مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 9 از 9

مولوی اسماعیل صاحب! حسب فرمان سیدنا علی المرتضیٰؓ حضرات خلفائے ثلاثہؓ کو مان لیں اور یزید کے متعلق یہ خوف نہ کھائیں کہ یہ اہلِ سنت کا امام و پیشوا ہے۔ یہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے۔ دیکھیے اہلِ سنت کی عقائد کی کتاب شرح عقائد نسفی کے صفحہ 553 پر لکھا ہے:  

وَاتَّفَقُوا عَلَى جَوَازِ اللَّعْنِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ أَوْ أَجَازَهُ وَرَضِی بِهِ۔ 

ترجمہ: اور ہمارے علماء ان لوگوں پر لعنت کہنے کے جواز پر متفق ہیں جنہوں نے سیدنا حسینؓ کو قتل کیا یا سیدنا حسینؓ کے قتل کا حکم دیا، یا سیدنا حسینؓ کے قتل کی اجازت دی اور ان کے قتل پر راضی و خوش ہوئے۔

اور اس کے بعد اسی شرح عقائد نسفی کے صفحہ 554 پر ہے:  

لَعْنَةُ اللهِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَعْوَانِهِ وَأَنْصَارِهِ۔  

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یزید پر اور اس کے معاونین اور مددگاروں پر جنہوں نے سیدنا حسینؓ کو شہید کرنے میں اس کی امداد کی۔

دیکھیے مولوی اسماعیل صاحب! اگر یزید اہلِ سنت کا امام ہوتا تو ہم اس کے متعلق یوں کیوں لکھتے؟ جہاں اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یزید کے متعلق کچھ لکھا ہوا ہے وہاں اس کے بادشاہِ وقت ہونے کے متعلق لکھا ہوا ہے۔ یہ کہیں نہیں ہے کہ یزید اہلِ سنت کا امام و پیشوا اور مقتدا تھا۔ اگر خدا ایک بار یزید پر لعنت کرے تو ہم اہلِ سنت اس پر لاکھ بار لعنت کریں گے۔

مولوی اسماعیل صاحب! آپ اپنے شیعہ مذہب کا فکر کیجیے اور آئیے ہم شیعہ مذہب کی کتابوں سے پوچھیں کہ یزید کس کا امام ہے؟ دیکھیے فروعِ کافی کتاب الروضہ صفحہ 110 پر ہے کہ سیدنا زین العابدینؓ نے یزید سے کہا:  

قَدْ أَقْرَرْتُ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مَكْرَهٌ لَكَ۔  

ترجمہ: تحقیق میں تیری ہر اس بات کو مانتا ہوں جو تو چاہے اور سوال کرے۔ میں تو تیرا مجبور و ماتحت غلام ہوں۔

مولوی اسماعیل صاحب! بتائیے کہ سیدنا زین العابدینؓ کو یزید کا غلام اور یزید کی ہر بات ماننے والا خواہ وہ یزید اپنی امامت منوائے یا حکومت و خلافت، تم شیعوں نے بنایا ہے یا اہلِ سنت نے؟ 

اور شیعوں کی معتبر کتاب تلخیص الشافی صفحہ 471 پر ہے کہ سیدنا حسینؓ نے سیدنا عمر بن سعد کو فرمایا:  

اخْتَرْ لِی إِمَّا الرُّجُوعُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِی أَقْبَلْتُ مِنْهُ، أَوْ أَنْ أَضَعَ يَدِی عَلَى يَدِ يَزِيدَ فَهُوَ ابْنُ عَمِّی ليَرَى فِی رَأْيہ۔  

ترجمہ: تم میری طرف سے جو چیز چاہو اختیار کرو۔ یا تو مجھے اس مکان کی طرف واپس جانے دو جہاں سے میں آیا ہوں، یا مجھے یزید کے پاس لے چلو۔ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دوں گا کیونکہ وہ یزید میرا چچا زاد بھائی ہے تاکہ وہ میرے حق میں اپنی رائے دے۔

مولوی اسماعیل صاحب! دیکھیے سیدنا حسینؓ کے ہاتھ کو یزید کے ہاتھ پر تم رکھوا رہے ہو اور سیدنا حسینؓ سے یزید کی بیعت تم تسلیم کروا رہے ہو یا کہ اہلِ سنت کروا رہے ہیں؟ 

جب حضرت علامہ تونسوی مدظلہ نے یہ حوالہ پیش کیا تو شیعہ علماء اور عوام میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ اور اپنی سخت شکستِ فاش سمجھ کر نہایت ہی حواس باختہ اور سرنگوں ہو گئے کہ یا اللہ! یہ کیا قیامت برپا ہوگئی کہ ہمارے مناظر مولوی اسماعیل نے یزید کی بحث چھیڑ کر شیعہ مذہب کو رسوا اور ذلیل کر دیا۔ 

