حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم:
از قرآن مجید حدیث رسول پاکﷺ و از کتب شیعہ:
مدعی اہل سنت معترض: اہل تشیع:
مناظر اعظم تنظیم اہل سنت پاکستان:
علامہ مولانا محمد عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ:
1: بعد الحمد والصلوٰۃ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَـنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًا وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور: آیت 55)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ایمان داروں اور عملِ صالح کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ تم میں سے ضرور میں زمین میں خلیفہ بناؤں گا، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں میں خلیفہ اور بادشاہ بنائے تھے اور ضرور ان کے اس مذہب کو جو ان کے لیے پسند کیا ہے متمکن اور مضبوط کر دوں گا اور ان کے خوف و خطر کو امن و امان سے بدل دوں گا وہ میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہ کریں گے اور جو اس کے بعد ناشکری کرے گا وہ فاسق ہے۔
حضرات! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ فرمایا ہے جس کے لیے یہ امور صراحتاً آیت میں بیان فرما دیے ہیں:
1: خلافت مومنین کو دی جائے گی، جن کے اعمالِ صالح ہوں گے۔
2: مِنۡكُمۡ کا لفظ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا کے بعد صراحتاً ذکر فرما کر مخاطبینِ اولین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ وعدہ خلافت فرمایا گیا ہے۔
3: اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں جو کم از کم تین افراد کو ضرور چاہتے ہیں۔
4: وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
یعنی ضرور ان کی خلافت زمین میں ہوگی اور ان کے دین و مذہب کو تمکین و مضبوطی اور قوت حاصل ہوگی۔
5: وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا مِّن الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
یعنی ان خلفاء کو خوف اور خطر کے بعد امن اور اطمینان عطا کر دیا جائے گا۔
میں پورے اعلان کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس آیت کے مصداق خلفاءِ راشدینؓ ہی ہیں، اور یہ آیت انہی خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت پر پوری پوری صادق آتی ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرات خلفاءِ راشدینؓ اس آیت کا مصداق نہیں تو وہ آیت کے مذکورہ بالا تمام امورِ منصوصہ کو مدِ نظر رکھ کر بتائے کہ وہ کون سے خلفاء ہیں جو کہ نزولِ آیت کے وقت مخاطب اور موجود بھی ہوں اور کم از کم تین بھی ہوں اور ان کو تمکین فی الارض بھی حاصل ہو اور ان کے دین کے طریقے کا بھی بول بالا ہو، اور ان کے خوف و خطر امن و اطمینان سے بدل دیے گئے ہوں اور میں تو پورے پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس آیت کے مصداق خلفاءِ راشدینؓ ہی ہیں اگر خلفاءِ راشدینؓ مراد نہیں تو پھر اس وعدہ کی سچائی کے لیے آیت کے مصداق کون ہیں؟
2: احقاق الحق صفحہ 16 پر ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے متعلق فرمایا:
هما امامان عادلان قاسطان کانا علی الحق و ماتا علیه فعلیهما رحمة الله يوم القيامة۔
ترجمہ: وہ دونوں حضرات امام تھے جو عادل اور منصف تھے ہمیشہ حق پر رہے اور حق پر فوت ہوئے پس ان دونوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو قیامت کے دن۔
دیکھیے حضرات! سیدنا جعفر صادقؒ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی امامت و خلافت کو کیسے عمدہ الفاظ میں ذکر کیا کہ وہ دونوں امام عادل اور منصف تھے اور مرتے دم تک حق پر رہے۔
3: شیعہ کی معتبر تفسیر صافی صفحہ 523 پر ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ بی بی حفصہؓ کو فرمایا:
ان ابابکر یلی الخلافة من بعدی ثم بعده ابوک۔
ترجمہ: تحقیق ابوبکر صدیقؓ میرے بعد خلافت کا والی ہوگا اور اس کے بعد تیرا باپ سیدنا عمرؓ خلیفہ ہوگا۔
رسول اللہﷺ نے سیدہ حفصہؓ کو یہ خوشخبری اس وقت سنائی جب وہ مغموم بیٹھی تھیں۔
4: احتجاج طبرسی صفحہ 54 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی:
ثُمَّ تَنَاوَلَ يَدَ أَبِی بَكْرٍ فَبَايَعَهُ۔
ترجمہ: پھر حضرت علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کی۔
5: احتجاج طبرسی صفحہ 56 پر ہے کہ حضرت اسامہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے پوچھا:
هَلْ بَايَعْتَ کیا آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرلی ہے؟ فَقَالَ نَعَمْ يَا أُسَامَةُ تو حضرت علیؓ نے جواب دیا: ہاں اے اسامہؓ میں نے بیعت کرلی ہے۔
حضرات! غور کیجیے اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت حق نہ ہوتی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کبھی ان کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے۔
مناظر شیعہ:
حضرات مومنین کرام! میں مولوی عبد الستار صاحب سے پوچھتا ہوں:
1: حضرات خلفائے راشدین کی خلافت نص سے ہے یا اجماع سے؟ ذرا وضاحت سے بیان کیجیے۔
2: تمہارے خلفاء کی خلافت کے منکر کافر ہیں یا نہیں؟ اگر اس خلافت کے منکر کافر نہیں تو اس آیت کے ماتحت وہ خلیفہ نہیں لہٰذا مولوی عبد الستار صاحب اس کی تشریح کریں کہ وہ کس طرح آیت کے مصداق ہیں؟
3: مولوی عبد الستار صاحب مِنۡكُمۡ کے لفظ سے استدلال کر رہے ہیں کہ حاضرین اور صحابہ جو مخاطبینِ اولین ہیں ان میں سے تین کا ہونا ضروری ہے۔ تو میں مولوی عبدالستار صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آیت:
اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 59)
میں یا يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 183)
وغیرہ میں جو جمع مخاطب کے صیغے ہیں، ان میں صرف حاضرین کو خطاب ہے؟ باقی امت پر اُولِى الۡاَمۡرِ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت 59) کی اطاعت یا روزہ فرض نہیں ہیں؟
4: مولوی عبدالستار نے سیدنا جعفر صادقؒ کا جو یہ ارشاد هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ قَاسِطَانِ پڑھا ہے، اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ابوبکر و عمر امامِ اہلِ نار کے تھے۔ اور عادل کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ دونوں حق سے پھر گئے اور وہ دونوں ظالم تھے اور كَانَا عَلَى الْحَقِّ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں زور و زبردستی سے حق پر چڑھ گئے اور اسی حالت پر فوت ہوئے اور عليهما رحمة الله يوم القيامة
سے مراد ہے کہ قیامت کے دن ان دونوں پر جناب رحمتہ للعالمین حضورِ اکرمﷺ چڑھ جائیں گے اور ان سے اہلِ بیتؓ کا حق وصول کریں گے۔
