اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 12 از 32

إشارة النص تک نہیں بن سکتا آئمہ کی تعداد کے لیے چہجائےکہ دلالت النص ہو  

۵۔۔۔اولی الامر ۔۔

۔میں آئمہ کی تعدادکو محصور کرنے کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے 

 نتیجہ۔۔ہم ذکرکرآئے ہیں کہ امام وامامت عام ہے اور اس آیت سے بھی یہی ثابت ہے   

 حدیث نمبر: 696

حدثنا محمد بن أبان، حدثنا غندر، عن شعبة عن أبي التياح، أنه سمع أنس بن مالك، قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي ذر:"اسمع وأطع ولو لحبشي كأن راسه زبيبة".

ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے، انہوں نے ابوالتیاح سے، انہوں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا (حاکم کی) سن اور  اطاعت کر۔ خواہ وہ ایک ایسا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو جس کا سر منقے کے برابر ہو۔

 البخاری حدیث نمبر 696 

 المسلم حدیث نمبر 1837

 منہاج السنۃ جلد 2 صفحہ 105 اور 6 پر اور کی روایات موجود ہیں 

١۔۔۔اس حدیث کا مفہوم بھی امامت کو عام ہونے پر دال ہے 

٢۔۔۔اور کوئی تعداد اماموں کی مقرر نہیں ہے 

 روایت۔لوگوں کا امیر ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد جس کی معیت میں دشمن کے ساتھ لڑائی کی جائے راستے پر امن ہو جائے اور اس کے ذریعہ طاقتور سے کمزور کا حق لیا جائے تاکہ نیک راحت  پائے اور فاجر سےسکون ہو جائے

 نہج البلاغہ صفحہ 72

1۔۔۔کوئی امامت کی تخصیص  نہیں ہے 

٢۔ ۔۔اماموں کی کوئی تحدید نہیں ہے

  نتیجہ۔ جہاں تک شیعہ کی کتابیں ہیں تو وہ ایسی روایت سے لبالب بھری ہوئی ہیں جو اماموں کو بارہ میں تحدید کرتی ہیں لیکن یہ بات یاد رہے کہ ان روایات کا خفیہ اور رازدارانہ تبادلہ ہوتا تھا جیسا کہ ہم نے ماقبل ذکر کیا ہے اور آئمہ انراویوں کی تکذیب کرتے تھے جو ان کی صداقت پر شکوک کو جنم دیتی ہیں بالخصوص کتاب اللہ میں بھی جس کی طرف ان کے آئمہ کی طرف منسوب اقوال میں بھی فیصلے کے  وقت رجوع کا حکم دیا گیا ہے ان روایات کا سوائے اس کے کوئی شواہد نہیں کہ اس کی باطنی تاویلات اور موضوع روایات کے ذریعہ اس کی مفہوم سازی کی جائے اور یہ موضوع روایات ہیں آخر میں شیعہ کا سہارا رہ جاتی ہیں جن کے جھوٹ ہونے پر تمام شواہد تاکیدی دلالت کرتے ہیں ایسے ہی ان روایات کو جمع کرنے والے ابراہیم قمی الکلینی جیسے الشیعہ وہ غالی لوگ تھے جن کو اسلامی صفوف سے خارج سمجھنا ضروری ہے کیونکہ انہوں نے ہی قرآن کے ناقص اور تحریف کی خیالی کہانیاں اور تصوراتی افسانے نقل کیے ہیں اس طرح یہ لوگ غیر دیانتدار اور ان کی کتابیں غیر معتبر ہیں 

ایسے ہی اس مسئلہ میں شیعہ فرقوں کے اقوال میں اختلاف اور ائمہ کی تعداد اور ان کے اعیان وذوات میں ان کے مذاہب میں تباین وتضاد جیسا کہ ہر امام کی وفات کے بعد شیعہ می کئی فرقہ معرض وجود میں آجاتے اور ہر گروہ امام کے تعین میں ایک نیانظریے ایجاد کر لیتا ہےپھر دیگر جماعتوں سے ہٹ کر بعض نئے عقائد و افکار اپنا لیتا اور اپنے متعلق دعویٰ کرتا ہے کہ صرف وہی حق پر ہے حتی کے خودشیعہ بھی اس کی بنا پر شکایت اور خود ملامتی کا شکار نظر آتے ہیں

