اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 13 از 32

اہلسنت اور معتزلہ وغیرہ کے نزدیک شیعہ صرف امت دعوت میں شامل ہیں یعنی وہ اس امت محمدیہ کا حصہ نہیں ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و رسالت کو قبول کیا ہے کیونکہ یہ اپنے عقیدے کے لحاظ سے اسلام میں داخل نہیں ہیں شیعہ نے یہی بات کہ وہ تہتر فرقوں میں منقسم ہے قبل ازیں خود ہی کہیں ہے جس کی طرف شہرستانی اور رازی نے بھی اشارہ کیا ہے 

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 165 

 اعتقادات فرق المسلمین صفحہ 85 

دائرۃ المعارف میں مذکور ہے شیعہ فرقوں کی فروع اتنی بڑی تعداد میں ظاہر ہوئی ہیں جو تہتر فرقوں سے کہیں زیادہ ہیں جبکہ مقریزی نے ذکر کیا ہے کہ شیعہ فرقوں کی تعداد 300 تک پہنچتی ہے 

 دائرۃ المعارف جلد 14 صفحہ67

 الخطط جلد 2 صفہ 351  

اس اختلاف کا غالب سبب شیعہ کا ائمہ اہل بیت سے متعلق اختلاف کا شکار ہونا ہے یہ لوگ ائمہ کی ذوات اور ان کی تعداد کے بارے میں مختلف نظریات کے حامل ہیں اس طرح کسی امام پر توقع اور اس کے انتظار میں یا مزید کسی امام کو امام بنانے جیسے مسائل کی بدولت مختلف عقائد کے حامل ہیں پھر اس پر مستزادکہ یہ لوگ مسائل کی تفریح اور تاویل میں تباین اور تنازعات کا شکار ہیں۔اسی لئے علامہ ابن خلدون نے تعین ائمہ میں شیعہ اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ اتنا بڑا اختلاف بتاتا ہے کہ صراحت خلافت کی کوئی حقیقت نہیں ہے یعنی یہ اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ شیعہ کے اس دعویٰ کی کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور دیگر ائمہ کی خلافت کی صراحت کی تھی کوئی حقیقت نہیں ہے  کیونکہ اگر یہ امر اللہ تعالی کی طرف سے منصوص ہوتا تو اس میں اتنا زیادہ اختلاف و تباین رونما نہ ہوتالیکن اس میں بہت زیادہ اختلافات موجود ہیں اور یہ کثرت اختلاف ہی نص کے نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے  اور نہ ہی محققین کو یہ کہنا پڑتا کہ شیعہ فرقوں کی تعداد 300 تک پہنچتی ہے 

بہرحال ہم اس موضوع یعنی شیعہ کے فرقے کتنے ہیں اور کس امام کے وفات کے بعد کس کس بیٹے کی امامت کا دعوی لوگوں نے کیا اور کیا کیا عقائد ان کے لیے گھڑے گئے اس پر انشاء اللہ تعالی شیعہ فرقوں کی تعداد کے حوالے سے لکھیں گے 

  نیابت مجتہد کی ضرورت آئمہ کو ایک محدود تعداد میں منحصر کر دینا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو عقل اور زمینی حقائق کی منطق بھی قبول نہیں کرتی کیونکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعین تعداد ختم ہو جانے کے بعد کیا امامت امام کے بغیر ہی رہے گی ؟؟؟کیونکہ آپ دیکھتے ہیں کہ اثناعشریہ کے ظاہر ہونے والے اماموں کا زمانہ اڑھائی صدیوں سے تھوڑا ہی زیادہ بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ شیعہ آئمہ کو محدود تعداد میں متعین کرنے سے نکلنے کے لیے نیابت مجتہد کے مسئلہ کے لئے مجبور ہوئے ہیں اور نیابت امام کی حدود میں بھی ان کا اختلاف ہے 

 الخمینی الحکومت الاسلامیہ صفحہ68 

لہذا عصرحاضر میں یہ لوگ اپنی اساس سے جو ان کے دین کا قاعدہ ہے مکمل طور پر فرار ہونے کے لئے لاچار ہوچکے ہیں اور انہوں نے سربراہ مملکت کے چناؤ کےلئے انتخابی طریقہ کار کو مقرر کیا ہے لیکن انہوں نے حصرِ تعداد کو چھوڑ کر حصرِ نوع کی راہ اختیار کرلی اور ملک کے سربراہ شیعہ فقیہ تک محدود کر دی ہے جسے ولایت فقیہ کا نام دیا جاتا ہے  الخمینی الحکومت الاسلامیہ صفحہ 48 

 اھلسنت کی روایت سے استدلال 

حدیث نمبر: 4706

Tashkeel Show/Hide

حدثنا ابن أبي عمر ، حدثنا سفيان ، عن عبد الملك بن عمير ، عن جابر بن سمرة ، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا، ثم تكلم النبي صلى الله عليه وسلم، بكلمة خفيت علي، فسألت أبي ماذا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فقال: كلهم من قريش "،

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہمیشہ لوگوں کا کام چلتا رہے گا یہاں تک کہ ان کی حکومت کریں گے بارہ آدمی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک بات  کہی چپکے سے جو میں نے نہیں سنی۔ میں نے اپنے باپ سے پوچھا: کیا کہا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”یہ سب آدمی قریش سے ہوں گے۔“

13677 - 4706

 المسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش و خلافت فی قریش 

حدیث نمبر: 7222

حدثني محمد بن المثنى، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، سمعت جابر بن سمرة، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" يكون اثنا عشر اميرا، فقال كلمة لم اسمعها، فقال ابي، إنه قال: كلهم من قريش".

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ (میری امت میں) بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کوئی ایسی بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی، بعد میں میرے والد نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  یہ فرمایا کہ وہ سب کے سب قریش خاندان سے ہوں گے۔
 

 البخاري كتاب الاحکام باب الاستخلاف جلد 8 صفحہ 128 

 حدیث نمبر: 4279

حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا مروان بن معاوية، عن إسماعيل يعني ابن ابي خالد، عن ابيه، عن جابر بن سمرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا يزال هذا الدين قائما حتى يكون عليكم اثنا عشر خليفة كلهم تجتمع عليه الامة، فسمعت كلاما من النبي صلى الله عليه وسلم لم افهمه، قلت لابي ما يقول؟ قال: كلهم من قريش".

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی“ پھر میں نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں  سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے“۔

20818 - 4279

صفحہ 13 از 32