5: اور تفسیر صافی سے جو روایت مولوی عبد الستار صاحب نے نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ خبرِ خلافت کی اطلاع کسی کو نہ دینا مگر حضرت حفصہؓ نے خیانت کر کے رسول اللہﷺ کے راز کو ظاہر کر دیا دیکھیے حضرات مومنین کرام! مولوی عبد الستار نے یہ حصہ روایت کا آپ کے سامنے بیان نہیں کیا علاوہ ازیں اہلِ سنت کی کتاب فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 9 صفحہ 253 پر ہے کہ حفصہؓ کی ہر روایت کی سند میں ضعف ہے لہٰذا تفسیر صافی کی یہ روایت بھی سیدہ حفصہؓ سے ہے جو ضعیف ہے لہٰذا قابلِ اعتبار نہیں۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! خلافتِ خلفائے راشدینؓ قرآنِ مجید میں منصوص بالعلم نہیں بلکہ منصوص بالصفات اور موعود بالایمان ہے جس کا مظہر اور ظاہری سبب اجماع ہے یعنی رسول اللہﷺ کے خلفائے راشدینؓ میں سے کسی کا نام لے کر خاص طور پر اس کی خلافت کا اعلان تو قرآنِ مجید میں نہیں کیا گیا، نہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، نہ سیدنا عمر فاروقؓ اور نہ سیدنا عثمانِ غنیؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا بلکہ صرف صفتِ ایمان اور اعمالِ صالحہ پر خلافت کو حاضرین پر منصوص و موعود رکھا گیا ہے جس کو اجماع نے ظاہر کر دیا ہے لہٰذا خلافت منصوص و موعود بالصفات ہے۔
2: اگر خلافت منصوص بالعلم ہوتی تو اس کا منکر کافر ہوتا چونکہ یہ خلافت منصوص بالصفات ہے، لہٰذا اس کا منکر فاسق ہے جس کو قرآنِ مجید کی اس آیتِ استخلاف میں واضح کر کے بیان کر دیا گیا ہے: اور جس نے اس وعدہ کے بعد ناشکری کی وہ فاسق ہیں لہٰذا خلافت کا منکر فاسق ہوگا۔
3: كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ الخ۔(سورۃ البقرہ آیت 183)
اور وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 59)
وغیرہ میں ان تمام امور کے مخاطب اول صحابہ تھے۔ باقی امت ان تمام امور میں ان کے ساتھ شریک ہے۔ کیا مولوی اسماعیل صاحب یہ کہہ سکتے ہیں کہ: كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ الخ۔(سورۃ البقرہ آیت 183)
میں جو روزے کی فرضیت کا حکم ہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نہ تھا اور باقی امت پر ہو گیا ہے؟ تو جیسے اولاً روزہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فرض تھا اور تبعاً باقی امت پر ہوا تو اسی طرح آیت:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں بھی پہلے خلفائے کرام میں سے ہوں گے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کوئی اس وعدے کا مصداق نہ ہو اور باقی امت مصداق ٹھہرے۔ لہٰذا مولوی اسماعیل صاحب ثابت کریں کہ خلفائے راشدین کے علاوہ اس آیت کے مصداق مخاطبینِ اولین میں سے کون ہیں؟ آپ کو ادہر ادہر بھاگنے نہیں دیا جائے گا میں تو تیری رگیں خوب جانتا پہچانتا ہوں ذرا سوچ سمجھ کر بتائیے۔
4: حضرات! مولوی اسماعیل نے هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ کا جو ترجمہ کیا ہے وہ انتہائی تعجب خیز ہے میں نے تو سمجھا تھا کہ آپ میرے مناظرے کے لیے کوئی اہلِ علم مجتہد لکھنؤ وغیرہ سے لائیں گے، مگر آپ تو ایسے علم سے کورے کو لائے ہیں جو ذرا بھی عربی عبارت کے معنی و مطلب نہیں سمجھ سکتا۔ دیکھیے عادل کے معنیٰ ظالم کرتا ہے اور حق پر ہونے کا مطلب زور و زبردستی سے حق پر چڑھ جانا بیان کرتا ہے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ پر خدا کی رحمت ہونے کا مطلب جناب رسول اللہﷺ کے چڑھ جانے کا کرتا ہے۔
آپ لوگ یہ کہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا، استاد، پیر و مرشد پر خدا کی رحمت ہو کیا اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ ان پر جناب رسول اللہﷺ چڑھ جائیں؟ اور تم کہتے ہو کہ فلاں عادل ہے اور فلاں حق پر ہے، تو کیا اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ ظالم ہے اور دوسرا اس کے حق پر چڑھ جاتا ہے؟
آپ کے مناظر نے سیدنا جعفر صادقؒ کے قولِ ارشاد کا ترجمہ کرنے میں اُس قسم کا ظلم کیا ہے جو شاید کسی جاہل ذاکر نے آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔ کے معنیٰ کرنے میں کیا تھا۔ العیاذ باللہ۔ نقلِ کفر کفر نہ باشد:
آمَنْتُ بِاللَّهِ: مان لے تو آیا بلا، بلی کا نر۔
وَمَلَائِكَتِهِ: اور ملائی کھا گیا۔
وَكُتُبِهِ: اس پر کتے چھوڑ دیے گئے۔
وَرُسُلِهِ: اور اس کو رسیوں میں باندھ دیا۔
وَالْيَوْمِ الْآخِرِ: اور وہی اس بلے کا آخری دن تھا کہ مار دیا گیا۔
5: مولوی اسماعیل صاحب جو یہ کہتے ہیں کہ تفسیر صافی والی روایت میں پہلے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت رسول اللہﷺ نے بی بی حفصہؓ کو خبرِ خلافت کی اطلاع نہ دینے کا حکم دیا تھا اور سیدہ حفصہؓ نے خیانت کرکے خبر دے دی، تو اس بات کے بیان کرنے سے مولوی اسماعیل صاحب کو کیا فائدہ ہے؟ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو خوش کرنے کے لیے جو خبرِ خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے متعلق بیان کی، وہ صحیح تھی یا غلط؟ مولوی اسماعیل صاحب! ادہر ادہر بھاگنے کی کوشش مت کیجیے اصل بات کا جواب دیجیے۔
باقی مولوی صاحب کا یہ ارشاد فرمانا کہ بی بی حفصہؓ کی ہر روایت کمزور ہے لہٰذا یہ روایت قابلِ اعتبار نہیں، یہ بالکل فضول اور مہمل بات ہے۔ کیونکہ شیعہ علماء نے یہ روایت سیدنا محمد باقرؒ و غیرہ ائمہ معصومین سے نقل کی ہے کوئی انہوں نے یہ روایت بی بی حفصہؓ سے تو نقل نہیں کی۔
دوسرے مولوی اسماعیل صاحب نے جو حوالہ فتح الباری سے نقل کیا ہے کہ بی بی حفصہؓ کی ہر روایت ضعیف ہے، تو کیا صاحبِ فتح الباری نے شیعہ کتابوں کے راویوں کے متعلق یہ اصول بیان کیا ہے؟ اس نے اگر بالفرض کوئی بات لکھی ہے تو وہ اپنے مذہب کی کتابوں کے راویوں اور روایت کے متعلق لکھی ہے۔ اور میں نے جو روایت پیش کی ہے یہ شیعہ کی معتبر کتاب تفسیر صافی سے نقل کرکے پیش کی ہے صاحبِ فتح الباری کو شیعہ کتابوں کے راویوں سے کوئی بحث ہی نہیں البتہ مولوی اسماعیل کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی کتابوں سے اس روایت کا ضعف ثابت کرتے اور اگر مولوی اسماعیل صاحب اپنے مذہبِ شیعہ کا بطلان و ضعف اہلِ سنت کی کتابوں سے ثابت کرنا ناجائز سمجھتے ہیں تو پھر اہلِ سنت کی کتابوں کے لحاظ سے تو ان کا تمام مذہب ہی باطل و ناحق ہے۔
6: حضرات! میں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے برحق ہونے کے ثبوت میں حضرت علی المرتضیٰؓ کا بیعت کرنا شیعہ کتاب احتجاج طبرسی کے صفحہ 54، 55 سے ثابت کیا ہے اور مولوی اسماعیل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
حضرات! آپ ان تمام امور پر غور کیجیے کہ اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت ناحق ہوتی تو رسول اللہﷺ بجائے خوش خبری سنانے کے تردید فرماتے کیونکہ نبی کریمﷺ ہر فتنے اور ہر باطل کی تردید کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا:
لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ الخ۔(سورۃ لقمان: آیت 13)
وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰٓى الخ۔(سورۃ الاسراء: آیت 32)۔
وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 188)
وغیرہ وغیرہ۔
جب نبی کریمﷺ کو علم تھا کہ یہ لوگ خلافت غصب کریں گے اور ظلم کریں گے تو نبی کریمﷺ ضرور ان کی تردید فرماتے اور ان کو مدینہ سے باہر نکالتے اور ان سے برتاؤ، کلام و سلام چھوڑ کر قطعِ تعلقات کر لیتے اور سفر و حضر اور صلح و جنگ کا ساتھی اور وزیر و مشیر نہ بناتے کیونکہ نبی کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ منافقوں کی مسجد میں نماز نہ پڑھو اور منافقوں کا جنازہ بھی نہ پڑھو اور ان کی قبر کے پاس بھی نہ ٹہھرو۔
