اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 16 از 32

وجملة: (لا ينال عهدي الظالمين) في محلّ نصب مقول القول. الصرف:(ابتلى)، فيه إعلال بالقلب، أصله ابتلي، جاءت الياء متحرّكة بعد فتح قلبت ألفا.(جاعل)، اسم فاعل من جعل الثلاثي، وزنه فاعل (انظر الآية 30 من هذه السورة).(إماما)، اسم لما يؤتمّ به يستوي فيه التذكير والتأنيث، جمعه أيمّه وأئمة، ووزن إمام فعال بكسر الفاء.(ذرّية)، اسم للولد والنسل، وهو في الأصل مثلّث الذال، وهنا بضمّ الذال، جمعه الذراري والذرّيات، ووزن ذرّية فعليّة بضمّ الفاء وتسكين العين وكسر اللام وتشديد الياء المفتوحة.(ينال)، فيه إعلال بالقلب بدءا من الماضي، أصله ينيل قلبت الياء ألفا بعد نقل حركتها إلى النون..البلاغة:في هذه الآية فن طريف من فنون البيان يقال له: فنّ المراجعة وهو أن يحكي المتكلم مراجعة في القول جرت بينه وبين محاور في الحديث أو بين اثنين بأوجز عبارة، وأبلغ اشارة، وأرشق محاورة مع عذوبة اللفظ وجزالته، وسهولة السبك. وقد جمعت هذه الآية معاني الكلام من الخبر والاستخبار والأمر والنهي والوعد والوعيد.

الفوائد:

1- لا يجوز تقدم الفاعل على فعله فإذا تقدم يعرب مبتدءا ويقدر الفاعل ضميرا. بخلاف المفعول به فإنه يجوز تقديمه على الفعل في حالات خاصة مذكورة في المطولات من كتب النحو. كقوله تعالى: (وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ).

2- إبراهيم معناه في السريانية الأب الرحيم، ولفظها في العبرية (ابراهام).

3- جاعل اسم فاعل عمل عمل فعله فأخذ مفعولين الأول الكاف من (جاعلك) فهو من اضافة اسم الفاعل إلى مفعوله والثاني (إماما).

4- قيل الكلمات التي ابتلى اللّه بها إبراهيم هي المناسك وقد قام بها إبراهيم ولذلك قال تعالى بحقه (وَإِبْراهِيمَ الَّذِي وَفَّى) وقيل الكلمات هي: (الشرائع والأوامر والنواهي).

5- في هذه الآية يتجلّى بلاغة القرآن في هذا الفن من الحوار والذي يسمونه (المراجعة). وتستطيع أن تتملّى هذا الأسلوب لما فيه من الحوار اللطيف. والإيجاز البليغ، وفي الآداب العربية أمثلة من هذا القبيل لا يتسع لها صدد هذا الكتاب.فليراجعها من شاء لدى البحتري وعمر بن أبي ربيعة وأضرابهما من الشعراء.

 اعتراضات استدلال 

١۔۔۔شیعہ سے سوال جملہ یعنی متن آیت 

خبریہ ہے یا انشائیہ ہے ؟؟؟؟

٢۔۔۔کیا متن آیت دلالت نص و قطعی دلاله ہے امامت پر ؟؟؟؟

٣۔۔۔نبوت و امامت میں تناسب کون سا ہے۔تناسبِ تباین ۔تناسبِ تساوی ۔تناسبِ عینیت ؟؟؟؟؟

۴۔۔۔جب یہ آیت امامت کے لیے ہے تو اس میں حصر کیوں نہیں ہے کیوں کہ آئمہ تو بارہ میں محصور ہیں ؟؟؟؟؟

۵۔۔۔آیت سےنبوت امامت مراد ہے یا غیر نبوت امامت مراد ہے 

♦️صرفی نحوی اور بلاغی ترکیب جملہ خبریہ کا پتہ دے رہی ہے جب کہ ہمیں حکم کی فرضیت کے لیے انشائیہ چاہیے ناکہ خبریہ تو آیت کے الفاظ ہی اس بات 

پر دلالت کرتے ہیں کہ امامت فینفسہ کا  استدلال باطل ہے 

♦️دلالة النص وقطعى الدلالہ تو دور اشارةالنص بھی نہیں ہے کیوں کہ ماقبل ومابعد کو ئی قرینہ تک موجود نہیں ہے

