اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 10 از 32

 رجال الکشی صفحہ 188 

 الکافی جلد 1 صفحه 174

 تنقیح المقال جلد 1 صفحه 470 

  تبصرہ۔ محب الدین خطیب نے مختصر تحفہ اثنا عشریہ پر اپنی تعلیق میں اسی روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا 

اس طرح شیطان الطاق نے امامت کا یہ جھوٹ اختراع کیا جو شیعہ کے ہاں دین کے اصول میں داخل ہوچکا ہے اس نے امام زین العابدین علی بن حسین کو یہ الزام دیا کہ انہوں نے دین کی اساس کو چھپا دیا حتی کہ اپنے بیٹے سے بھی جو آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم  کے چنیدہ افراد میں تھےاسی طرح اس نے امام زید پر تہمت لگائی کہ وہ اپنے باپ کی امامت پر ایمان لانے کی قابلیت میں خصیص ترین شیعت کے درجے پر بھی نہیں شیعہ خود اس روایت کو اپنے معتبرترین مصادر میں روایت کرتے ہیں اور اس میں یہ اعلان واظہار کرتے ہیں کہ شیطان الطاق بڑی ڈھٹائی سے یہ خیال پیش کرتا ہے کہ وہ امام زید کے والد کے بارے میں ان کے دین کی اصل کے متعلق وہ کچھ جانتا ہے جو امام زید بھی اپنے والد کے متعلق نہیں جانتے شیطان الطاق کے بارے میں یہ سب بہت زیادہ نہیں اس سے نقل کیاگیا ہے کہ اس نے امامت کے بارے میں اپنی کتاب میں یہ کہا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن میں یہ نہیں کہا 

 ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ التوبہ40

 ترجمہ۔ جبکہ وہ دو میں دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے 

 شیطان الطاق اس آیت کا منکر تھا 

 مختصر التحفہ اثناعشریہ صفحہ ۔۔195 96 حاشیہ 

 روایت۔ شیطان الطاق جو امامت کے متعلق باتیں اور بحث مباحثہ کرتا تھا اس کی خبر جعفر کو پہنچی تو انہوں نے کہا اگر اس کے مخالفین میں سے کوئی حریف شخص اس کے ساتھ بحث کرنا چاہے تو وہ کر سکتا ہے راوی کہتا ہے میں نے پوچھا وہ کس طرح تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سے کہے تم یہ جو بات کر رہے ہو اس کے بارے میں اپنے امام کا کلام پیش کروں اگر اس نے کہا کہ ٹھیک ہے میں پیش کرتا ہوں تو وہ جھوٹ بولے گا اور اگر وہ کہے نہیں تو پھر حریف اس سے کہے گا تم وہ بات کس طرح کہہ رہے ہو جو تمہارے امام نے کہی ہی نہیں ؟؟پھر جعفر صادق نے کہا یہ ایسی باتیں کرتے ہیں اگر میں ان کا اقرار کرلو اور ان کو پسند کرو تو میں گمراہی پر قائم ہو جاؤں گا اور اگر ان سے برات کا اظہار کرو تو یہ مجھ پر گراں گزرے گا ہم تھوڑے ہیں اور ہمارے دشمن زیادہ راوی کہتا ہے میں آپ پر قربان ہو جاؤں کیا میں آپ کی بات اس تک پہنچا دوں ؟؟؟انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ وہ ایسے معاملے میں داخل ہوچکے ہیں کہ ان کو اس سے رجوع کرنے میں حمیت اور تعصب مانع ہے۔راوی کہتا ہے میں نے یہ بات ابوجعفر احول تک پہنچائی تو اس نے جواب دیا خدا کی قسم مجھے اس سے رجوع کرنے میں حمیت کے علاوہ اور کوئی چیز مانے نہیں  

 رجال کشی صفحه  190 ۔ 91 

 خلاصہ۔ 

قاضی عبدالجبار ہمدانی کی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں اشخاص شیطان الطاق اور ہشام بن حکم (المتوفی۔ 179)نے ہی حضرت ابوبکر و عمر عثمان اور مہاجرین و انصار رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پر سب و شتم کرنے کی لوگوں کی  ہمت بڑھائی 