تو جب منافقوں سے زندگی اور موت اور قبر ہر حال میں بائیکاٹ و قطعِ تعلق کرنے کا حکم تھا تو پھر رسول اللہﷺ کا اصحابِ ثلاثہؓ خلفائے راشدینؓ سے محبت، برادری کا تعلق اور سفر و حضر میں مصاحب اور وزیر و مشیر بنانا اور اس کے ساتھ اپنے بعد ان کی خلافت کی خبر دینا صاف بتاتا ہے کہ یہ حضرات مومنِ کامل اور خلفاء برحق ہیں اور مولوی اسماعیل نے
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
کا مصداق اب تک نہیں بتایا اور نہ قیامت تک بتا سکتا ہے اور نہ خلفائے راشدینؓ کے سوا کوئی مصداق بن سکتا ہے۔
مناظر شیعہ:
حضرات میں نے سیدنا جعفر صادقؒ کے قول هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ الخ کا ترجمہ خود امام کے قول سے پیش کیا ہے کیونکہ خود امام نے یہی مراد بیان کی ہے۔
2: مولوی عبدالستار بار بار مجھ سے آیتِ استخلاف کا مصداق پوچھتا ہے کہ وہ کم از کم تین حضرات کون ہیں جو مومنِ صالح بھی ہوں اور اس زمانے میں بھی ہوں اور اس آیت کا مصداق بنیں۔ تو ہماری کتاب اصولِ کافی صفحہ 115 پر ہے کہ بارہ امام خلیفہ بنیں گے اور آیتِ استخلاف کا مصداق ہمارے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ تین خلیفہ ہیں اب تو آیت کا مصداق پورا بتا دیا کیونکہ یہ تینوں حضرات اس زمانے میں بھی تھے اور مومنِ صالح بھی تھے اور تین کا عدد پورا ہو گیا۔
3: سورہ محمد میں ہے:
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ ۞(سورۃ محمد: آیت 22)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ منافقو! تم بادشاہ بنو گے، تم پر اللہ کی لعنت ہوگی۔
تو جب قرآن کی رو سے منافق بادشاہ بن سکتے ہیں اور اس آیت میں مخاطب حاضرین ہی ہیں تو معلوم ہوا کہ ان حاضرین میں سے بعض منافق بھی بادشاہ بن جائیں گے تو حاضرین میں سے اور کوئی بادشاہ نہیں بنا تو یہی اصحابِ ثلاثہؓ ہی بادشاہ بنے تو وہی اس آیت کے مصداق تھے اور منافق ہی تھے۔
4: مولوی عبد الستار نے کہا کہ اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت کا منکر فاسق ہے اور:
وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 47)
کے یہی معنیٰ کیے ہیں مگر ان کی بخاری شریف جلد 2 صفحہ 1009 پر ہے:
خالف عَلِی وَالزُّبَيْرُ۔
ترجمہ: سیدنا علی المرتضیٰؓ اور زبیرؓ نے ابوبکرؓ کی خلافت کی مخالفت کی تو مولوی عبد الستار صاحب! یا تو ابوبکرؓ کی خلافت کو چھوڑو یا علیؓ اور زبیرؓ کو فاسق کہو۔
5: سیرتِ حلبیہ کے صفحہ 361 پر ہے کہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ نے ابوبکرؓ کو کہا: ہمارے نانا کے منبر پر سے اتر جاؤ تو اس سے ثابت ہوا کہ ابوبکرؓ کی خلافت حق نہ تھی۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ میں نے روایت هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ الخ کے وہی معنیٰ کیے ہیں جو سیدنا جعفر صادقؒ نے کیے ہیں، تو یہ بھی ان شیعوں کا حضراتِ ائمہ پر افتراء اور بہتان ہے۔ کیا حضراتِ ائمہ ایسے جاہلانہ اور ٹھیٹھ سے معنیٰ کر سکتے ہیں؟ العیاذ باللہ۔
2: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ آیتِ استخلاف کا مصداق سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ یہ تین حضرات ہیں مولوی اسماعیل بے چارے نے تو شاید اپنے مذہب کی کتابیں بھی نہیں دیکھیں۔ تفسیر صافی کے صفحہ 303 پر ہے:
نَزَلَتْ فِی الْقَائِمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ۔
ترجمہ: کہ آیتِ استخلاف حضرت مہدی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔
اور اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی اس آیت کے مصداق نہیں بن سکتے کیونکہ ان کے زمانے میں تمكين فى الارض اور دین کو پوری قوت اور مضبوطی حاصل نہیں ہوئی۔ نیز ترجمہ مقبول کے صفحہ 507 پر ہے: اور خاص کر امیر المؤمنین کے زمانے میں تو بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے۔
مولوی اسماعیل صاحب! کوئی مجلس پڑھ رہے ہو جو کہتے ہو کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے حق میں یہ آیت آئی ہے، حالانکہ تمہارے عقیدے کے مطابق تو ہرگز نہیں۔ ان کے عہد میں دین کو مضبوطی حاصل نہیں ہوئی بلکہ مسلمان بھی مرتد ہو گئے تمہاری کتابیں تو کہتی ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ تو اس آیت کے قطعاً مصداق نہیں اور تمہارے عقیدے کے مطابق سیدنا حسنؓ کیسے مصداق بن سکتے ہیں؟ کیونکہ ان کی خلافت تو رہی ہی نہیں بلکہ آپ کی کتابوں میں ہے کہ سیدنا حسنؓ کو سیدنا امیرِ معاویہ امیرِ شام رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنی پڑی۔ جیسا کہ تمہاری معتبر کتاب رجالِ کشی کے صفحہ 264 پر ہے کہ سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
باقی رہے سیدنا حسینؓ! تو ان کو کب خلافت فی الارض ملی اور کیسے تمكين فى الارض حاصل ہوئی کہ اس آیت کا وہ مصداق بن سکیں؟ اور تمہارے عقائد کے لحاظ سے تو ان تینوں حضرات کی زندگیوں میں وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا الخ۔(سورة النور: آیت 55)
کی صفت بالکل حاصل نہیں ہوئی، بلکہ یہ تینوں حضرات خوف و خطر کی زندگی بسر کر کے دنیا سے گئے۔
3: مولوی اسماعیل صاحب سورہ محمد کی آیت:
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ ۞(سورۃ محمد: آیت 22)
سے بحث کرتے ہیں کہ قرآن نے منافقوں کو فرما دیا ہے کہ تم بادشاہ بنو گے اور تم پر اللہ کی لعنت ہوگی یہ بات قطعاً غلط ہے اور قرآن پر بہتان ہے خدا جانے اس بے چارے کو قرآن میں اَنۡ کا لفظ نظر نہیں آتا، یا اس کے معنیٰ اور ترجمہ نہیں آتا، یا خواہ مخواہ قصداً قرآن پر بہتان لگا کر اپنی فیس کو حلال کر رہا ہے۔
آیت کے معنیٰ تو یہ ہیں: پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو فتنہ و فساد کرو گے ملک میں اور قطع کرو گے اپنی قرابتیں تو اس آیت میں یہ کہاں سے کہ اے منافقو! تم بادشاہ بنو گے؟ بلکہ یہاں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تمہارا حال ایسا ہوگا اس جگہ حکومت ملنے کا وعدہ کہاں ہے؟ کیا مولوی اسماعیل صاحب آیت:
وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِىۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ ۞(سورۃ البقرہ: آیت 120)
کے العیاذ باللہ یہ معنیٰ کریں گے کہ حضورِ اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تو لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگے گا اور ظالم ہو جائے گا؟
4: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا زبیرؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مخالفت کی، لہٰذا وہ بھی فاسق ہوں گے مولوی اسماعیل صاحب! غور کرو۔ المنجد لغت کی کتاب میں لکھا ہے: خَالَفَ بِمَعْنَى تَخَلَّفَ خالف تخلف کے معنیٰ سے آتا ہے اور تخلف کے معنیٰ دیر اور تاخیر کرکے آنا ہوا کرتا ہے۔
تو بخاری شریف کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا زبیرؓ رضی اللہ عنہ اس جماعت میں نہیں تھے جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر پہلے پہلے بیعت کی تھی بلکہ بعد میں بیعت کرنے والوں میں شامل ہوئے۔ تو پھر وہ فاسق کیسے ہو گئے؟ یہاں مخالفت کے معنیٰ نہیں کہ ان پر فسق کا فتویٰ لگ سکے۔
