اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 15 از 32

 ظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ تعداد جس کے شیعہ دعویدار ہیں حقیقت میں اس قدیم یہودی خیال کی طرف لوٹتی ہے جس کا دانیال کی کتاب میں ذکر ہوا ہے 

کتاب دانیال میں یہ لکھا ہوا ہیں جب مہدی وفات پا جائے گا تو اس کے بعد سبط اکبر کی اولاد سے پانچ لوگ بادشاہ بنیں گے پھر پانچ سبط اصغر کی اولاد سے ہوں گے پھر ان میں سے آخری خلیفہ سبط اکبر کی اولاد میں سے کسی کے نام خلافت کی وصیت کرے گا اس کے بعد اس کا لڑکا بادشاہ بن جائے گا اس طرح 12 بادشاہ ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک امام مہدی ہوگا۔

 فتح الباری جلد 13 صفحه 213  

 نتیجہ۔۔۔۔اہلسنت کی ان احادیث سے شیعہ کا نظریہ امامت بطور محصور بارہ آئمہ کسی طور بھی ثابت نہیں ہوتا 

 استدلالات شیعہ 

شیعہ روافض کا ایک قاعدہ اور اصول ہے 

 عام لوگوں کے لیے امام کا اختیار کا انتخاب جائز نہیں بلکہ اس میں نص اور وصیت کا ہونا ضروری ہے 

 الفصول المہمۃ فی اصول الائمۃ صفحہ 142 

 نهج المسترشدین صفحه 63 

 شیعہ کے نزدیک امامت صاحب امامت کے لئے عصمت وصیت اور معجزے کو لازمی قرار دیتی ہے

 العیون جلد 2 صفحہ 127  

ہم ماقبل ذکر کر چکے ہیں کہ اس عقیدے کی شروعات سبائی ہشامی اورشیطانی ہاتھوں سے ہوئی جس کو ہم تفصیل سے ذکر کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود شیعہ کا دعوی ہے کہ یہ معاملہ اللہ اس کے رسول اور اقوال ائمہ اہل بیت کی طرف سے مقرر کردہ اور شریعت کا جزء ہے انہوں نے اس کے لئے ایسی نصوص اور روایات سے استدلال اورنقل کرنا شروع کر دیا جن کی وہ اپنے مذہب کے تقاضوں کے مطابق تاویل کرتے ہیں اور ان کو ماہرین سنت اور شریعت نقل کرنے والے اہل علم وفن بھی نہیں جانتے ان میں سے اکثر روایات موضوع یا سند کی حیثیت سے مطعون ہیں یا وہ ان کے فاسد تاویلات کے ساتھ کچھ لگاؤ نہیں کھاتی

 ابن خلدون المقدمہ جلد 2 صفحہ 527 

شیعہ نے اپنی عادت کے مطابق جس مسئلہ میں روایات اور نصوص کو جمع کرکے ان کا ڈھیر لگا دیا ہے جیساکہ شیعہ عالم ابن مطہر نے کتاب تالیف کی اور اس کا یہ نام رکھا  الالفیئن فی امامة امیرالمومنین  لیکن وہ اس کی تعداد کو پورا نہیں کر سکا اور صرف 1048 ایسی روایتیں نقل کی  جن کو اپنے مقصد کے دلائل خیال کرتا ہے 

جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان تمام روایات کوشیعہ کے منطق کے مطابق صرف اکادکالوگوں نے نقل کیا ہے 

بلکہ بطور راز یہ ایک ہی سے نقل ہوں گی اور وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں کیونکہ امامت ایک راز تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کوہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ راز بتایا کیونکہ وہی دروازہ ہیں تو جس نے ان کے علاوہ کسی دوسرے سے سماع کا دعوی کیا تو اس نے شرک کیا 

  الکافی جلد 1 صفحه 377 378 

 نتیجہ۔۔۔ہمارے سامنے یہ آیا کہ شیعہ امامت اور اماموں کے لیے عصمت کے قائل ہیں اور اماموں کی افضلیت کے  قائل ہیں ۔ 

 

 آئمہ کے اسماء گرامی 

 حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ 

 حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ 

 حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ 

 حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ 

 حضرت محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ 

 حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ 

 حضرت موسی کاظم رحمتہ اللہ علیہ 

 حضرت علی رضا رحمتہ اللہ علیہ 

 حضرت محمد تقی رحمۃ اللہ علیہ 

 حضرت علی نقی رحمتہ اللہ علیہ 

 حضرت حسن عسکری رحمتہ اللہ علیہ 

 امام عجل کی نسبت ان کی طرف کرتے ہیں حضرت امام محمد بن عبداللہ المہدی رحمتہ اللہ علیہ 

 تاریخ الائمه ص 6 

 شیعہ کے نزدیک معیار امامت 

۔نص یعنی الله و رسول اللہؐ سے حکم

 ۔عصمت ۔با وجود قدرت المعصیت رغبت نا ہو 

 ۔افضلیت ۔کل امت میں صفات حمیده و اخلاق رشیدہ افضلمیں ہو گی کہ شیعہ قرآن اور احادیث سے کیسے اپنے اس عقیدے کو استدلال کرتے ہیں 

١۔۔۔۔پہلی آیت سے استدلال

 وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (124)}.

 ترکیب الإعراب:

الواو استئنافيّة (إذ) اسم ظرفي للزمن الماضي مبنيّ في محلّ نصب مفعول به لفعل محذوف تقديره اذكر (ابتلى) فعل ماض مبنيّ على الفتح المقدّر (إبراهيم) مفعول به مقدّم منصوب (ربّ) فاعل مرفوع والهاء مضاف إليه (بكلمات) جارّ ومجرور متعلّق ب (ابتلى)، الفاء عاطفة (أتم) فعل ماض و(هنّ) ضمير متّصل مبنيّ في محلّ نصب مفعول به والفاعل ضمير مستتر تقديره هو (قال) فعل ماض والفاعل هو (إن) حرف مشبّه بالفعل للتوكيد والياء اسم إنّ (جاعل) خبر إنّ مرفوع والكاف ضمير مضاف إليه (للناس) جارّ ومجرور متعلّق بمحذوف حال من (إماما)- نعت تقدّم على المنعوت- (إماما) مفعول به لاسم الفاعل جاعل (قال) مثل الأول الواو عاطفة (من ذرّيّة) جارّ ومجرور متعلّق بفعل محذوف تقديره اجعل، والمفعول به محذوف تقديره إماما أي اجعل من ذرّيتي إماما (قال) مثل الأول (لا) نافية (ينال) مضارع مرفوع (عهد) فاعل مرفوع والياء مضاف إليه (الظالمين) مفعول به منصوب وعلامة النصب الياء.

جملة: (ابتلى إبراهيم ربّه) في محلّ جرّ مضاف إليه.

وجملة: (أتمّهنّ) في محلّ جرّ معطوفة على جملة ابتلى.

وجملة: (قال..) لا محلّ لها استئناف بياني أو تفسير للابتلاء.

وجملة: (إنّي جاعلك) في محلّ نصب مقول القول.

وجملة: (قال الثانية) لا محلّ لها استئنافيّة.

وجملة: (اجعل) من ذرّيّتي..) في محلّ نصب مقول القول وهو معطوف بالنسق على مقول اللّه تعالى: (إنّي جاعلك).

وجملة: (قال الثالثة) لا محلّ لها استئناف بياني.

صفحہ 15 از 32