 تثبیت دلائل النبوۃ جلد 1 صفحہ 225 

 روایت۔رجال کشی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہشام بن حکم کی مسئلہ امامت کے لیے سازش کی خبر ہارون رشید تک پہنچی تھی کیونکہ ان سے یحیی برمکی نے کہا تھا 

امیرالمومنین میں نے ہشام کے معاملے کی چھان پھٹک کی ہے اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اللہ تعالی کا اس کی زمین میں آپ کے علاوہ بھی کوئی امام ہے۔ جس کی اطاعت فرض ہے انہوں نے کہا سبحان اللہ اس نے کہا ہاں بلکہ اس کا یہ نظام ہے کہ اگر وہ اس کو خروج کا حکم دے گا تووہ خروج کرے گا 

 رجال الکشی صفحہ 258   

 خلاصہ۔ اس روایت سے ظاہر ہوتا کہ ہارون رشید یہ بات سن کر چونک گیا جو اس کے نئی شے ہونے پر دلالت کرتی ہے 

ہشام بن حکم نے یہ بات بھی پھیلا دی کہ یہ بات وہ امامت کے بارے میں موسی کاظم کے حکم سے کہتا ہے اس نے ان کو یہ الزام دے کر ان کے ساتھ بہت زیادہ برا کیا اور اس پاداش میں خلیفہ مہدی نے ان کو قید میں ڈال دیا اور ان سے یہ وعدہ لیا کہ وہ اس پر خروج کریں گے نہ اس کی اولاد  میں سے کسی کے خلاف بغاوت کریں گے تو انہوں نے جواب دیا 

 خدا کی قسم یہ میری شان ہے نہ میرے دل میں اس کا کوئی خیال ہی پیدا ہوا ہے 

 ابن کثیر البدایہ والنہایہ جلد 10 صفحہ 183 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ موسی کاظم پر بادشاہت پر نظر لگائے بیٹھنے کا الزام تھا اس لئے ان کو پہلے مہدی پھر ہارون رشید نے قید میں ڈال دیا تھا 

 منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 155 

اس سے ظاہر یہی لگتا ہے کہ اس خبر کو پھیلانے والا ان کے خلاف ہشام بن حکم تھا جو امامت اور اس کے استحقاق کے متعلق ان کے طرف سے باتیں بنا کر پیش کرتا اس لئے جب ہارون کوہشام کے بارے میں ایسی باتوں کا علم ہوا تو اس نے اپنے عامل سے کہا اس کو اور اس کے ساتھیوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھناپھر اس نے ابوالحسن موسی کی طرف کسی کو بھیج کر گرفتار کیا اور قید میں ڈال دیا  چنانچہ ان کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کے اسباب میں سے ایک یہ سب بھی تھا  

 رجال الکشی صفحہ 262 

بلکہ شیعہ روایات وعبارات نے ہی ہشام کو موسی کاظم کے قتل میں شراکت کا مورد الزام ٹھہرایا ہے کیونکہ شیعہ کا دعوی ہے کہ انہیں ہارون کی جیل میں زہرخورانی کے ذریعے قتل کیا گیا تھا چنانچہ روایت کہتی ہیں ہشام بن حکم گمراہ اور گمراہ کن ہے یہ ابو الحسن کو قتل کرنے میں شریک تھا 

 رجال الکشی صفحہ268

ابوالحسن نے اس سے التماس کی جس طرح ان کی روایات کہتی ہیں کہ وہ ایسے کلام سے رک جائے وہ ایک مہینہ خاموش رہا پھر اپنی پرانی روش پر چل نکلا تو اس سے ابوالحسن نے کہا کیا تم کسی مسلمان آدمی کے خون بہانے میں شریک ہونے سے خوش ہوگے ؟؟؟

اس نے کہا نہیں تو انہوں نے کہا پھر تم میرے خون میں کس طرح شریک بننا پسند کرو گے ؟؟؟اگر تم خاموش رہے تو سہی ورنہ میرا زبحہ ہونا مقدر ہوگا  لیکن وہ خاموش نہ ہوا حتیٰ کہ وہ اپنے انجام تک پہنچ گئے 

 رجال الکشی۔صفحه 270 271 279  

صفحہ 10 از 32