خود شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی کے صفحہ 55 اور صفحہ 56 پر ثابت ہے اور اہلِ سنت کی معتبر کتابوں میں بھی ثابت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ تو اب بیعت ثابت ہونے کے بعد کیسے فسق کا فتویٰ مولوی اسماعیل صاحب لگاتے ہیں؟
نیز شیعہ کی معتبر کتاب فروعِ کافی جلد 3 صفحہ 115 پر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر مجبور ہو کر بیعت کی ادہر تو شیعہ حضرات اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے تمام انبیاء علیہم السلام کی مشکل کشائی اور امداد کی جیسا کہ تاریخِ ائمہ کے صفحہ 52 پر ہے:
رسولوں کی ہوئی حاجت روائی
علی نے نوح کی کی ناخدائی
نہ کرتا گر علی مشکل کشائی
نہ پاتا چاہ سے یوسف رہائی
علی کا معجزہ اک اک ہے نادر
علی کی ذات ہے، ہر شے پہ قادر
اور ادہر لکھتے ہیں کہ ابوبکر و عمر سے ڈر کر مجبور ہو کر بیعت کی مولوی اسماعیل سے پوچھتا ہوں کہ جب تمہارے نزدیک تمام انبیاء علیہم السلام کا مشکل کشا اور عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ۞ تھا، اور جس کے بیٹے سیدنا حسینؓ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا مگر یزید فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیعت نہ کی، تو اس اللہ اور سیدنا حسینؓ کے والد بزرگوار نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر کیوں بیعت کرلی؟
5: سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کا یہ کہنا کہ ہمارے نانا کے منبر پر سے اتر جاؤ، کسی معتبر و مستند کتاب میں نہیں ہے اور اس کے راویوں پر پورا وثوق و اعتبار نہیں بالفرض المحال اگر ایسی روایت کو مان بھی لیا جائے تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ حضورِ اکرمﷺ کے انتقال کے وقت چھوٹے چھوٹے کم سن بچے، چھ چھ اور سات سال کی عمر میں تھے۔ تو طفولیت اور بچپن کی وجہ سے اپنے نانا کے منبر پر جہاں حضورِ اکرمﷺ بیٹھا کرتے تھے اور آنحضرتﷺ کے سوا کوئی نہ بیٹھتا تھا، آج سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو بیٹھا دیکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے نانا کا منبر ہے، تو کیوں بیٹھے ہیں؟ کیونکہ بچوں کی یہ عادتِ فطری ہے کہ کسی کو اپنے کسی بزرگ اور محبوب کی جگہ پر بیٹھا ہوا دیکھتے ہیں یا اس کی کوئی چیز استعمال کرتے دیکھتے ہیں، اگرچہ وہ استعمال کرنا اس بزرگ کی مرضی اور اجازت سے ہی کیوں نہ ہو، اس سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس جگہ سے اٹھ جاؤ یا یہ چیز ہمارے بزرگ کی چھوڑ دو ان کی ان باتوں سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اگرچہ مراتبِ ایمانی اور کمالِ روحانی میں عام مخلوق سے ممتاز ہیں مگر احکامِ بشری اور خواصِ اصغرِ سنی اور خصائصِ طفولیت ان میں بھی پائے جاتے تھے۔
نیز سیدنا ابوبکر صدیقؓ منبرِ نبوی پر خود بہ خود لوگوں کے کہنے سے تو نہیں بیٹھے بلکہ خود حضورِ اکرمﷺ نے ان کو یہ رتبہ بخشا تھا جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ درہ نجفیہ کے صفحہ 225 پر ہے:
فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ الْمَرَضُ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَن يُصَلِّی بِالنَّاسِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ يَوْمَيْنِ۔
ترجمہ: پھر جب حضورِ اکرمﷺ کا مرض سخت ہو گیا تو آپ نے ابوبکرؓ کو حکم فرمایا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اس کے بعد حضرت محمدﷺ کی زندگی میں تمام لوگوں کو دو دن تک نماز پڑھاتے رہے پھر حضورِ اکرمﷺ کی وفات ہو گئی۔
تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو یہ امامت اور منبر و مصلے کی نیابت خود حضورِ اکرمﷺ نے عطا فرمائی تھی اور امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے نمازیں ادا کرتے تھے، جیسا کہ احتجاج طبرسی کے صفحہ 60 پر اور غر و درر واحۃ حیدری صفحہ 62 پر ہے ضمیمہ مقبول ترجمہ کے صفحہ 315 پر ثابت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ مسجدِ نبوی میں آ کر سیدنا صدیق اکبرؓ کے پیچھے نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
علاوہ ازیں سیدنا حسینؓ کے الفاظ جو اس روایت میں ہیں وہ خود صاف دلالت کرتے ہیں کہ ان حضرات کی یہ بات محض بطورِ طفولیت اور بچپن کی تھی کہ پہلے اس منبر پر ہمارے نانا بیٹھتے تھے، اب صدیقِ اکبرؓ کیوں بیٹھے ہیں؟ ورنہ اگر وہ یہ بات سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے ناحق ہونے کے لیے کہتے تو یوں کہتے: ہمارے والد بزرگوار سیدنا علی المرتضیٰؓ کے منبر سے اُتر آؤ، اس پر تم کیوں بیٹھے ہو؟ کیونکہ خلافت ان کا حق ہے۔
ہم تو کہتے ہیں کہ اگر بالفرض اُس وقت منبرِ نبوی پر سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی بیٹھے ہوتے تو ان کو بھی سیدنا حسینؓ اسی طرح کہتے کہ تم کیوں ہمارے نانا کے منبر پر بیٹھے ہو؟ اس بات سے خلافت کے حق یا ناحق ہونے کا کون سا ثبوت ہو جاتا ہے؟
مناظر شیعہ:
اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 91 پر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ دونوں کو كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا کہا تو جن کو امیر المؤمنین علی المرتضیٰؓ اس قسم کا سمجھیں ان کی خلافت کیسے حق ہو سکتی ہے؟
2: عقد الفرید کے صفحہ 63 پر ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ حضرت فاطمہؓ کا گھر جلانے کے لیے آئے کیونکہ سیدہ فاطمہؓ کے گھر میں مشورے ہوتے تھے تو سیدنا عمرؓ نے کہا میں تمہارے گھر کو جلا دوں گا اور الفاروق کے صفحہ 91 پر ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کو کہا کہ میں تیرا گھر جلا دوں گا۔
3: اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم کی جلد 2 صفحہ 129 پر ہے کہ امام و امراء جب تک نمازیں پڑھتے رہیں اور علانیہ کفر ظاہر نہ کریں ان سے جنگ نہ کرو اصحابِ ثلاثہؓ چونکہ انشِ اسم کے تھے، اس لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ ان سے آمد و رفت اور تعلقات رکھتے تھے، اور ان سے جنگ نہ کی۔
مناظر اہل سنت:
مناظرِ اہلِ سنت مولوی اسماعیل صاحب نے اب تک آیتِ استخلاف کا کوئی صحیح مصداق نہیں بتلایا۔ کیونکہ خلفائے راشدینؓ کے سوا کوئی اس آیت کا مصداق حاضرین میں سے بن ہی نہیں سکتا نیز سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں، اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
1: مولوی اسماعیل نے یہ بات بالکل غلط کہی ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو کاذب، آثم، غادر، خائن وغیرہ کہا صحیح مسلم شریف میں کسی جگہ یہ نہیں ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو ایسا کہا بلکہ یہ الفاظ خود سیدنا عمر فاروقؓ نے اس وقت کہے جب اس سے پہلے سیدنا عمر فاروقؓ نے فِدک کی زمین سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عباسؓ کے سپرد کر دی تھی اور ان کا آپس میں کچھ جھگڑا ہو گیا تو سیدنا عباسؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو دوسری دفعہ پھر سیدنا عمر فاروقؓ کے دربار میں لائے۔
