اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 14 از 32

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو دا فة الأشراف: 2134)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 51 (7222)، صحیح مسلم/الإمارة 1 (1821)، سنن الترمذی/الفتن 46 (2224)، مسند احمد (5/86، 88، 96، 105) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس میں:  «تجتمع علیہ الأمة»  کا ٹکڑا منکر ہے،  صحیح نہیں ہے)، (ابو خالد الاحمسی لین الحدیث ہیں، اور اس کی روایت میں متفرد ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 376، وتراجع الألباني: 208)
 

حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا داود، عن عامر، عن جابر بن سمرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا يزال هذا الدين عزيزا إلى اثني عشر خليفة، قال: فكبر الناس وضجوا، ثم قال: كلمة خفية، قلت لأبي: يا أبت ما قال: قال: كلهم من قريش".

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا“ لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور  ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے: ”یہ سب قریش میں سے ہوں گے“۔

20819 - 4280

تخريج الحديث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الإمارة 1 (1821)، (تحفة الأشراف: 2203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/87، 88، 90، 93، 96، 101، 106) (صحیح)» ‏‏‏‏
 

  حدیث نمبر: 4281

حدثنا ابن نفيل، حدثنا زهير، حدثنا زياد بن خيثمة، حدثنا الاسود بن سعيد الهمداني، عن جابر بن سمرة بهذا الحديث زاد فلما رجع إلى منزله اتته قريش فقالوا: ثم يكون ماذا؟ قال: ثم يكون الهرج.

اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے  پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”پھر قتل ہو گا“۔

20820 - 4281

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/92) (صحیح) (اس میں: «فلما جمع»  کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے)» ‏‏‏‏

 سنن ابی داود کتاب المہدی جلد 4 صفحہ 471 

شیعہ حضرات ان احادیث سے اپنے بارہ اماموں کو استدلال کرتے ہیں  چہ جائے کہ وہ اہلسنت کی کتابوں کو حجت نہیں مانتے لیکن الزامی جواب کے طور پر ان احادیث کو پیش کرتے ہیں 

 خلاصہ احادیث

١۔۔۔یہ 12خلفاء قریش سے ہوں گے 

٢۔ ۔۔یہ منصب خلافت پر متمکن ہوں گے 

٣۔۔۔ان کے دور میں اسلام عزیز اور قوی ہوگا یعنی اس کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکے گا کوئی 

۴۔ ۔۔لوگوں کا ان پر اتفاق واجماع ہوگا 

۵۔ ۔۔ان کے عہد میں لوگوں کے معاملات سکون اور درست سمت میں چلتے رہیں گے 

 نوٹ

  شیعہ حضرات امامت کا دعوی کرتے ہیں جبکہ ان احادیث میں خلافت کا ذکر ہے ۔

 ان حضرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے وہ بھی بہت تھوڑی مدت کے لیے 

 دونوں کے ادوار میں امت اکٹھی نہیں ہوئی تھی 

 خود شیعہ کی نظر میں کسی ایک کی مدت میں بھی امامت کا معاملہ درست نہیں ہوسکا بلکہ ابھی تک امت اسی خراب اور فساد سے دوچار ہے اب ان پر ظالم بلکہ کافر حکمران مسلط ہوتے رہے ہیں 

 منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 210 

 منہاج سنہ المنتقی مختصر صفحہ 533 

 خود ائمہ بھی اپنے دینی امور میں تقیہ کی آڑ میں پناہ لیتے رہے ہیں 

 مختصر الصواقع صفحہ 231 مخطوط 

 امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ  جب خلافت پر براجمان تھے تب بھی ان کا دوردورتقیہ تھا جس طرح شیعہ کے عالم مفید کا یہ صاف صاف کہنا ہے 

 الارشاد صفحہ 7

 وہ قرآن کو ظاہر کر سکے نہ جملہ احکام اسلام کے مطابق فیصلے کر سکے جس طرح نعمت اللہ جزائری نے اس بات کی وضاحت کی ہے 

 انوار نعمانیہ جلد 2 صفحہ 362 

 دین کے معاملے میں وہ صحابہ کرام کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر ان کی معاونت و خاطرداری کرتے رہے جس طرح شیعہ کے المرتضی یہ اقرار کرتا ہے 

 تنزیہ الشرعیہ صفحہ 132 

 ائمہ کی تعداد اس میں حصر کے ساتھ ذکر نہیں ہے بلکہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان بارہ خلفاء کے دور میں اسلام کی کیا حالت ہوگی 

شیخ الاسلام فرماتے ہیں 

 اسلام اور اسلامی قانون بنی امیہ کے زمانے میں بعد والے زمانوں کی نسبت زیادہ وسیع اور غالب تھا پھر انہوں نے اس حدیث سے اجتہاد کیا ہے کہ یہ امر یعنی اسلام بارہ خلفاء تک عزیزوغالب رہے گا تمام قریش سے ہوں گے پھر کہا اور ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔

 منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 206 

 ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ ولایت منتظر کے دوام کے قائل ہیں ان کے نزدیک کوئی زمانہ بھی بارہ اماموں میں سے کسی امام سے خالی نہیں ہوتا 

جبکہ ان احادیث میں بارہ خلفاء کے بعد امر اسلام میں بگاڑ کی طرف اشارہ ہے 

 شیعہ کے اس نظریے سے زمانے میں دو انواع باقی نہیں رہی  ایک وہ جس میں امت کا معاملہ قائم اور درست ہوگا  دوسری وہ زمانہ جس میں وہ قائم نہیں ہو سکا اور یہ بات حدیث کے خلاف ہے 

 شیعہ اعتقاد کے  منتظر کے خروج تک 

تقیہ کا زمانہ ہے شیعہ کے نزدیک جس نے تقیہ کو ترک کر دیا وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے نماز ترک کر دیں 

 ایسے ہی امت کا ان پر اجماع نہیں ہوا صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی زمام اقتدار تک نہیں پہنچا 

جبکہ ان کی تعداد اور اعیان کے متعلق شیعہ شدید ترین اختلافات کا شکار ہیں 

جس کی وجہ سے بے شمار فرقہ شیعہ کے وجود میں آئے جن کو الخطط نے 300 تک ذکر کیا ہے اور خود شیعہ فرق کی کتابیں ان سے لبالب بھری ہوئی ہیں 

 وہ سارے کے سارے قریش سے ہوں گے اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور ان کی اولاد کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ ان کی کوئی امتیازی حیثیت بیان نہیں کی گئی اب جب مطلق القریش کا ذکر کردیا قریش کے کسی ایک قبیلے کے ساتھ مخصوص نہیں کیا تو خلفائے راشدین بنو تمیم بنو عدی بنو عبد شمس بنو ہاشم ان تمام قبائل سے تھے 

 منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 211 

 مکمل احادیث میں صرف لفظ 12 رہ گیا ہے صحیح مسلم میں ذکر ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں بارہ منافق ہے 

 المسلم صفات المنافقین حدیث نمبر 2779

صفحہ 14 از 32