مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ - سنی شیعہ مناظرے |…

مناظرہ موضوع چہارم خلافت خلفائے راشدینؓ

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 7 از 9

شما دیگر باین خانه میائید تم لوگ پھر اس مکان میں مت آنا۔

دیکھیے اگر سیدنا عمر فاروقؓ کا فرمان غلط تھا تو سیدہؓ نے ان کی تائید کرکے ان لوگوں کو منع کیوں کیا؟ خاتونِ جنت نے کیوں نہ تائید فرماتیں جب کہ ایک دینی مفاد تھا؟ اور سیدنا عمر فاروقؓ کو خاتونِ جنت سے نہایت احترام و عقیدت مندی تھی جیسا کہ اسی حق الیقین کے صفحہ 14 پر موجود ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدہؓ کو کہا:  

ای دختر رسول خدا! احدی نزد ما از خلق محبوب تر نیست از پدر تو، و بعد از پدر تو احدے نزد ما محبوب تر نیست از تو بخدا سوگند کہ این مانع من نیست از آنکہ اگر این جماعت در خانه تو جمعیت کنند آتش بزنم خانہ ات را بر ایشان بسوزانم۔

ترجمہ: اے رسولِ خدا کی بیٹی! کوئی شخص ہمارے نزدیک آپ کے والد سے زیادہ محبوب نہیں اور آپ کے والد بزرگوار کے بعد کوئی شخص آپ سے زیادہ محبوب ہم کو نہیں ہے اور خدا کی قسم تمہارا یہ احترام و محبت مجھ کو اس بات سے نہیں روک سکتا کہ اگر یہ لوگ تمہارے گھر میں جمع ہوتے رہے تو ان لوگوں پر تمہارے گھر کو جلا دوں گا۔

تو دیکھیے یہ روایت خود شیعہ کی ہے اس میں سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدہ خاتونِ جنت کے ساتھ کس قدر عقیدت و احترام کا اظہار و اقرار کیا ہے۔ اور اس میں الفاظ بھی یہی ہیں کہ ان لوگوں پر گھر کو جلا دوں گا آخر وہ سب لوگ سیدہؓ کے محرم تو نہ تھے کہ سیدہؓ ان کے ساتھ ہوتیں بلکہ سیدہؓ دوسرے مکان اور کمرے میں ہوتی تھیں تو نہ سیدہؓ کے جلانے کا کوئی لفظ ہے اور نہ سیدہؓ کے رہنے کے مکان کو جلانے کا کوئی لفظ ہے بلکہ دوسرے لوگوں کے جمع ہونے والے مکان و کمرے کو جلا دینے کی دھمکی ہے جس کی خود سیدہؓ نے تائید فرما کر ان لوگوں کو وہاں جمع ہونے سے روک دیا۔

3: مولوی اسماعیل صاحب نے جو صحیح مسلم سے روایت پیش کر کے جواب دیا ہے کہ امراء و ائمہ جب تک نمازیں پڑھتے رہیں اور علانیہ کفر نہ کریں ان سے نہ لڑو، اس لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اصحابؓ سے تعلقات رکھے اور جنگ نہ کی تو صحیح مسلم اہلِ سنت کی کتاب ہے۔ تو گویا مولوی اسماعیل کے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰؓ اہلِ سنت کے مذہب کے ماننے والے تھے اور اہلِ سنت کے مذہب کے مطابق جو احادیث و روایات ہیں انہی پر عمل فرمایا کرتے تھے۔

مگر میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ شیعہ عقائد کے لحاظ سے جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ بلکہ تمام صحابہ مرتد و منافق تھے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان سے جہاد کیوں نہ کیا اور ان سے تعلقات کیوں رکھے اور ان سے بیعت اور نمازیں ان کے ساتھ کیوں ادا کیں؟ 

دیکھیے شیعہ مذہب کی معتبر کتاب تفسیر صافی کے صفحہ 232 پر ہے: 

جَاهِدِ الۡـكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 73)

کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے منافقین سے جہاد کیا۔ تو اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ منافق و ظالم ہوتے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ ان سے بھی جہاد کرتے۔

