں لفظ  علی بن ابی طالب نکالیے تفسیر اور اسباب نزول کے متعلق روایات جمع کرنے والے کتب جیسے  لدرالمنثور جلد 3 صفحہ 104 تا 6 

یا کتب ستہ کی روایات جمع کرنے والی کتب جیسے جامع الاصول وغیرہ کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان کے دعوے کی کوئی بنیاد نظر نہیں آئے گی اس لئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں جمہور اُمت نے یہ خبر نہیں سنی نا یہ مسلمانوں کی معتبر اور بنیادی کتابوں اور صحاح سنن جوامع معجماعت وغیرہ میں کہیں موجود ہے  

 منہاج السنن جلد 4 صفحہ 5 

امام ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے وہ تمام آثار نقل کئے ہیں جو یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی انگوٹھی صدقہ دیں تو ان کے بارے میں نازل ہوئی اس پر نقد و تبصرہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ان میں سے کوئی روایت بھی بالکل صحیح نہیں کیونکہ اس کی آسانید ضعیف اور اس کے رجال مجہول ہیں

 تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 76 77 

٢۔۔۔اگر یہ عمل مستحب وپسندیدہ ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خود بھی کرتے اس کی ترغیب بھی دلاتے اور اس کا اعادہ و تکرار بھی کرتے  

 یہ تو نماز مشکل ہے اور سائل کو دینا ایسا کام نہیں جو ہاتھ سے چھوٹ جائے تو دوبارہ نہ ہوسکے کیوں کا کرنے والا نماز کے بعد بھی دے سکتا ہے بلکہ سائلین کو دینے میں مشغول ہو جانا نماز باطل کرنے والا عمل ہے اور یہ جملہ اہل علم کی رائے ہے 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 208  منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 5 

 ٣۔۔۔۔اگر کوئی کہتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی پہچان کروانا مقصود تھا سوال پیدا یہ ہوتا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی معروف صفات سے پہچان کیوں نہ کروائی اور اس بات کو جمہور امت نے نئی سنا اور نہ ہی مسلمانوں کے قابل اعتماد کتابوں میں ہی کہیں اس کا ذکر ہے 

 منہاج السنہ جلد 405 

 نتیجہ۔ ۔تو نتیجہ یہ نکلا کہ اس آیت سے استدلال شیعہ باطل ہے 

 شیعہ کا سنت سے استدلال کرنا۔

 حدیث غدیر الخم 

خلاصہ استدلال ۔شیعہ روافض نے اس کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ شیعہ کے ایک معاصر عالم نے اس حدیث کی شہرت اور صحت ثابت کرنے کے لئے 16 جلدوں میں ایک کتاب تالیف کی ہے جس کا نام الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب۔رکھا ہے ان کا خیال ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس لوٹے اور غدیر خم نامی جگہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان جو ہوا کے پاس ایک وادی ہے جہاں ایک تالاب بھی ہے یہ وادی بہت زیادہ تعفن اور خرابی آب و ہوا میں مشہور ہے مجمع البلدان جلد 2 صفحہ 379 )

پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے بیان کیا کہ علی بن ابیطالب میرے بعد خلیفہ اور وصی ہوں گے کیونکہ اللہ تعالی نے اس آیت یا ایہا الرسول بلغ ما ۔۔۔۔۔المائدہ آیت نمبر 67 میں آپ کو اس کا حکم دیا ہے شیعہ کے عالم مجلسی نے اس مفہوم کی اپنی 105 روایت ذکر کی ہیں 

 بحارالانوار جلد 37 صفحه 108۔ 253۔وہ کہتا ہے کہ ہم نے اور ہمارے مخالفین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ غدیر خم کے دن تمام مسلمان اکھٹے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور کہا لوگوں کیامیں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا نہیں؟؟؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا میں مولا اس کا علی مولا اللہ جو اس کے ساتھ محبت رکھے تو بھی اس کے ساتھ محبت رکھ جو اس کے ساتھ عداوت رکھے تو بھی اس کے ساتھ عداوت رکھ اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو اس کی مدد چھوڑ کر اس کو رسوا کریں 