جس پر سیدنا عمر فاروقؓ نے ان دونوں حضرات کو مخاطب کر کے حضرت عباسؓ کو تنبیہ کرنے کے لیے فرمایا: تم جو اس وقت دوسری دفعہ میرے پاس آئے ہو حالانکہ اس کا فیصلہ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی کر چکے ہیں اور میں بھی کر چکا ہوں کیا تم نے ہمارے فیصلوں کو غلط سمجھا ہے کہ اب پھر تیسری بار آگئے ہو؟ کیا تمہارے نزدیک سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا فیصلہ اور میرا پہلا فیصلہ بے انصافی اور خیانت اور گناہ پر مبنی تھا، اور تم ہم کو کاذب، آثم، غادر و خائن سمجھتے ہو؟
تو حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول یا تو بطورِ استفہام ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ہے کہ انہوں نے رات کے وقت ستارہ کو دیکھ کر فرمایا:
هٰذَا رَبِّىۡ الخ۔ (سورۃ الانعام: آیت 77)
کیا یہ میرا رب ہے؟ تو جس طرح اس کلام میں استفہام ہے مگر حرفِ استفہام مذکور نہیں اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ کے ان الفاظ میں بھی استفہام مقصود ہے اگرچہ حرفِ استفہام مذکور نہیں۔
اور یا سیدنا عمر فاروقؓ کا کلام بطورِ تنبیہ ہے کہ بار بار جو تم ہمارے پاس فِدک کے فیصلہ کے واسطے آتے ہو تو تم ہم کو گویا کاذب، غادر، آثم، خائن سمجھتے ہو جس میں صرف حضرت عباسؓ کو تنبیہ کرنا مقصود تھا جو کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو مجبور کر کے لائے تھے۔
اس روایتِ مسلم میں کسی جگہ یہ ثابت نہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کبھی کسی وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو کاذب و آثم، غادر و خائن کہا ہو۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عباسؓ کی طرف اپنے متعلق کاذب، آثم، غادر، خائن ان الفاظ کی نسبت اسی طرح دی ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق ان کی ظاہری حالت کو مدنظر رکھ کر فرمایا:
فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ الخ۔(سورۃ الانبیاء: آیت 87)
تو یونس علیہ السلام نے یہ خیال کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ اس پر ہرگز قادر نہیں ہیں۔
تو غور کیجیے! نبی بھی کبھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ خدا اس پر قادر نہیں ہے؟ اگر ایک عام شخص بھی اس قسم کا خیال کرے کہ خدا اس پر قادر نہیں ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے چہ جائیکہ ایک نبی ایسا خیال کرے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مراد یہ نہیں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام فی الواقع اللہ تعالیٰ کو قادر نہ سمجھتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری عمل اور عملی اقدام کو مدنظر رکھ کر تنبیہ فرما رہے ہیں کہ گویا انہوں نے جو یہ عمل کیا اس قسم کا خیال جیسے کسی کے دل میں آگیا ہو ورنہ حقیقت میں ان کے دل میں یہ خیال تو ہرگز نہ آ سکتا تھا۔
تو سیدنا عمر فاروقؓ بھی اسی طرح سیدنا عباسؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ کو فرما رہے ہیں کہ گویا تمہارا بار بار فِدک کے لیے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور میں نے جو پہلے فیصلے دیے ہیں اُن میں ہم کاذب، آثم، غادر و خائن تھے ورنہ فی الواقع نہ سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا عباسؓ نے ایسا کہا اور نہ ایسا سمجھا یہ صرف ان دونوں حضرات خصوصاً سیدنا عباسؓ کو تنبیہ تھی جو کہ واضح فیصلوں کے بعد پھر فیصلہ کے لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو دربار میں لائے تھے۔
ورنہ اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا صدیق اکبرؓ کو کاذب و خائن سمجھتے تو کبھی ان کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے اور نہ ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے اور نہ سیدنا عمر فاروقؓ کے متعلق اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے جو کہ شیعہ کی کتاب نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 24 پر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ سے فرمایا کہ جب سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے غزوہِ روم میں خود بنفسِ نفیس شریک ہونے کے لیے یہ مشورہ طلب کیا تو سیدنا علی علیہ السلام نے فرمایا:
وَقَدْ تَوَكَّلَ اللَّهُ لِأَهْلِ هَذَا الدِّينِ بِإِعْزَازِ الْحَوْزَةِ وَسَتْرِ الْعَوْرَةِ وَالَّذِی نَصَرَهُمْ وَهُمْ قَلِيلٌ لَا يَنْتَصِرُونَ وَمَنَعَهُمْ وَهُمْ قَلِيلٌ لَا يَمْتَنِعُونَ حَی لَا يَمُوتُ إِنَّكَ مَتَى تَسِرْ إِلَى هَذَا الْعَدُوِّ بِنَفْسِكَ فَتَلْقَهُمْ فَتُنْكَبِ الْمُسْلِمِينَ كَاشِفَةً دُونَ أَقْصَى بِلَادِهِمْ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ مَرْجِعٌ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مُجَرَّبًا وَأَحْفِزْ مَعَهُ أَهْلَ الْبَلَاءِ وَالنَّصِيحَةِ فَإِنْ أَظْهَرَهُ اللَّهُ فَذَاكَ مَا تُحِبُّ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى كُنْتَ رِدْءًا لِلنَّاسِ وَمَثَابَةً لِلْمُسْلِمِينَ۔
ترجمہ: بہ تحقیق اللہ اس دین والوں کے لیے ذمہ دار ہے ان کی جماعت کو عزت دینے اور ان کی کمزوریوں کو چھپانے کا اور جس نے ان کو اس حال میں مدد دی جب کہ وہ کم تھے فتح نہیں پا سکتے تھے اور اس حال میں ان کو محفوظ رکھا کہ وہ کم تھے اور محفوظ نہیں رہ سکتے تھے وہ اللہ اب بھی زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا بہ تحقیق جس وقت آپ اس دشمن کے سامنے جائیں گے اور خود ان سے مقابلہ کریں گے تو اگر کہیں آپ شہید ہو گئے تو پھر مسلمانوں کو کوئی جائے پناہ ان کے آخری شہروں تک کہیں نہ ملے گی کیونکہ آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جس کی طرف مسلمان رجوع کریں لہٰذا آپ کسی شخصِ تجربہ کار کو ان کی طرف روانہ کیجیے اور اس کے ساتھ آزمودہ کار اور خیر خواہ لوگوں کو بھیجیے تاکہ اگر ان کو اللہ تعالیٰ غلبہ دے تو یہی آپ کا مقصود ہے اور اگر خدا نخواستہ کوئی دوسری صورت ہوئی تو آپ مسلمانوں کے لیے جائے پناہ اور ان کے مرجع موجود رہیں گے۔
حضرات! غور کیجیے، سیدنا علی المرتضیٰؓ اگر سیدنا عمر فاروقؓ کو کاذب، غادر اور خائن سمجھتے تو رکنے کی بجائے میدانِ جنگ میں جانے کی ترغیب دیتے اور ان کی شہادت کو مسلمانوں کے لیے راحت سمجھتے مگر اس کے برعکس سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ کو:
الف: مسلمانوں کا مرجع اور ملجأ و ماویٰ بتایا۔
ب: نیز سیدنا عمر فاروقؓ کو بے مثل و بے نظیر خلیفہ جانتے تھے اور ان کا اعتقاد تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کے بعد مسلمانوں کو کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔
2: عقد الفرید اور الفاروق سے جو کہانی بی بی فاطمہؓ کے گھر جلانے کی مولوی اسماعیل نے بیان کی ہے یہ سراسر موضوع اور غلط روایت ہے اہلِ سنت کی کسی معتبر مستند کتاب میں یہ روایت نہیں ملتی جہاں بھی یہ لکھی ہوئی ہے شیعہ کی روایت لکھی ہوئی ہے اور خود شیعہ نے بھی اس روایت کو کمزور و ضعیف لکھا ہے۔
علامہ ابنِ ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 466 پر لکھتے ہیں:
