اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 11 از 32

اس لئے ابوالحسن رضا نے کہا جس طرح شیعہ کتب روایات کرتی ہیں ہشام بن حکم ہی وہ شخص ہے جس نے ابوالحسن کے ساتھ وہ کیا جو کیا اس نے ان کو بتایا اور انکے خبردی کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا جو اس نے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی ہے 

 رجال کشی صفحه 278 

شیعہ کتب یہ انکشاف بھی کرتی ہیں کہ ہشام زنادقہ میں سے ہے اور اس نےبعض زنادقہ کی گود میں تربیت پائی رجال کشی میں ہے ہشام ابو شاکر کے لونڈوں میں سے ہیں 

 رجال الکشی صفحہ 278 

ابوشاکر دیصانی فرقہ دیصانیہ کا سربراہ تھااس نےہشام بن حکم کو گمراہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا 

 الرافعي تحت رایۃ القران صفحة 213 

ان ساری باتوں کے باوجود شیعہ کا عصر حاضر کا ایک آیت اللہ ان تمام مصائب کے ذمہ دار جن کو شیعہ کی ثقہ ترین کتب رجال میں نقل کیا ہے اس ہشام کے بارے میں کہتا ہے ۔ہمارے اسلاف میں سے کسی کو کوئی ایسی چیزغلط نہیں ملی جو اس کی طرف منسوب کی ہو 

 عبدالحسین الموسوی المراجعات صفحه  313 

خدا معلوم حقیقت میں یہ بات اس سے مخفی رہی ہے یا وہ تقیے کی ڈھال میں اس کا انکار کر رہا ہے ؟؟؟

کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا علم نہیں جو ان کی کتابوں میں موجود ہے چنانچہ ہشام بن حکم شیطان الطاق اور ان دونوں کے پیروکار ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے متعلق عبداللہ ابن سبا کے نظریہ کو زندہ کیا پھر اس کو اہل بیت کی نسل سے دوسروں تک پھیلا دیا اور اہل بیت کو جن باز حادثات کا سامنا کرنا پڑا جیسے علی و حسین رضی اللہ عنہما کی شہادت ان کو انہوں نے لوگوں کے جذبات و احساسات کو آنگیخت کرنے اور ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے استعمال کیا اور سلطنت اسلامی کے خلاف اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے اس پردے کے سائے میں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی 

 بحارالانوار جلد سوم صفحه 259 

چنانچہ معلوم ہوا کہ یہ ہشام اور شیطان کے پیروکاروں کے ہاتھوں  ہی امامت کو مخصوص افراد میں محصور کرنے کا عقیدہ کوفہ میں سرایت کر گیا  

 روایت بطور دلیل 

اسلامی معاشرے میں جن لوگوں کے سامنے یہ عقیدہ پیش کیا گیا ان میں سے چند افراد جعفر کے پاس اس کی حقیقت دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے الکشی اپنی سند کے ساتھ سعیداعرج سے روایت کرتا ہے

 ہم عبداللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ دو آدمی اجازت لے کر حاضر ہوئے ایک نے کہا کہ تم میں وہ امام ہے جس کی اطاعت فرض کی گئی ہے ؟؟؟

انہوں نے کہا میں اپنے خاندان میں کسی ایسے کو نہیں جانتا اس نے کہا کوفہ میں کچھ لوگ ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ تم میں ایک امام ہے اس کی اطاعت فرض کی گئی ہے وہ جھوٹ نہیں بولتے وہ متقی ہیں عبادت گزار ہیں ان میں ایک عبداللہ بن یعفور اور فلاں فلاں ہے ابو عبداللہ نے کہا میں نے ان کو اس کا حکم دیا ہے نہ یہ کہا ہے کہ وہ یہ بات کہیں (سے عبارت میں بین سطور باور کرایا جارہا ہے کہ جعفر کا انکار تقیہ کی بنا پر تھا) اس نے کہا میرا کیا گناہ ہے پھر ان کا غصہ چہرہ غصے سے لال ہوگیا راوی کہتاہے جب انھوں نے ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو چلتے بنے انہوں نے کہا کہ تم ان دونوں آدمیوں کو جانتے ہو ہم نے کہا ہاں یہ دونوں زیدیہ ہیں 