ادھر علامہ محمد عبد الستار صاحب مناظرِ اہلِ سنت شیر کی مانند گرج کر فرما رہے تھے: مولوی اسماعیل صاحب! اب فرمائیے کہ یزید ہمارا امام ہے یا کہ تمہارا؟ جس پر تمام شیعہ حضرات مولوی اسماعیل کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے کہ ہم نے مولوی اسماعیل کو حضرت علامہ تونسوی کے مقابلے میں بلوا کر متواتر تینوں دن اپنے مذہب کو رسوا کیا۔ اور اب آخری وقت میں تو ذلت و خواری کی کوئی انتہا ہی نہ رہی۔

مناظرِ اعظم اہلِ سنت علامہ تونسوی مدظلہ سے مطالبہ کیا گیا کہ کتاب تلخیص الشافی کا حوالہ دکھاؤ۔ علامہ تونسوی نے فرمایا کہ میں مولوی اسماعیل کی پرانی عادتوں سے واقف ہوں، یہ کتاب پھاڑ ڈالے گا۔ چنانچہ سرپرستِ اہلِ سنت اپنی ذمہ داری پر وہ کتاب تلخیص شیعہ مناظر کے پاس لے گئے۔ مگر اس وقت مولوی اسماعیل کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ حوالہ کو ادھر ادھر سے تو ہٹاتا، مگر وہ خاص عبارت پڑھنے سے گریز کرتا تھا۔ ادہر علامہ تونسوی مدظلہ فرماتے تھے: مولوی صاحب! ذرا ہوش سنبھالو، درمیان سے پڑھو۔

مولوی اسماعیل بے چارے کا چہرہ خوفزدہ تھا اور حواس باختہ تھے اور اس کے چیلے شور مچا رہے تھے اور مولوی اسماعیل کی بدحواسی پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔ مگر تمام حاضرینِ شیعہ و اہلِ سنت پر شیعہ مناظر کی شکستِ فاش اور بدحواسی واضح ہو چکی تھی۔ اور کتاب پر شیعہ مولویوں کا جمگھٹا ہو گیا تو علامہ تونسوی کو خطرہ ہوا کہ یہ کتاب کو پھاڑ ڈالیں گے، اس لیے آپ نے فوراً کتاب ان سے واپس منگوا لی۔

اس کے بعد شیعہ سرپرستوں کو یہ حوالہ دکھایا گیا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ شیعہ مولوی سید گلاب شاہ نے بھی یہ حوالہ دیکھنا چاہا تو کتاب پھاڑنے کے خوف سے علامہ تونسوی مدظلہ نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر حلف دے کر حوالہ اس سے پڑھوایا، تاکہ وہ صحیح پڑھ کر تمام لوگوں کو سنا دے۔ اسی صورت سے مولوی ضمیر الحسن اور مولوی امیر محمد قریشی سے بھی یہ حوالہ پڑھوایا گیا۔ جس کو پڑھ کر شیعہ مولوی اتنے بدحواس اور مبہوت تھے کہ لاجواب اور شرمندہ ہونے کی وجہ سے کتاب پھاڑنے پر آمادہ تھے۔

مناظرِ اعظم اہلِ سنت علامہ تونسوی مدظلہ کا ابھی تک تین منٹ وقت باقی تھا کہ سرپرستِ شیعہ مہر حق نواز صاحب نے علامہ تونسوی مدظلہ کے پاس آ کر نہایت ادب سے عرض کیا: اب آپ اپنی تقریر ختم کیجیے اور ہم کو زیادہ رسوا نہ کیجیے۔ شیعوں کے اصرار سے معززینِ سرگانہ اہلِ سنت نے حضرت علامہ تونسوی کی خدمت میں عرض کیا کہ حق واضح ہو چکا ہے، دعائے خیر فرما کر ختم کیجیے۔

دعائے خیر کے بعد مناظرِ اعظم اہلِ سنت کی خدمت میں جہاں اور حضرات نے فتح و کامیابی پر مبارکباد اور ہدایا و تحائف پیش کیے، وہاں مولانا محمد حسین صاحب نے مناظرِ اعظم تنظیمِ اہلِ سنت علامہ تونسوی مدظلہ کے سر پر سبز رنگ کی دستار بندھوائی اور مناظرِ اعظم زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔

تنظیم اہل سنت مجلس تحفظ ختم نبوت

 زندہ باد زندہ باد۔


صفحہ 9 از 9