وَأَمَّا مَا ذَكَرَهُ مِنَ الْهُجُومِ عَلَى دَارِ فَاطِمَةَ وَجَمْعِ الْحَطَبِ لِتَحْرِيقِهَا فَهُوَ خَبَرٌ وَاحِدٌ غَيْرُ مَوْثُوقٍ بِهِ وَلَا مَعْوَلَ عَلَيْهِ فِی حَقِّ الصَّحَابَةِ بَلْ وَلَا فِی حَقِّ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِمَّنْ ظَهَرَتْ عَدَالَتُهُ۔
ترجمہ: بہر حال یہ جو روایت ذکر کی گئی ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے گھر پر ہجوم کر کے حملہ کیا اور لکڑیاں جمع کی گئیں تاکہ اس گھر کو جلایا جائے تو یہ خبرِ واحد ہے جو معتبر نہیں ہے اور نہ اس خبر پر کوئی اعتماد و اعتبار ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں بلکہ کسی عام مسلمان کے حق میں بھی ایسی روایت قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتی جس کی عدالت اور نیکی ظاہر ہو۔
نیز الفاروق کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: اگرچہ سند کے اعتبار سے اس روایت میں ہم اپنا اعتبار ظاہر نہیں کر سکتے صفحہ 54 الفاروق کے یہ الفاظ صاف طور پر دلالت کرتے ہیں اور شرح نہج البلاغہ ابنِ ابی الحدید سے بھی یہی ثابت ہے کہ یہ روایت بالکل غیر معتبر ہے، اس کی سند کا کوئی اعتبار نہیں۔
علاوہ ازیں اگر بالفرض المحال یہ روایت مان بھی لی جائے تو اس روایت میں نہ بی بی فاطمہؓ کا جلانا مقصود ہے اور نہ اُس مکان کا جلانا مقصود ہے جس میں سیدہؓ رہتی تھیں بلکہ ایک مکان کو جلانے کی دھمکی دی گئی تھی جو کہ حضرتِ زہراءؓ کا تھا اور اس میں بعض لوگ جمع ہو کر ایسے مشورے کرتے تھے جو اسلامی مفاد اور وحدتِ قومی اور تنظیمِ ملی کے خلاف تھے اور خاتونِ جنت نے خود اُن لوگوں کو وہاں جمع ہونے سے منع کردیا تھا، جیسا کہ حق الیقین جلد 1 کے صفحہ 140 پر ہے کہ خاتونِ جنت نے ان لوگوں کو فرمایا:
شما دیگر باین خانه میائید تم لوگ پھر اس مکان میں مت آنا۔
دیکھیے اگر سیدنا عمر فاروقؓ کا فرمان غلط تھا تو سیدہؓ نے ان کی تائید کرکے ان لوگوں کو منع کیوں کیا؟ خاتونِ جنت نے کیوں نہ تائید فرماتیں جب کہ ایک دینی مفاد تھا؟ اور سیدنا عمر فاروقؓ کو خاتونِ جنت سے نہایت احترام و عقیدت مندی تھی جیسا کہ اسی حق الیقین کے صفحہ 14 پر موجود ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدہؓ کو کہا:
ای دختر رسول خدا! احدی نزد ما از خلق محبوب تر نیست از پدر تو، و بعد از پدر تو احدے نزد ما محبوب تر نیست از تو بخدا سوگند کہ این مانع من نیست از آنکہ اگر این جماعت در خانه تو جمعیت کنند آتش بزنم خانہ ات را بر ایشان بسوزانم۔
ترجمہ: اے رسولِ خدا کی بیٹی! کوئی شخص ہمارے نزدیک آپ کے والد سے زیادہ محبوب نہیں اور آپ کے والد بزرگوار کے بعد کوئی شخص آپ سے زیادہ محبوب ہم کو نہیں ہے اور خدا کی قسم تمہارا یہ احترام و محبت مجھ کو اس بات سے نہیں روک سکتا کہ اگر یہ لوگ تمہارے گھر میں جمع ہوتے رہے تو ان لوگوں پر تمہارے گھر کو جلا دوں گا۔
تو دیکھیے یہ روایت خود شیعہ کی ہے اس میں سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدہ خاتونِ جنت کے ساتھ کس قدر عقیدت و احترام کا اظہار و اقرار کیا ہے۔ اور اس میں الفاظ بھی یہی ہیں کہ ان لوگوں پر گھر کو جلا دوں گا آخر وہ سب لوگ سیدہؓ کے محرم تو نہ تھے کہ سیدہؓ ان کے ساتھ ہوتیں بلکہ سیدہؓ دوسرے مکان اور کمرے میں ہوتی تھیں تو نہ سیدہؓ کے جلانے کا کوئی لفظ ہے اور نہ سیدہؓ کے رہنے کے مکان کو جلانے کا کوئی لفظ ہے بلکہ دوسرے لوگوں کے جمع ہونے والے مکان و کمرے کو جلا دینے کی دھمکی ہے جس کی خود سیدہؓ نے تائید فرما کر ان لوگوں کو وہاں جمع ہونے سے روک دیا۔
3: مولوی اسماعیل صاحب نے جو صحیح مسلم سے روایت پیش کر کے جواب دیا ہے کہ امراء و ائمہ جب تک نمازیں پڑھتے رہیں اور علانیہ کفر نہ کریں ان سے نہ لڑو، اس لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اصحابؓ سے تعلقات رکھے اور جنگ نہ کی تو صحیح مسلم اہلِ سنت کی کتاب ہے۔ تو گویا مولوی اسماعیل کے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰؓ اہلِ سنت کے مذہب کے ماننے والے تھے اور اہلِ سنت کے مذہب کے مطابق جو احادیث و روایات ہیں انہی پر عمل فرمایا کرتے تھے۔
مگر میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ شیعہ عقائد کے لحاظ سے جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ بلکہ تمام صحابہ مرتد و منافق تھے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان سے جہاد کیوں نہ کیا اور ان سے تعلقات کیوں رکھے اور ان سے بیعت اور نمازیں ان کے ساتھ کیوں ادا کیں؟
دیکھیے شیعہ مذہب کی معتبر کتاب تفسیر صافی کے صفحہ 232 پر ہے:
جَاهِدِ الۡـكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 73)
کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے منافقین سے جہاد کیا۔ تو اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ منافق و ظالم ہوتے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ ان سے بھی جہاد کرتے۔
مناظر شیعہ:
حضرات مومنین کرام! مولوی عبد الستار صاحب روایتِ احراقِ خانہ فاطمہ کے متعلق کہتے ہیں کہ سیدہؓ دوسرے گھر میں تھیں اور اس گھر میں نہیں تھیں جہاں وہ لوگ جمع ہوتے تھے۔
1: مومنین کرام! مولوی عبد الستار کی یہ بات غلط ہے کیونکہ وہ کوئی بیگانے لوگ تو نہ جمع ہوتے تھے بلکہ وہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت عباسؓ و حضرت زبیرؓ تھے جن سے سیدہؓ کا پردہ نہ تھا لہٰذا یہ لوگ اسی مکان میں جمع ہوتے تھے جہاں سیدہؓ رہتی تھیں اور اسی کے جلانے کو کہا گیا تھا۔
2: در منثور جلد 5 صفحہ 71 میں موجود ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: میرے منبر پر بندر ناچیں گے۔ مولوی عبدالستار صاحب بتائیں کہ اس روایت کا مصداق کون ہیں؟
3: اہلِ سنت کی کتاب فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 5 صفحہ 555 پر ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے یزید سے ایک لاکھ درہم لیے لہٰذا یہ اہلِ سنت والجماعت کا امام ہے۔
مولوی اسماعیل کے ان الفاظ پر مہر حق نواز سر پرستِ شیعہ اور مہر حاجی شوق محمد صاحب سر پرستِ اہلِ سنت دونوں نے مولوی اسماعیل کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ بحث تو اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت پر ہو رہی ہے تم نے یزید کی امامت کی بحث کس لیے چھیڑ دی ہے؟ یہ بات خلافِ موضوع ہے اور شرائطِ مناظرہ کے بھی قطعی خلاف ہے اور الحاج مہر شوق محمد نے فرمایا کہ تمہارے پاس اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت کو رد کرنے کے لیے تو کوئی دلیل نہیں ہے اس لیے یزید کے امام ہونے کی بحث شروع کر دی۔
اس وقت علامہ تونسوی مدظلہ نے فرمایا کہ یہ اصل موضوع سے بھاگتا ہے تو اس کو بھاگنے دو جس طرف یہ جائے گا میں اس کا پیچھا کروں گا کیونکہ مولوی اسماعیل بے چارے کو اور تو کچھ آتا نہیں تھا پھر شروع کر دیا کہ یزید نے اہلِ بیتؓ کے بچوں کے دُر اتار لیے اور ان کا پانی بند کر دیا ایسا ظالم اہلِ سنت کا امام ہے یہی مولوی اسماعیل کے آخری الفاظ تھے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل بے چارہ کہتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے گھر میں کوئی بیگانے لوگ جمع نہ ہوتے تھے بلکہ وہ تو سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا عباسؓ و سیدنا زبیرؓ تھے جن سے پردہ نہ تھا۔