 رجال الکشی صفحہ 428 

 نتیجہ۔ 

معلوم ہوا کہ اہل بیت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا دعوی کرنے والے شیطان الطاق اور ہشام بن حکم جیسے افراد کے ہاتھوں دوسری صدی میں ائمہ کو مخصوص تعداد میں محصور کرنے کے نظریے کے بیج بوئے گئے ائمہ کی تعداد کے بارے میں بھی شیعہ کے مذاہب اور رجحانات میں اختلافات اور تضاد پایا جاتا ہے جیسا کے تحفہ اثنا عشریہ میں جان لو کہ امامیہ ائمہ کو مخصوص افراد میں منحصر کرنے کے قائل ہیں لیکن ان کا ان کی تعداد میں اختلاف ہے بعض پانچ کہتے ہیں بعض 7بعض 8-بعض12 اور کچھ 13کہتے ہیں 

شیعہ کے اسباب میں لاتعداد القول ہے شیعہ فرقوں کی تعداد بھی اسی بنیاد پر منحصر ہے اگر کتب فرق کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آپ کے سامنے آئے گی ہم چند کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں طوالت سے بچتے ہوئے کہ یہ ایک الگ موضوع ہے  

   الخطط المقریزی نے شیعہ فرقوں کی تعداد 300 سے زائد بتائی ہے 

 الخطط جلد 2 صفحہ 351     

 مسائل الامامه ناشی اکبر کی 

 الزینة ابوحاتم رازی کی 

 المقالات و الفرق اشعری قمی کی 

 الفرق الشیعۃ و نوبختی کی 

 المنیۃ والامل مرتضی کی 

 اماموں کی تعداد میں اختلاف کی مختلف روایات مختلف کتابوں میں موجود ہیں 

 الکافی شرح جامع جلد 9 صفحه 123 

 رجال الکشی صفحہ373 

 رجال الکشی صفحہ373 374 

 الغیبة صفحہ 92 

 الکافی جلد 1 صفحه 532 

 اکمال الدین صفا 264 

 المفید الارشاد صفحہ 393 

 الخصال ص 477 478 

 عیون اخبار الرضا جلد 2 صفحہ 52 

 نوٹ۔ ۔ان تمام کتابوں میں اور جو حوالے پیش کیے گئے ہیں ان روایات میں اماموں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے یہاں سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اگر نظریہ امامت منصوص من اللہ معصوم مفترضة الطاعت ہے تو اماموں کے تعیین میں اتنا اختلاف کیوں ہے اب ظاہر بات ہے جب شیعہ مزہب ماقبل الاسلام فلسفوں کی آماجگاہ ہے اور ماقبل ہم بیان کرچکےہیں کہ بارہ آئمہ کی روایات دانیال کی کتاب میں موجود ہیں   

 ائمہ کو متعین تعداد میں محصور کرنے پر نقد وتبصرہ

۔Surat No 4 : Ayat No 59 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ  وَّ  اَحۡسَنُ  تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾

 اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالٰی کی اور فرمانبرداری کرو رسول  ( صلی اللہ علیہ و سلم )  کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔   پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالٰی کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اگر تمہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے  ۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبارِ انجام کے بہت اچھا ہے ۔  

١۔۔۔اولي الامر۔۔۔۔۔۔۔

لفظ عام ہے۔

٢۔۔۔اولی الامر۔۔۔۔۔

۔آئمہ کی تعداد کازکر نہیں ہے 

٣۔۔۔۔اولی الامر۔۔۔۔

۔نص قطعی نہیں اتنے اہم مسلے کے لیے کوئی نص قطعی ہونی چاہیے تھی

۴۔۔۔اولي الامر۔۔۔

صفحہ 11 از 32