 بحارالانوار جلد 37 صفحہ 108۔253

 اسی طرح شیعہ کی دوسری کتب بھی مسئلہ امامت کے موضوع پر ہیں وہ بھی اس آیت کو ذکر کرتی ہیں  

 کشف المراد صفحه 395 

 الشیعۃ فی عقائدهم صفحه 71

 علی والحاکمون صفحہ 55 صفحہ 76 

 امام علی صفحه 292 

 عقائد الامامیہ الاثنی عشریہ جلد 1 صفحہ 90 

 عقیدہ شیعہ فی الامامت صفحہ 55 

 حق الیقین جلد 1 صفحه 153 

 حضرت شیخ الاسلام اور دوسرے علماء نے ان کا تسلی بخش جواب دیا ہے 

 منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 9 صفحہ 6 صفحہ 83صفحہ 87

 المنتقی صفحہ 422 صفحہ 425 صفحہ 466 صفحہ 408 

 الرسالۃ فی الرد علی الرافضة صفحہ 6۔7

 ابونعیم الامامۃ و الرد علی الرافضہ صفحہ 13

 المقدسی ۔روح المعانی جلد 6 صفحہ 192 199

 محمد بن عبدالوہاب رسالۃ فی الرد علی الرافضہ۔ صفحة 13

 الطفيلي۔ المناظرة بین اہل السنة والرافضہ صفحہ 15۔16

 من کنت مولاہ کی مکمل تصریح اور شان ورود

  جِس کا میں مَولا اُس کا علی مَولا

  شیعہ حضرات اس حدیث سے اپنا مخصوص نظریۂ امامت ثابت کرتے ہیں کیا ان کا نظریہ اِمامَت اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے ؟

حیثیت حدیث۔۔۔ 

اہل سنت کے نزدیک 

کم من حدیث کثرت روات تعددت طرقہ وھو حدیث ضعیف کحدیث الطیر حدیث الحاجم والمحجوم و حدیث من کنت مولاه۔فعلی مولاه بل قد لا یزیده کثرة الطرق الا ضعفا وإنما يرجح بکثرة الرواة اذاکانت الرواة محتجا بھم من الطرفین

تہذیب

ترجمہ ۔۔٣ کتنی ہیں حدیثیں ہیں جن کے راوی بہت ہیں اور اس کے کئی کئی طریق ہے اور پھر بھی ضعیف ہیں درجہ صحت کو نہیں پہنچتی ہیں جیسے حدیث طیر حدیث الحاجم والمحجوم اور حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بلکہ ان کے جس قدر طرق بڑھیں گے اتنا ہی ضعف بڑھے گا

کثرت رواة سے وہاں ترجیح ہوتی ہے جہاں راوی دونوں طرف سے قابل الاحتجاج ہوں حافظ ابن تیمیہ بھی اسی صدی کے ہیں وہ بھی اس روایت پر مطمئن نہیں ہیں آپ لکھتے ہیں

فلا يصح من طرق الثقات أصلا

منہاج السنہ جلد ۴/ ٨٢

یہ روایت ثقہ روایوں کی روایت سے کہیں درجہ صحت کو نہیں پنہچتی یہ حدیث اس قدر درجہ ضعف میں ہے کہ اس سے کسی عقیدے کے اثبات میں حجت نہیں پکڑی جا سکتی چہ جائیکہ اس سے خلافت جیسے اہم مسلے میں نص قرار دیا جائے

عقیدہ قائم کرنے کے لیے دلیل قطعی کی ضرورت ہوتی ہے ظنی دلیل سے اعمال تو ترتیب پا سکتے ہیں عقائد نہیں بنتے خبر واحد صحیح بھی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں اور یہاں یہ روایت ایک صحیح سند متصل سے بھی ثابت نہیں ہے

 ’’مَن کُنتُ مَولاہ فَھذا علی مَولاہ‘‘ (الحدیث)

  یہ مُکمل حَدیث نہیں بلکہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے، اس کی تفصیل بتانے سے قبل چند باتیں تمہیداً عرض کی جاتی ہیں۔ نبی کریم (ﷺ) ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمانے لگے:

صفحہ 18 از 32