ا: مولوی اسماعیل کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ صرف یہی تین حضرات سیدہؓ کے گھر جمع ہوتے تھے، کیونکہ ان کی معتبر کتاب حق الیقین کے صفحہ 140 پر ہے کہ سیدنا زبیرؓ، سیدنا مقدادؓ اور صحابہ کی ایک جماعت وہاں آ کر مشورہ کرتے تھے۔ تو ہم مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تمام حضرات سیدنا زبیرؓ و سیدنا مقدادؓ وغیرہ صحابہ کی جماعت سب کے سب حضرت سیدہؓ کے محارم تھے جن سے سیدہؓ کا پردہ نہ تھا اور یہ سب اسی کمرے میں ہوتے تھے جس میں سیدہؓ ہوتی تھیں؟
ب: حق الیقین صفحہ 140 پر سیدہؓ کے الفاظ موجود ہیں:
شما دیگر باین خانہ میائید ایشان رفتند با ابوبکر بیعت کردند۔
ترجمہ: تم پھر اس گھر میں نہ آنا تو سیدہؓ کے فرمان پر یہ سب لوگ چلے گئے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
حضرات! سوچنے کی چیز ہے کہ سیدہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو بھی ان لوگوں کے ساتھ فرما دیا کہ پھر اس گھر میں نہ آنا کیا اس میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کو روکا گیا تھا کہ اس گھر میں نہ آنا؟ کیسی مہمل باتیں مولوی اسماعیل بیان کرتا ہے اس روایت سے صاف ظاہر ثابت ہے کہ وہ لوگ غیر محرم اور بیگانے تھے، جو کسی دوسرے مکان میں جو کہ سیدہؓ کی ملکیت تھا، جمع ہوتے تھے خاتونِ جنت نے اپنی اس جگہ آنے سے روک دیا جس کے بعد وہ چلے گئے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
اگر ہماری یہ بات مولوی اسماعیل یا کوئی دوسرا مجتہد شیعہ غلط سمجھے تو ہم اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بیان کرے کہ وہ کون لوگ تھے جن کو خاتونِ جنت نے روک دیا اور انہوں نے سیدنا صدیق اکبرؓ کے ہاتھ پر جا کر بیعت کر لی۔
2: مولوی اسماعیل صاحب نے در منثور کی روایت پیش کی ہے۔
اولاً: تو میں کہتا ہوں کہ در منثور جیسی ضعیف کتاب کی روایات کس طرح معتبر اور قابلِ قبول ہو سکتی ہیں؟
ثانیاً اگر بالفرض حضورِ اکرمﷺ کا یہ ارشاد ہو کہ میرے منبر پر بندر ناچیں گے تو اس سے یہ کیسے یقین ہو کہ اس میں فلاں فلاں اشخاص مراد ہیں؟ بہر حال یہ ایک مجاز ہے جس کی کوئی تاویلِ موزوں کرنی ہوگی تو اہلِ سنت کے نزدیک امراءِ جور، یزید و حجاج وغیرہ جیسے اشخاص مراد ہوں گے۔ یا ممکن ہے کہ مولوی اسماعیل جیسے لوگوں کے اسٹیج پر ناچنے کودنے کی طرف اشارہ ہو یہ تو کسی طرح بھی اس روایت کا مطلب نہیں ہو سکتا کہ شیعہ اس سے خلفائے راشدینؓ مراد لے لیں اور خارجی اس سے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ مراد لے لیں۔ العیاذ باللہ۔
3: حضرات! حضورِ اکرمﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے عہدِ مبارک سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتؓ کے وظائف مقرر تھے۔ اور تمام اہلِ بیتؓ اور اہلِ بدر و اہلِ اُحد اور اہلِ بیعتِ اولیٰ وغیرہ وغیرہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ و سیدنا عثمان غنیؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ تمام خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں اپنے وظائفِ مقررہ لیتے رہے یہاں تک کہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ، سیدنا عبداللہ بن جعفر طیارؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بھی عطایا و وظائف لیتے رہے جو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ان کو مل جاتے تھے۔
جیسا کہ خود شیعہ کی معتبر کتاب جلاء العیون کے صفحہ 115 پر ہے:
از حضرت صادق علیه السلام روایت کرده است که روزی حضرت امام حسن با حضرت امام حسین و عبدالله بن جعفر فرمود که جائزه هاے معاویه در روز اول ماه بشما خواهد رسید. چون روز اول ماه شد چنانکه فرموده بود اموال معاویه رسید. جناب امام حسن قرض بسیاری داشت از آنچه او فرستاده بود برائے آن حضرت، قرض هاے خود را ادا کرد و باقی را میان اهل بیت و شیعیان خود قسمت نمود. و جناب امام حسین قرض خود را ادا کرد و آنچه ماند بسه قسمت کرد یک حصه را با اهل بیت و شیعیان خود داد و دو حصه را براے عیال خود فرستاد۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت کی گئی ہے کہ ایک روز سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ اور سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کو فرمایا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مقرر کردہ عطیہ و وظیفہ تمہارے پاس مہینے کی پہلی تاریخ کو پہنچے گا جب مہینے کی پہلی تاریخ آئی جس طرح کہ سیدنا حسنؓ نے فرمایا تھا، سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مال پہنچا سیدنا حسنؓ پر بہت قرضے تھے جو کچھ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے حضرت کے لیے بھیجا تھا، اس میں سے قرضے ادا کیے اور باقی ماندہ مال اپنے اہلِ بیتؓ اور اپنے شیعوں میں بانٹ دیا۔ اور سیدنا حسینؓ نے بھی اپنے قرضے ادا کیے اور جو باقی بچا اس کو تین حصہ کیا ایک تہائی حصہ اہلِ بیتؓ اور اپنے شیعوں کو دیا اور دو تہائی حصہ اپنے گھر والوں اہل و عیال کے واسطے بھیجا۔
نیز اسی جلاء العیون کے صفحہ 216 پر ہے کہ یزید نے سیدنا زین العابدینؓ کو دو سو دینار سنہری دیے تو حضرت نے یزید سے لے لیے:
دو صد دینار طلا بآن حضرت داد، حضرت آن زر را گرفت۔
ترجمہ: دو سو سنہری دینار یزید نے سیدنا زین العابدینؓ کو دیے اور امام نے وہ زر لے لیا۔
حضرات! غور کیجیے۔ خود ان روایاتِ شیعہ سے بھی ثابت ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بے اندازہ مال لے کر اپنے اہل و عیال اور شیعوں پر خرچ فرمایا۔ اور اسی طرح سیدنا زین العابدینؓ نے یزید سے دو سو دینار لے کر خرچ کیے۔ پس اگر انہی وظائفِ مقررہ سابقہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے کچھ مال لیا تو کون سا جرم کیا؟ اگر یہ جرم ہے تو اس میں اہلِ بیتؓ کے ائمہ بھی شریک ہیں۔ نعوذ باللہ۔
باقی رہا شیعہ مناظر کا سیدنا عبداللہ بن عمرؓ پر یہ الزام کہ انہوں نے یزید سے ایک لاکھ درہم لیے، سراسر بہتان ہے۔ کتاب فتح الباری 555 میں تو سیدنا امیرِ معاویہؓ سے لینا مذکور ہے لیکن مناظرِ شیعہ یزید کا نام لے رہے ہیں، یہ غلط ہے۔ باقی اگر کسی سے مال لینے سے اس کا مان لینا آتا ہے تو شیعہ کتب میں ابھی ثابت کر چکا ہوں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اور سیدنا زین العابدینؓ نے یزید سے مال لیا۔ پھر اس سے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ اور یزید کا شیعوں کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
حضرات! مولوی اسماعیل اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافتِ راشدہ کے دلائل سے لاجواب و مبہوت ہو کر اب یزید کو اہلِ سنت کا امام بنانے اور بتانے لگا ہے۔ گویا کہ مولوی اسماعیل اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافتِ راشدہ کو حق مان چکا ہے۔ اور کیوں نہ مانتا جب کہ امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کا فرمان شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی کے صفحہ 31 پر مرقوم ہے:
