مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 8 از 9

حضرات! سوچنے کی چیز ہے کہ سیدہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو بھی ان لوگوں کے ساتھ فرما دیا کہ پھر اس گھر میں نہ آنا کیا اس میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کو روکا گیا تھا کہ اس گھر میں نہ آنا؟ کیسی مہمل باتیں مولوی اسماعیل بیان کرتا ہے اس روایت سے صاف ظاہر ثابت ہے کہ وہ لوگ غیر محرم اور بیگانے تھے، جو کسی دوسرے مکان میں جو کہ سیدہؓ کی ملکیت تھا، جمع ہوتے تھے خاتونِ جنت نے اپنی اس جگہ آنے سے روک دیا جس کے بعد وہ چلے گئے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ 

اگر ہماری یہ بات مولوی اسماعیل یا کوئی دوسرا مجتہد شیعہ غلط سمجھے تو ہم اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بیان کرے کہ وہ کون لوگ تھے جن کو خاتونِ جنت نے روک دیا اور انہوں نے سیدنا صدیق اکبرؓ کے ہاتھ پر جا کر بیعت کر لی۔

2: مولوی اسماعیل صاحب نے در منثور کی روایت پیش کی ہے۔

اولاً: تو میں کہتا ہوں کہ در منثور جیسی ضعیف کتاب کی روایات کس طرح معتبر اور قابلِ قبول ہو سکتی ہیں؟ 

ثانیاً اگر بالفرض حضورِ اکرمﷺ کا یہ ارشاد ہو کہ میرے منبر پر بندر ناچیں گے تو اس سے یہ کیسے یقین ہو کہ اس میں فلاں فلاں اشخاص مراد ہیں؟ بہر حال یہ ایک مجاز ہے جس کی کوئی تاویلِ موزوں کرنی ہوگی تو اہلِ سنت کے نزدیک امراءِ جور، یزید و حجاج وغیرہ جیسے اشخاص مراد ہوں گے۔ یا ممکن ہے کہ مولوی اسماعیل جیسے لوگوں کے اسٹیج پر ناچنے کودنے کی طرف اشارہ ہو یہ تو کسی طرح بھی اس روایت کا مطلب نہیں ہو سکتا کہ شیعہ اس سے خلفائے راشدینؓ مراد لے لیں اور خارجی اس سے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ مراد لے لیں۔ العیاذ باللہ۔

3: حضرات! حضورِ اکرمﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے عہدِ مبارک سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتؓ کے وظائف مقرر تھے۔ اور تمام اہلِ بیتؓ اور اہلِ بدر و اہلِ اُحد اور اہلِ بیعتِ اولیٰ وغیرہ وغیرہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ و سیدنا عثمان غنیؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ تمام خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں اپنے وظائفِ مقررہ لیتے رہے یہاں تک کہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ، سیدنا عبداللہ بن جعفر طیارؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بھی عطایا و وظائف لیتے رہے جو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ان کو مل جاتے تھے۔ 

جیسا کہ خود شیعہ کی معتبر کتاب جلاء العیون کے صفحہ 115 پر ہے:  

