اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 17 از 32

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ (55)

 تمہارے دوست صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں 

 ترجمہ۔ تلخیص الشافی جلد 2 صفحہ 10 الإعراب:

(إنّما) كافّة ومكفوفة (وليّ) مبتدأ مرفوع و(كم) ضمير مضاف إليه (اللّه) لفظ الجلالة خبر مرفوع الواو عاطفة (رسول) معطوف على لفظ الجلالة مرفوع والهاء ضمير مضاف إليه الواو عاطفة (الذين) اسم موصول مبني في محلّ رفع معطوف على لفظ الجلالة (آمنوا) فعل ماض مبني على الضمّ.. والواو فاعل (الذين) مثل الأول بدل منه- أو نعت له- (يقيمون) مضارع مرفوع.. والواو فاعل (الصلاة) مفعول به منصوب الواو عاطفة (يؤتون الزكاة) مثل يقيمون الصلاة الواو حاليّة (هم) ضمير منفصل مبني في محلّ رفع مبتدأ (راكعون) خبر مرفوع وعلامة الرفع الواو.جملة (إنما وليّكم اللّه): لا محلّ لها استئنافيّة.وجملة (آمنوا): لا محلّ لها صلة الموصول (الذين) الأول.وجملة (يقيمون...): لا محلّ لها صلة الموصول (الذين) الثاني.وجملة (يؤتون...): لا محلّ لها معطوفة على جملة الصلة الثانية.وجملة (هم راكعون): في محلّ نصب حال.

الفوائد:

الإيمان ما وقر في القلب وصدقه العمل..دلت هذه الآية على أن الإيمان ليس دعوى يتغنى بها اللسان بل لابد لها من رصيد في السلوك والعمل حتى تكون دعوى صادقة ودل على ذلك قوله تعالى: (وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَهُمْ راكِعُونَ)... فلابد للإيمان من سلوك عملي يترجمه ويكون دليلا عليه، وفيه تمييز للمؤمنين عن المنافقين الذين يدّعون الإيمان ولا يحافظون على الصلاة ولا يؤتون الزكاة.

١۔۔۔۔کیاآیت دلالة النص وقطعى الدلالہ ہے امامت کے لیے؟؟؟؟؟؟

٢۔۔۔۔ کیاجملہ میں حصر موجود نہیں ہے؟؟؟

٣۔۔۔۔لفظ وٙلایِة کا معنی لفظ وِلایت میں کیسے ہوسکتا ہے ؟؟؟؟؟

♦️آیت امامت پر قطعی الدلالہ اور دلالۃالنص نہیں ہے تو استدلال تو یہیں سے باطل ہوگیا ہے 

♦️جملے کے شروع میں انما حصر کے لئے ہے تو جب شان نزول کے روایت کے حساب سے ہم اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت میں لیتے ہیں تو دوسرے ائمہ کی امامت کا دعوی ختم ہو جاتا ہے تو بھی  استدلال باطل ہے 

♦️لغت میں ولایت زیر کے ساتھ اور  ولایت زبر کے ساتھ میں جو فرق ہے وہ بالکل واضح ہے ولایت زبر کے ساتھ عداوت کا متضاد ہے اور ان آیات میں یہی مذکور ہے ولایت زیر کے ساتھ نہیں ہے جس کا معنی امارت ہوتا ہے یہ جاھل لوگ ولی کو امیر خیال کرتے ہیں اور دونوں لفظوں میں کوئی فرق نہیں کرتے حالانکہ یہ بالکل واضح بات ہے کہ والا زبر کے ساتھ عداوت کے متضاد ہے اور اس سے لفظ مولا اور ولی بنتا ہے جبکہ ولایت زیر کے ساتھ امارت کے معنی میں ہوتا ہے اور اسے والی اور متولی اسم بنتے ہیں 

 الکشاف للزمخشری جلد 1 صفحہ 624 

 تفسیر الرازی جلد 12 صفحه 25

جیسا کے جنازے میں جب والی اور ولی اکھٹے ہوجائیں تو کہا گیا ہے کہ والی کو آگے کیا جائے گا اور یہ اکثریت کا قول ہے کے ولی کو آگے کیا جائے گا چنانچہ لفظ ولی اور ولایت لفظ والی کے علاوہ دوسرے لفظ ہیں 

 منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 8 

اب اگر اللہ رب العزت ولایت جو امارت کے معنی میں ہے مراد لینا چاہتے تو اس طرح فرماتے  انما یتولی علیکم آناچاہیے مذکورہ آیت اور وہ دیگر آیات جن سے یہ استدلال کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسے الفاظ پر مشتمل نہیں جو عربی زبان میں استخلاف خلیفہ یا افسر بنانے کے معنی میں ہو تو اس طرح یہ استدلال باطل ہے 

 آیات کا سیاق کلام  بھی شیعہ استدلال کے مخالف ہیں

Surat No 5 : Ayat No 51 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ   ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ  یَّتَوَلَّہُمۡ  مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ  مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ  الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾

 اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ  یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔   تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ  بے شک انہی میں سے ہے ،  ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔  

یہ آیت   یہود و نصاریٰ کے ساتھ موالات مودۃ محبت اور نصرت کی پینگیں بڑھانے کی ممانعت پر مشتمل ہےاس کے متصل بعد ان کے ساتھ موالات قائم کرنے کا ذکر ہے جن کے ساتھ محبت و موالات رکھنا واجب ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن ہیں اس سے واضح ہوا کہ پہلی آیت میں جس موالات محبت اور نصرت سے منع کیا گیا ہے یہ بعینہ وہی ہے جس کا اس آیت میں اسلوب مخالف مقابلہ میں مومنوں کو حکم دیا گیا ہے اور یہ بات عربی ادبیات میں بڑی واضح ہے 

امام رازی فرماتے ہیں جب پہلی آیت میں موالات کفار سے منع کیا گیا تو اس آیت میں جس کے ساتھ موالات قائم کرنا واجب ہے اس کے ساتھ موالات و محبت رکھنے کا حکم دیا 

 تفسیر الفخر الرازی جلد 12 صفحه 25 

 شان نزول کی روایت سے استدلال کارد

١۔ ۔۔۔شیعہ کا یہ کہنا کہ اہلسنت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق نازل ہوئی بڑا جھوٹ ہے بلکہ اہل علم نے اجماع یہ بات نقل کی ہے کہ یہ آیت خصوصی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل نہیں ہوئی اور انہوں نے نماز میں اپنے انگوٹھی کا صدقہ نہیں کیا تھا محدثین کا اتفاق ہے اس سلسلے میں بیان کیا جانے والا یہ قصہ جھوٹا اور موضوع ہے 

 منہاج السنۃ جلد 4 صفحہ 4 شیعہ کا یہ کہنا کہ یہ صحاح ستہ میں مذکور ہے دروغ محض ہے کیوں کہ کتبِ صحاح میں اس کا کہیں وجود نہیں یہ ایسا جھوٹ ہے جس کو ثابت کرنے میں شیعہ کو کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ دعوی شیعہ کے عصرحاضرکے شبر اور زنجانی جیسے لوگوں کی زبان پر بھی ہے کیا ان کو خبر نہیں ہے کہ کتب ستہ میں اس کا کوئی وجود نہیں آج معاجم اور فہارس حدیث کی کتابوں کی کثرت ہے جو اس حقیقت کو کھول دیتی ہے  المعجم الفہرس لالفاظ الحدیث اور  مفتاح کنوز السنہ

صفحہ 17 از 32