 شیعہ مورخ مسعودی  (حجر فرماتے ہیں کہ اس کی کتابیں بانگ دہل اعلان کرتی ہیں کہ یہ شیعہ تھا فرقہ اثنا عشریہ اپنے علماء کے تراجم میں اسے اپنا عالم تسلیم کرتا ہے   

 لسان المیزان جلد 4 صفحه 224 

  وفاۃ الوفیات جلد 3 صفحہ 12 

 الکنی و الالقاب جلد 3 صفحه 160 

 جامعہ الرواة جلد 1 ص 573 

میں ذکر کیا ہے کہ شیعہ فرقوں کی تعداد73 تک پہنچتی ہے 

 مروج الذھب جلد 3 صفحہ 221 

ہرفرقہ دوسرے کی تکفیر کرتا ہے جیسا کہ ایک رافضی میر باقر الداماد(دولت صفویہ میں شیعہ کے کبار علماء میں سے تھا  

 الکنی والالقاب جلد 2 صفحہ 206 

 خلاصۃالاثر صفحہ 301 

 تاریخ العلماء صفحه 83 )

دعوی کرتا ہے کہ افتراق امت والی حدیث(اس حدیث کے متعلق امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور کتب سنن و مسانید میں مشہور ہے  

 مجمع الفتاوی جلد 3 صفحہ 345 

علامہ مقبلی کہتے ہیں کہ افتراق امت والی حدیث متعددطرق اور اسانید سے مروی ہےجو ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں کہ اس کے بعد حدیث کے مفہوم میں کسی قسم کا شک اور تردد باقی نہیں رہتا 

 العلم الشامخ صفحہ 414  

اسی روایت کو اکثر محدثین اور سنن اربعہ کے مولفین نے نسائی کے سوا روایت کیا ہے اور بعض روایات میں یہ صراحت موجود ہے کہ ایک فرقہ ناجیہ ہے اور دیگر تمام فرقےہلاک ہونے والے ہیں اس روایت کو اصحاب سنن میں سے صرف  امام ابو داود(4573)اور دیگر ائمہ حدیث  دارمی جلد 2 صفحہ 241  احمد جلد 4 صفحہ 106  حاکم جلد 1 صفحہ 128  الشریعہ صفحہ-18 بعض طرق میں زنادقہ کے سوا تمام فرقوں کے نجات پانے کے صراحت بھی موجود ہے لیکن یہ روایت اور علماء حدیث کے نزدیک موضوع ہے  کشف الخلفاء جلد1 صفحہ 359  اسرار المرفوعہ صفحہ 161 اہل سنت کی طرح شیعہ کتب میں بھی یہ روایت موجود ہے جس کے الفاظ ہیں کہ میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک کے سوا تمام فرقہ ہلاک ہوجائیں گے انہوں نے کہا وہ ایک فرقہ کونسا ہے فرمایا وہ جماعت ہے جماعت ہے جماعت ہے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میرے بعد میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گی جن میں صرف ایک فرقہ نجات پانے والا ہے اور بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے 

 الخصال جلد 2صفحہ 584 ۔585

ان شیعہ روایات میں کسی میں یہ صراحت نہیں کہ وہ تمام فرقہ شیعہ کے ہیں البتہ ان میں یہ وضاحت موجود ہے کہ وہ نجات یافتہ فرقہ شیعہ نہیں بلکہ جماعت ہے )میں تہتر فرقوں سے مذکور شیعہ فرقے ہیں اور ان میں سے نجات پانے والا گروہ صرف امامیہ ہے 

 جمال الدین افغانی التعلیقات علی شرح الدوانی العضدیة ضمن كتاب الأعمال الکاملة للافغانی دراسة وتحقيق 

محمد عمارہ۔ جلد 1 صفحہ 215 رشید رضا نے اس کتاب کو محمد عبدہ کی طرف منسوب کیا ہے تفسیر المنار جلد 8 صفحہ 221 لیکن محمد عمارہ نے ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب جمال الدین افغانی ہی کی تالیف کردہ ہے دیکھیں محمد عمارہ الاعمال الکاملہ للافغانی جلد 1 صفحہ 155 صفحہ 156 

 الاعمال الکاملہ لمحمد عبدہ۔ جلد 1 صفحہ 209 

صفحہ 12 از 32