از حضرت صادق علیه السلام روایت کرده است که روزی حضرت امام حسن با حضرت امام حسین و عبدالله بن جعفر فرمود که جائزه هاے معاویه در روز اول ماه بشما خواهد رسید. چون روز اول ماه شد چنانکه فرموده بود اموال معاویه رسید. جناب امام حسن قرض بسیاری داشت از آنچه او فرستاده بود برائے آن حضرت، قرض هاے خود را ادا کرد و باقی را میان اهل بیت و شیعیان خود قسمت نمود. و جناب امام حسین قرض خود را ادا کرد و آنچه ماند بسه قسمت کرد یک حصه را با اهل بیت و شیعیان خود داد و دو حصه را براے عیال خود فرستاد۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت کی گئی ہے کہ ایک روز سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ اور سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کو فرمایا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مقرر کردہ عطیہ و وظیفہ تمہارے پاس مہینے کی پہلی تاریخ کو پہنچے گا جب مہینے کی پہلی تاریخ آئی جس طرح کہ سیدنا حسنؓ نے فرمایا تھا، سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مال پہنچا سیدنا حسنؓ پر بہت قرضے تھے جو کچھ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے حضرت کے لیے بھیجا تھا، اس میں سے قرضے ادا کیے اور باقی ماندہ مال اپنے اہلِ بیتؓ اور اپنے شیعوں میں بانٹ دیا۔ اور سیدنا حسینؓ نے بھی اپنے قرضے ادا کیے اور جو باقی بچا اس کو تین حصہ کیا ایک تہائی حصہ اہلِ بیتؓ اور اپنے شیعوں کو دیا اور دو تہائی حصہ اپنے گھر والوں اہل و عیال کے واسطے بھیجا۔

نیز اسی جلاء العیون کے صفحہ 216 پر ہے کہ یزید نے سیدنا زین العابدینؓ کو دو سو دینار سنہری دیے تو حضرت نے یزید سے لے لیے: 

دو صد دینار طلا بآن حضرت داد، حضرت آن زر را گرفت۔ 

ترجمہ: دو سو سنہری دینار یزید نے سیدنا زین العابدینؓ کو دیے اور امام نے وہ زر لے لیا۔

حضرات! غور کیجیے۔ خود ان روایاتِ شیعہ سے بھی ثابت ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بے اندازہ مال لے کر اپنے اہل و عیال اور شیعوں پر خرچ فرمایا۔ اور اسی طرح سیدنا زین العابدینؓ نے یزید سے دو سو دینار لے کر خرچ کیے۔ پس اگر انہی وظائفِ مقررہ سابقہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے کچھ مال لیا تو کون سا جرم کیا؟ اگر یہ جرم ہے تو اس میں اہلِ بیتؓ کے ائمہ بھی شریک ہیں۔ نعوذ باللہ۔

باقی رہا شیعہ مناظر کا سیدنا عبداللہ بن عمرؓ پر یہ الزام کہ انہوں نے یزید سے ایک لاکھ درہم لیے، سراسر بہتان ہے۔ کتاب فتح الباری 555 میں تو سیدنا امیرِ معاویہؓ سے لینا مذکور ہے لیکن مناظرِ شیعہ یزید کا نام لے رہے ہیں، یہ غلط ہے۔ باقی اگر کسی سے مال لینے سے اس کا مان لینا آتا ہے تو شیعہ کتب میں ابھی ثابت کر چکا ہوں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اور سیدنا زین العابدینؓ نے یزید سے مال لیا۔ پھر اس سے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ اور یزید کا شیعوں کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔

حضرات! مولوی اسماعیل اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافتِ راشدہ کے دلائل سے لاجواب و مبہوت ہو کر اب یزید کو اہلِ سنت کا امام بنانے اور بتانے لگا ہے۔ گویا کہ مولوی اسماعیل اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافتِ راشدہ کو حق مان چکا ہے۔ اور کیوں نہ مانتا جب کہ امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کا فرمان شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی کے صفحہ 31 پر مرقوم ہے:  

وَلَعَمْرِی إِنَّ مَكَانَهُمَا فِی الْإِسْلَامِ لَعَظِيمٌ وَإِنَّ الْمُصَابَ بِهِمَا لَجُرْحٌ فِی الْإِسْلَامِ لَشَدِيدٌ يَرْحَمُهُمَا اللهُ وَجَزَاهُمَا بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَا۔  

ترجمہ: اور قسم مجھے اپنی جان کی کہ تحقیق ان دونوں سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کا مقام اسلام میں بڑا ہے اور ان کی وفات سے اسلام کو سخت زخم پہنچا۔ اللہ ان دونوں پر رحمت نازل کرے اور ان کو ان کے بہترین کاموں کا بدلہ دے۔

صفحہ 8 از 9