بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
حلفیہ بیان: سرگانہ برادری:
1: ہم بانیانِ مناظرہ باگڑ سرگانہ، تحصیل کبیروالا، ضلع ملتان حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ مناظرہ کی جو شرائط طے پائی تھیں، ان میں یہ بھی طے پایا تھا کہ جو فریق ان شرائطِ مناظرہ سے گریز کرے گا اس کی شکست تصور ہوگی۔
2: مناظرِ اہلِ سنت حضرت علامہ عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ العالی نے فراخ دلی سے شیعہ مناظر مولوی محمد اسماعیل صاحب کو اجازت دے دی۔ جب کہ وہ اصل مناظرہ سے گریز کی راہ اختیار کی کہ تم اپنا موضوع بدل کر جو چاہو رکھ لو، مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مولوی محمد اسماعیل صاحب کے کہنے پر مسئلہ فدک کی بجائے مسئلہ تحریفِ قرآن اہلِ سنت کے نزدیک عین دورانِ مناظرہ ہوا۔ جس سے پبلک پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ شیعہ مناظر مناظرہ میں لاجواب ہونے کی وجہ سے فرار کی راہ اختیار کر رہا ہے۔
3: مناظرہ کے دوران میں مولوی محمد اسماعیل صاحب مناظرِ شیعہ بار بار کہتے تھے: مجھے شادی پر جانا ہے۔ اور مناظرِ اہلِ سنت حضرت تونسوی مدظلہ العالی بار فرماتے تھے: شادی کی کوئی بات نہیں۔ جب تک فیصلہ نہ ہو، مجھے اور تجھے یہاں رہنا پڑے گا اور فیصلہ کر کے جانا ہوگا۔
4: آخر میں خلافتِ اصحابِ ثلاثہؓ کے موضوع پر مناظرہ ہو رہا تھا کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب مناظرِ شیعہ نے خلافتِ یزید کی بحث چھیڑ دی جو کہ خلافِ شرائطِ مناظرہ تھی۔
مناظرِ اہلِ سنت مولانا عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ العالی نے جب تلخیص الشافی شیعوں کی معتبر کتاب صفحہ 471 پیش کیا جو عربی میں ہے، کہ سیدنا حسینؓ نے سیدنا عمر بن سعد کو فرمایا: تم میری طرف سے جو چیز چاہو اختیار کرو۔ یا تو مجھے اس مکان کی طرف جانے دو جہاں سے میں آیا ہوں، یا مجھے یزید کے پاس لے چلو۔ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دوں گا وہ میرا چچا زاد بھائی ہے۔ تو شیعہ پریشان ہو گئے۔
مولوی اسماعیل صاحب نے حوالہ خود دیکھنے کے لیے کتاب طلب کی۔ کتاب دی گئی تو مولوی اسماعیل صاحب نے سرسری نگاہ ڈال کر اونچی آواز سے پڑھنا شروع کیا تو قصداً أَنْ أَضَعَ يَدِی عَلَى يَدِ يَزِيدَ کو نہ پڑھا تو فوراً حضرت مولانا تونسوی نے ٹوکا اور کہا: أَنْ أَضَعَ يَدِی کو کیوں کھا گیا ہے؟
اس پر میاں طالب حسین خان صاحب، بانیِ مناظرہ طرفِ شیعہ حضرات نے فرمایا: یہاں سب پڑھے لکھے بیٹھے ہیں، سچ جھوٹ نکل آتا ہے۔ چنانچہ حاجی محمد قاسم سرگانہ مرحوم نے بڑھ کر کتاب مولوی اسماعیل صاحب کے سرپرستانِ مناظرہ کے سامنے رکھی ابھی ہم دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ خدا جانے مولوی اسماعیل شیعہ کو کیا سوجھی کہ جھٹ اسٹیج پر سے جو 1، 2 فٹ بلند تھا، اتر کر ہمارے سامنے کھلی ہوئی کتاب پر زور کا تھپڑ مارا۔ کتاب پھٹنے سے بچ گئی لیکن شکن سے پڑ گئے تو فوراً ہم نے مولوی اسماعیل صاحب کو کتاب سے ہٹا کر اسٹیج پر جانے کے لیے مجبور کیا کہ آپ کو یہاں آنے کا کوئی مطلب نہیں۔ مولوی اسماعیل کی اس حرکت کو سب حاضرین نے نفرت سے دیکھا۔ تو حضرت مولانا تونسوی صاحب مدظلہ نے کتاب واپس لے لی تاکہ کتاب نہ پھاڑ دی جائے۔
مولوی امیر محمد صاحب شیعہ جو کہ منجانبِ شیعہ صدارتِ مناظر تھے، نے خود کتابِ مذکور کا حوالہ پڑھا۔ دوسرے بعض شیعہ مجتہدوں کے اس طرح کو پڑھنے پر چند حضرات نے نعرہ لگا دیا۔ جس پر ناراض ہو کر ہم نے ان کو روکا کہ ہم نے مناظرہ حق سمجھنے سمجھانے کے لیے کیا ہے اور بس۔
مولوی اسماعیل صاحب شیعہ کا ایک ننگ آتا تھا، ایک ننگ جاتا تھا آغا مہر حق نواز صاحب سکنہ دندی، سرپرستِ شیعہ نے مولوی اسماعیل صاحب کے اشارہ پر مولانا عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ کے دو تین منٹ باقی رہنے کے باوجود مناظرہ بند کرنے کو کہا۔ اور ہم نے بھی تونسوی صاحب کو مناظرہ ختم کرنے کی سفارش پیش کی کہ حق واضح ہو گیا ہے لہٰذا اب ختم کریں۔
شیعہ حضرات مولوی اسماعیل صاحب پر بہت ناراض تھے کہ خلافتِ یزید کی بحث چھیڑ کر ہمیں رسوا کر دیا۔ چونکہ شیعہ علماء اور شیعہ برادری سب ہمارے مہمان تھے، ہم نے بخیر و خوبی سب کو رخصت کر دیا۔
تیسرے روز ایک اشتہار مولوی اسماعیل صاحب کی طرف سے گزرا جس میں جھوٹ کے انبار تھے۔ ایک مولوی کی من گھڑت شیعہ ہو جانے کی جھوٹی کہانی، نیز مولوی عبد الستار صاحب کے متعلق کہ وہ ایک گھنٹہ پہلے مناظرہ سے بھاگ گئے، وغیرہ لکھا تھا ہم نے سمجھا کہ تقیہ کا مسئلہ اسی لیے شیعہ حضرات نے اپنایا ہوا ہے کہ وقتِ ضرورت کام آئے۔
دستخط:
بانی و سرپرستِ مناظرہ منجانب اہلِ سنت:
شوق محمد بقلم خود سیال سرگانہ
محمود الحسن سیال سرگانہ بقلم خود
محمد ظفر سرگانہ بقلم خود