مناظر شیعہ:

حضرات مومنین کرام! مولوی عبد الستار صاحب روایتِ احراقِ خانہ فاطمہ کے متعلق کہتے ہیں کہ سیدہؓ دوسرے گھر میں تھیں اور اس گھر میں نہیں تھیں جہاں وہ لوگ جمع ہوتے تھے۔

1: مومنین کرام! مولوی عبد الستار کی یہ بات غلط ہے کیونکہ وہ کوئی بیگانے لوگ تو نہ جمع ہوتے تھے بلکہ وہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت عباسؓ و حضرت زبیرؓ تھے جن سے سیدہؓ کا پردہ نہ تھا لہٰذا یہ لوگ اسی مکان میں جمع ہوتے تھے جہاں سیدہؓ رہتی تھیں اور اسی کے جلانے کو کہا گیا تھا۔  

2: در منثور جلد 5 صفحہ 71 میں موجود ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: میرے منبر پر بندر ناچیں گے۔ مولوی عبدالستار صاحب بتائیں کہ اس روایت کا مصداق کون ہیں؟  

3: اہلِ سنت کی کتاب فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 5 صفحہ 555 پر ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے یزید سے ایک لاکھ درہم لیے لہٰذا یہ اہلِ سنت والجماعت کا امام ہے۔ 

مولوی اسماعیل کے ان الفاظ پر مہر حق نواز سر پرستِ شیعہ اور مہر حاجی شوق محمد صاحب سر پرستِ اہلِ سنت دونوں نے مولوی اسماعیل کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ بحث تو اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت پر ہو رہی ہے تم نے یزید کی امامت کی بحث کس لیے چھیڑ دی ہے؟ یہ بات خلافِ موضوع ہے اور شرائطِ مناظرہ کے بھی قطعی خلاف ہے اور الحاج مہر شوق محمد نے فرمایا کہ تمہارے پاس اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت کو رد کرنے کے لیے تو کوئی دلیل نہیں ہے اس لیے یزید کے امام ہونے کی بحث شروع کر دی۔ 

اس وقت علامہ تونسوی مدظلہ نے فرمایا کہ یہ اصل موضوع سے بھاگتا ہے تو اس کو بھاگنے دو جس طرف یہ جائے گا میں اس کا پیچھا کروں گا کیونکہ مولوی اسماعیل بے چارے کو اور تو کچھ آتا نہیں تھا پھر شروع کر دیا کہ یزید نے اہلِ بیتؓ کے بچوں کے دُر اتار لیے اور ان کا پانی بند کر دیا ایسا ظالم اہلِ سنت کا امام ہے یہی مولوی اسماعیل کے آخری الفاظ تھے۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل بے چارہ کہتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے گھر میں کوئی بیگانے لوگ جمع نہ ہوتے تھے بلکہ وہ تو سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا عباسؓ و سیدنا زبیرؓ تھے جن سے پردہ نہ تھا۔

ا: مولوی اسماعیل کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ صرف یہی تین حضرات سیدہؓ کے گھر جمع ہوتے تھے، کیونکہ ان کی معتبر کتاب حق الیقین کے صفحہ 140 پر ہے کہ سیدنا زبیرؓ، سیدنا مقدادؓ اور صحابہ کی ایک جماعت وہاں آ کر مشورہ کرتے تھے۔ تو ہم مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تمام حضرات سیدنا زبیرؓ و سیدنا مقدادؓ وغیرہ صحابہ کی جماعت سب کے سب حضرت سیدہؓ کے محارم تھے جن سے سیدہؓ کا پردہ نہ تھا اور یہ سب اسی کمرے میں ہوتے تھے جس میں سیدہؓ ہوتی تھیں؟  

ب: حق الیقین صفحہ 140 پر سیدہؓ کے الفاظ موجود ہیں: 

شما دیگر باین خانہ میائید ایشان رفتند با ابوبکر بیعت کردند۔

ترجمہ: تم پھر اس گھر میں نہ آنا تو سیدہؓ کے فرمان پر یہ سب لوگ چلے گئے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ 

صفحہ 7 از 9