وَلَعَمْرِی إِنَّ مَكَانَهُمَا فِی الْإِسْلَامِ لَعَظِيمٌ وَإِنَّ الْمُصَابَ بِهِمَا لَجُرْحٌ فِی الْإِسْلَامِ لَشَدِيدٌ يَرْحَمُهُمَا اللهُ وَجَزَاهُمَا بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَا۔
ترجمہ: اور قسم مجھے اپنی جان کی کہ تحقیق ان دونوں سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کا مقام اسلام میں بڑا ہے اور ان کی وفات سے اسلام کو سخت زخم پہنچا۔ اللہ ان دونوں پر رحمت نازل کرے اور ان کو ان کے بہترین کاموں کا بدلہ دے۔
مولوی اسماعیل صاحب! حسب فرمان سیدنا علی المرتضیٰؓ حضرات خلفائے ثلاثہؓ کو مان لیں اور یزید کے متعلق یہ خوف نہ کھائیں کہ یہ اہلِ سنت کا امام و پیشوا ہے۔ یہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے۔ دیکھیے اہلِ سنت کی عقائد کی کتاب شرح عقائد نسفی کے صفحہ 553 پر لکھا ہے:
وَاتَّفَقُوا عَلَى جَوَازِ اللَّعْنِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ أَوْ أَجَازَهُ وَرَضِی بِهِ۔
ترجمہ: اور ہمارے علماء ان لوگوں پر لعنت کہنے کے جواز پر متفق ہیں جنہوں نے سیدنا حسینؓ کو قتل کیا یا سیدنا حسینؓ کے قتل کا حکم دیا، یا سیدنا حسینؓ کے قتل کی اجازت دی اور ان کے قتل پر راضی و خوش ہوئے۔
اور اس کے بعد اسی شرح عقائد نسفی کے صفحہ 554 پر ہے:
لَعْنَةُ اللهِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَعْوَانِهِ وَأَنْصَارِهِ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یزید پر اور اس کے معاونین اور مددگاروں پر جنہوں نے سیدنا حسینؓ کو شہید کرنے میں اس کی امداد کی۔
دیکھیے مولوی اسماعیل صاحب! اگر یزید اہلِ سنت کا امام ہوتا تو ہم اس کے متعلق یوں کیوں لکھتے؟ جہاں اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یزید کے متعلق کچھ لکھا ہوا ہے وہاں اس کے بادشاہِ وقت ہونے کے متعلق لکھا ہوا ہے۔ یہ کہیں نہیں ہے کہ یزید اہلِ سنت کا امام و پیشوا اور مقتدا تھا۔ اگر خدا ایک بار یزید پر لعنت کرے تو ہم اہلِ سنت اس پر لاکھ بار لعنت کریں گے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ اپنے شیعہ مذہب کا فکر کیجیے اور آئیے ہم شیعہ مذہب کی کتابوں سے پوچھیں کہ یزید کس کا امام ہے؟ دیکھیے فروعِ کافی کتاب الروضہ صفحہ 110 پر ہے کہ سیدنا زین العابدینؓ نے یزید سے کہا:
قَدْ أَقْرَرْتُ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مَكْرَهٌ لَكَ۔
ترجمہ: تحقیق میں تیری ہر اس بات کو مانتا ہوں جو تو چاہے اور سوال کرے۔ میں تو تیرا مجبور و ماتحت غلام ہوں۔
مولوی اسماعیل صاحب! بتائیے کہ سیدنا زین العابدینؓ کو یزید کا غلام اور یزید کی ہر بات ماننے والا خواہ وہ یزید اپنی امامت منوائے یا حکومت و خلافت، تم شیعوں نے بنایا ہے یا اہلِ سنت نے؟
اور شیعوں کی معتبر کتاب تلخیص الشافی صفحہ 471 پر ہے کہ سیدنا حسینؓ نے سیدنا عمر بن سعد کو فرمایا:
اخْتَرْ لِی إِمَّا الرُّجُوعُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِی أَقْبَلْتُ مِنْهُ، أَوْ أَنْ أَضَعَ يَدِی عَلَى يَدِ يَزِيدَ فَهُوَ ابْنُ عَمِّی ليَرَى فِی رَأْيہ۔
ترجمہ: تم میری طرف سے جو چیز چاہو اختیار کرو۔ یا تو مجھے اس مکان کی طرف واپس جانے دو جہاں سے میں آیا ہوں، یا مجھے یزید کے پاس لے چلو۔ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دوں گا کیونکہ وہ یزید میرا چچا زاد بھائی ہے تاکہ وہ میرے حق میں اپنی رائے دے۔
مولوی اسماعیل صاحب! دیکھیے سیدنا حسینؓ کے ہاتھ کو یزید کے ہاتھ پر تم رکھوا رہے ہو اور سیدنا حسینؓ سے یزید کی بیعت تم تسلیم کروا رہے ہو یا کہ اہلِ سنت کروا رہے ہیں؟
جب حضرت علامہ تونسوی مدظلہ نے یہ حوالہ پیش کیا تو شیعہ علماء اور عوام میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ اور اپنی سخت شکستِ فاش سمجھ کر نہایت ہی حواس باختہ اور سرنگوں ہو گئے کہ یا اللہ! یہ کیا قیامت برپا ہوگئی کہ ہمارے مناظر مولوی اسماعیل نے یزید کی بحث چھیڑ کر شیعہ مذہب کو رسوا اور ذلیل کر دیا۔
ادھر علامہ محمد عبد الستار صاحب مناظرِ اہلِ سنت شیر کی مانند گرج کر فرما رہے تھے: مولوی اسماعیل صاحب! اب فرمائیے کہ یزید ہمارا امام ہے یا کہ تمہارا؟ جس پر تمام شیعہ حضرات مولوی اسماعیل کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے کہ ہم نے مولوی اسماعیل کو حضرت علامہ تونسوی کے مقابلے میں بلوا کر متواتر تینوں دن اپنے مذہب کو رسوا کیا۔ اور اب آخری وقت میں تو ذلت و خواری کی کوئی انتہا ہی نہ رہی۔
مناظرِ اعظم اہلِ سنت علامہ تونسوی مدظلہ سے مطالبہ کیا گیا کہ کتاب تلخیص الشافی کا حوالہ دکھاؤ۔ علامہ تونسوی نے فرمایا کہ میں مولوی اسماعیل کی پرانی عادتوں سے واقف ہوں، یہ کتاب پھاڑ ڈالے گا۔ چنانچہ سرپرستِ اہلِ سنت اپنی ذمہ داری پر وہ کتاب تلخیص شیعہ مناظر کے پاس لے گئے۔ مگر اس وقت مولوی اسماعیل کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ حوالہ کو ادھر ادھر سے تو ہٹاتا، مگر وہ خاص عبارت پڑھنے سے گریز کرتا تھا۔ ادہر علامہ تونسوی مدظلہ فرماتے تھے: مولوی صاحب! ذرا ہوش سنبھالو، درمیان سے پڑھو۔
مولوی اسماعیل بے چارے کا چہرہ خوفزدہ تھا اور حواس باختہ تھے اور اس کے چیلے شور مچا رہے تھے اور مولوی اسماعیل کی بدحواسی پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔ مگر تمام حاضرینِ شیعہ و اہلِ سنت پر شیعہ مناظر کی شکستِ فاش اور بدحواسی واضح ہو چکی تھی۔ اور کتاب پر شیعہ مولویوں کا جمگھٹا ہو گیا تو علامہ تونسوی کو خطرہ ہوا کہ یہ کتاب کو پھاڑ ڈالیں گے، اس لیے آپ نے فوراً کتاب ان سے واپس منگوا لی۔
اس کے بعد شیعہ سرپرستوں کو یہ حوالہ دکھایا گیا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ شیعہ مولوی سید گلاب شاہ نے بھی یہ حوالہ دیکھنا چاہا تو کتاب پھاڑنے کے خوف سے علامہ تونسوی مدظلہ نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر حلف دے کر حوالہ اس سے پڑھوایا، تاکہ وہ صحیح پڑھ کر تمام لوگوں کو سنا دے۔ اسی صورت سے مولوی ضمیر الحسن اور مولوی امیر محمد قریشی سے بھی یہ حوالہ پڑھوایا گیا۔ جس کو پڑھ کر شیعہ مولوی اتنے بدحواس اور مبہوت تھے کہ لاجواب اور شرمندہ ہونے کی وجہ سے کتاب پھاڑنے پر آمادہ تھے۔
مناظرِ اعظم اہلِ سنت علامہ تونسوی مدظلہ کا ابھی تک تین منٹ وقت باقی تھا کہ سرپرستِ شیعہ مہر حق نواز صاحب نے علامہ تونسوی مدظلہ کے پاس آ کر نہایت ادب سے عرض کیا: اب آپ اپنی تقریر ختم کیجیے اور ہم کو زیادہ رسوا نہ کیجیے۔ شیعوں کے اصرار سے معززینِ سرگانہ اہلِ سنت نے حضرت علامہ تونسوی کی خدمت میں عرض کیا کہ حق واضح ہو چکا ہے، دعائے خیر فرما کر ختم کیجیے۔
دعائے خیر کے بعد مناظرِ اعظم اہلِ سنت کی خدمت میں جہاں اور حضرات نے فتح و کامیابی پر مبارکباد اور ہدایا و تحائف پیش کیے، وہاں مولانا محمد حسین صاحب نے مناظرِ اعظم تنظیمِ اہلِ سنت علامہ تونسوی مدظلہ کے سر پر سبز رنگ کی دستار بندھوائی اور مناظرِ اعظم زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔
تنظیم اہل سنت مجلس تحفظ ختم نبوت
زندہ باد زندہ باد۔