تو استدلال باطل ہے  

♦️اس آیت سے عام امامت کوبھی قیاس نہیں کیا جا سکتا ہےتو تناسب عینیت بلکل نہیں کیوں کہ اس کے لیے دلالةالنص چاہیے جو کہ پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے جیسا کہ محمد الحسین کاشف آلغطاء اور خمینی نے اقرار کیا ہے کہ قرآن میں امامت کے بارے کچھ نازل نہیں ہوا

تو استدلال باطل ہے 

♦️حصر تو آئمہ بارہ میں محصور ہیں یہاں کوئی  حصر نہیں ہے جب کسی بھی جہت امامت کی طرف اشارہ ہی نہیں تو استدلال باطل ہے    

♦️مطلقا آیت سےامامت نبوت مراد ہے اور کوئی قرینہ غیر نبوت امامت کے لیے  موجود نہیں تو استدلال باطل ہے 

♦️خلاصه استدلال ۔۔۔۔جس امامت کو شیعہ حضرات اس آیت سے استدلال کرنا چاہتے ہیں وہ تو اس آیت کے الفاظ ومعنی کو چھو کر بھی نہیں گزرتی کیونکہ آیت ناتو ودلالۃ النص ہے ناقطعی الدلالہ ہے نہ ہی جملہ انشائیہ ہےجیساکہ عقائد اور فرائض کے لیے چاہیےپھر شیعہ امامت اور قرآنی امامت نسبت تساوی نہیں ہےاگر نسبت تساوی کی ہو تو قیاس کیا جاسکتا ہے دلالۃالنص وقطعی الدلالہ  پھر بھی نہیں بن سکتی اہلتشیع حضرات یہاں بھی لفظ امامت سے لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اہل تشیع  کا استدلال باطلہ اور تاویل باطلہ ہے۔۔۔۔

 دوسری آیت سے استدلال    

 وَإِذْ قالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً

ترکیب الإعراب:

الواو استئنافية (إذ) ظرف للزمن الماضي مبنيّ في محلّ نصب متعلّق بفعل قالوا الآتي، (قال) فعل ماض (ربّ) فاعل مرفوع والكاف في محلّ جرّ مضاف إليه (للملائكة) جارّ ومجرور متعلّق ب (قال). (إنّ) حرف مشبّه بالفعل للتوكيد والياء ضمير متّصل في محلّ نصب اسم، (جاعل) خبر مرفوع (في الأرض) جارّ ومجرور متعلّق ب (جاعل). (خليفة) مفعول به لاسم الفاعل جاعل، منصوب.

١۔۔۔۔۔امامت شیعہ اور خلافت آدم علیہ السلام میں تناسب کون سا ہے ؟؟؟؟؟

٢۔۔۔۔۔آیت میں خلافت الی اللہ کا ذکر ہے 

تو امامت نیابت نبوت کیسے ثابت ہوگی ؟؟؟؟

٣۔۔۔۔ آیت میں حصر کا ذکر کہاں ہے؟؟؟

۴۔۔۔۔نیابت رسول کی طرف کوئی قرینہ ہی واضح کر دیں آیت میں ؟؟؟؟ 

♦️شیعہ کہتے ہیں امامت نیابت رسول ہے جبکہ یہاں اس آیت میں خلیفةاللہ آدم علیہ السلام کی نیابت خدا کا ذکر ہے تو تناسب تساوی نا ہونے سے استدلال باطل ہے  

 ♦️آیت قبل از تخلیق آدم کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ زمین میں اپنا خلیفہ بنابے والے ہیں جاعل بمعنی خالق ہے 

 تو مفہوم آیت واضح ہے ہاں اگر شیعہ کہتا ہے کہ تخلیق آدم کے بعد کا فرمان ہے تو دلیل تو بنتی ہے کہ دلیل لائیں 

تو استدلال باطل ہے 

♦️دلالة النص وقطعى الدلالہ نہیں اور حصر کا بھی ذکر نہیں تو استدلال باطل ہے 

♦️اس آیت میں شیعہ کی مذکورہ امامت کی طرف کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے تو استدلال باطل ہے 

 خلاصہ۔شیعہ نے خلیفۃاللہ سے نیابت رسول اللہ کو استدلال کرنے کی کوشش کی ہے آیت نا تو دلالۃالنص ہی ہےاور نہ ہی شیعہ امامت اور خلیفۃاللہ میں تساوی کا تناسب ہے  آیت میں کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے کہ جس سے نیابت رسول اللہ کو قیاس کیا جا سکے توشیعہ کے استدلال پر یہ آیت بھی مستدل  نہیں بن سکتی تو اس آیت سے شیعہ کا تاویل کرنا اور استدلال باطل ہے۔۔

 تیسری آیت سے استدلال 

صفحہ 16 از 32